پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر نوید اکرم چیمہ نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے غیر پیشہ ورانہ اور غیر مہذب رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے میچ کے بعد ہاتھ نہ ملانے اور اختتامی تقریب میں شرکت سے گریز کرنے کو کھیل کی روح کے منافی قرار دیا۔
نوید اکرم چیمہ نے دبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم کا یہ رویہ نہ صرف کھیل کے بنیادی اصولوں بلکہ کھیل کے میدان میں باہمی احترام اور شرافت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان کی مانند تھی، لیکن ٹیم نے اسے عزت نفس اور کھیل کی روح کو مقدم رکھتے ہوئے مناسب جواب دیا۔
میچ ریفری کے رویے پر بھی سوالات
چیمہ نے میچ ریفری کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ٹاس کے دوران دونوں کپتانوں سے ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت غیر معمولی اور غیر مناسب تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ایک ایسی کھیل ہے جو کھلاڑیوں کے درمیان دوستی اور احترام کو فروغ دیتی ہے، لیکن اس طرح کے اقدامات اس جذبے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی کپتان کا اختتامی تقریب سے بائیکاٹ
پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھارتی کھلاڑیوں کے اس غیر مہذب رویے کے جواب میں اختتامی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نوید اکرم چیمہ نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم اپنی خودداری اور کھیل کے بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کوئی ٹیم کھیل کے میدان میں باہمی احترام کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، تو اس کا مناسب جواب دینا ناگزیر ہوجاتا ہے۔
پاکستانی ٹیم کا ردعمل فطری تھا، پیڈ کوچ
پاکستان کے پیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے ردعمل کو درست اور فطری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے کھیل میں ایمانداری، احترام اور ٹیم ورک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اور جب کوئی ٹیم ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کا ردعمل دینا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی ٹیم کے موقف کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنے ردعمل سے ثابت کیا کہ وہ کھیل کے تقدس کو مقدم رکھتے ہیں۔
کھیل کی روح اور باہمی احترام کی اہمیت
نوید اکرم چیمہ نے اپنی گفتگو میں کھیل کی روح کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو قوموں اور کھلاڑیوں کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کے جذبات کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی ٹیم کے رویے نے اس جذبے کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم ہمیشہ سے کھیل کے میدان میں احترام اور پیشہ ورانہ رویے کی مثال رہی ہے، اور وہ اسی روایت کو جاری رکھے گی۔
یہ واقعہ کرکٹ کے میدان میں کھیل کی روح اور پیشہ ورانہ رویے کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے۔ بھارتی ٹیم کا ہاتھ نہ ملانا اور اختتامی تقریب سے غیر حاضری کھیل کے بنیادی اصولوں سے انحراف کی ایک واضح مثال ہے۔ پاکستانی ٹیم کے مینیجر اور کپتان کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی عزت نفس اور کھیل کے تقدس کو ہر حال میں مقدم رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ دونوں ٹیموں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن پاکستانی ٹیم نے اپنے موقف سے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کھیل کے میدان میں غیر مہذب رویوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
اس صورتحال سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں میں میچ ریفری اور دیگر حکام کا کردار غیر جانبدار اور پیشہ ورانہ ہونا چاہیے۔ میچ ریفری کی جانب سے ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت غیر ضروری طور پر تنازع کو ہوا دیتی ہے اور کھیل کے مثبت ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو واضح رہنما اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کھیل کی روح کو برقرار رکھا جا سکے اور کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔





















