ایشیا کپ: اوپننگ بیٹر صائم ایوب کا انوکھا ریکارڈ

صائم ایوب کی ناقص بیٹنگ فارم نے سوشل میڈیا کو تنقید کا مرکز بنا دیا ہے

ایشیا کپ 2025 کی جھلملاتی میدانوں میں پاکستان کی قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز صائم ایوب ایک ایسے کارنامے کا حامل بن گئے جو کرکٹ کی تاریخ میں نایاب اور تنقید کا باعث بھی ہے۔ صرف 23 سالہ صائم نے گروپ اے کے تینوں میچز عمان، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے خلاف میں صفر پر آؤٹ ہونے کی ناقابل فراموش ہیٹ ٹرک مکمل کر لی، جو ان کی بیٹنگ فارم کی موجودہ کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ سلسلہ ان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیریئر میں صفر پر آؤٹ ہونے کی تعداد کو آٹھ تک لے گیا، جو پاکستان کے لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے ریکارڈ کے برابر ہے۔ تاہم، اس ناکامی کی چکا چوند میں ایک چمکدار پہلو یہ ہے کہ صائم باؤلنگ میں ایونٹ کی سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں تیسرے نمبر پر ہیں، جو ان کی ورسٹائل صلاحیتوں کی ایک مثبت جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ دوہرا چہرہ کرکٹ کے شوقینوں کے لیے ایک دلچسپ تضاد ہے، جہاں تنقید اور تعریف کا امتزاج صائم کی کارکردگی کو ایک منفرد کہانی بنا رہا ہے۔

بیٹنگ میں صفر کی ہیٹ ٹرک

ایشیا کپ 2025 کا آغاز پاکستان کے لیے صائم ایوب کی بیٹنگ کی تباہی کی ایک سلسلہ وار داستان سے ہوا، جو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم کی دھول میں لکھی گئی۔ پہلے گروپ میچ میں عمان کے خلاف، صائم نے صرف ایک گیند کا سامنا کیا اور شاہ فیصل کی فُل اور سیدھی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے، جو ایک گولڈن ڈک تھی اور پاکستان کو ابتدائی جھٹکا لگا دیا۔ دوسرے میچ میں بھارت کے خلاف، ہائی وولٹیج مقابلے میں ہارڈک پانڈیا کی پہلی ہی قانونی گیند پر صائم کا کریئر ختم ہوا، جو ایک اور گولڈن ڈک تھی اور انڈین ٹیم کی خوشی کی وجہ بنی۔ تیسرا میچ یو اے ای کے خلاف بھی اسی المناک سلسلے کا حصہ بن گیا، جہاں جنید صدیقی کی گیند پر صائم دو گیندوں میں صفر پر واپس لوٹ آئے۔

یہ تین مسلسل صفر پاکستان کی ٹیم کو ابتدائی مسائل میں مبتلا کر رہے تھے، جہاں اوپننگ جوڑی کی ناکامی نے مڈل آرڈر پر دباؤ بڑھا دیا۔ صائم کی یہ کارکردگی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیریئر میں ان کی آٹھویں صفر ہے، جو شاہد آفریدی کے ریکارڈ سے برابر ہے، مگر یہ مسلسل سلسلہ ان کی فارم کی گہری پریشانی کو اجاگر کرتا ہے۔ خاص طور پر یو اے ای میں، جہاں صائم نے 11 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں پانچ صفر دیکھے ہیں، ان کا اوسط 16.09 اور سٹرائیک ریٹ 122.06 رہا، جو ان کی مجموعی کیریئر سٹرائیک ریٹ 135.54 سے کم ہے۔ 2025 میں یہ ان کی پانچویں صفر ہے، جو بھارتی وکٹ کیپر سانجو سیمسن کے ریکارڈ سے برابر ہے۔

شائقین کی تنقید

صائم ایوب کی ناقص بیٹنگ فارم نے سوشل میڈیا کو تنقید کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں شائقین ان کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر ہیش ٹیگ #SaimAyubDucks ٹرینڈ کر رہے ہیں، جہاں صارفین ان کی اوپننگ کی حیثیت پر شک کر رہے ہیں۔ ایک شائق نے لکھا کہ ‘اوپنر ہونے کے باوجود صائم کی بیٹنگ ایک الارمنگ سگنل ہے، کیا وقت آ گیا ہے کہ فخر زمان کو اوپننگ میں لایا جائے؟’ جبکہ دوسرے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ‘صائم کی صفر کی ہیٹ ٹرک تو یادگار ہے، مگر رنز کیسے آئیں گے؟’ یہ تنقید نہ صرف صائم کی ذاتی جدوجہد بلکہ ٹیم مینجمنٹ کی حکمت عملی پر بھی مرکوز ہے، جہاں ریزوان اور بابر کی جوڑی کو دوبارہ اوپننگ میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

تاہم، یہ تنقید صائم کی مجموعی کارکردگی کو نظر انداز نہیں کرتی، جو ان کی باؤلنگ کی تعریف کے ساتھ مل کر ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ شائقین کا ایک حصہ یہ بھی کہتا ہے کہ ‘صائم کی بیٹنگ کی ناکامی کا دکھ تو ہے، مگر باؤلنگ میں ان کی چمک ٹیم کو سنبھال رہی ہے’۔

باؤلنگ میں چمک

بیٹنگ کی ناکامی کے باوجود، صائم ایوب کی باؤلنگ ایشیا کپ میں ایک روشن ستارہ بن چکی ہے، جو انہیں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں تیسرے نمبر پر پہنچا دیتی ہے۔ عمان کے خلاف انہوں نے اوپنرز کو جلد آؤٹ کر کے دو وکٹیں لیں، بھارت کے خلاف تین وکٹیں لے کر 3/35 کی عمدہ کارکردگی دکھائی—جو واحد پاکستانی بولر تھا جس نے انڈین بلے بازوں کو پریشان کیااور یو اے ای کے خلاف ایک اور وکٹ لے کر مجموعی چھ وکٹوں تک پہنچ گئے۔ یو اے ای کے خلاف، صائم نے محمد زہیب کو آؤٹ کر کے ٹیم کو ابتدائی برتری دی، جو ان کی پارٹ ٹائم اسپن باؤلنگ کی مہارت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں یو اے ای کے جنید صدیقی نو وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں، بھارت کے کلدیپ یادو سات وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر، جبکہ صائم کی چھ وکٹیں انہیں تیسرے درجے پر رکھتی ہیں۔ یہ کارکردگی ان کی ورسٹائل صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے، جہاں باؤلنگ ان کی بیٹنگ کی ناکامیوں کا ازالہ کر رہی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کیریئر میں صفر کا ریکارڈ

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں مسلسل صفر پر آؤٹ ہونے کا بدترین ریکارڈ پاکستان کے مڈل آرڈر بلے باز عبداللہ شفیق کے پاس ہے، جو لگاتار چار اننگز میں صفر پر ناک آؤٹ ہوئے تھے۔ صائم کی تین مسلسل صفر اس ریکارڈ سے ایک قدم دور ہے، جو ان کی موجودہ جدوجہد کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاہد آفریدی کا آٹھ صفر کا ریکارڈ، جو ایک عظیم آل راؤنڈر کا ہے، اب صائم کے لیے ایک نئی بلندی بن چکا ہے، مگر یہ مثبت نہیں۔

صائم ایوب کی ایشیا کپ 2025 میں صفر کی ہیٹ ٹرک ایک ایسا تضاد پیش کرتی ہے جو کرکٹ کی خوبصورتی اور سختی دونوں کو اجاگر کرتی ہے—بیٹنگ میں ناکامی مگر باؤلنگ میں کامیابی۔ یہ کارنامہ، جو شاہد آفریدی کے ریکارڈ سے برابر ہے، صائم کی اوپننگ کی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے، خاص طور پر جب عبداللہ شفیق کا لگاتار چار صفر کا ریکارڈ قریب نظر آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی تنقید ٹیم مینجمنٹ کو مجبور کر سکتی ہے کہ فخر زمان یا بابر-ریزوان جوڑی کو اوپننگ میں آزمائے، جو مڈل آرڈر کو متاثر کر سکتی ہے۔

تاہم، صائم کی چھ وکٹیں جو انہیں ٹاپ وکٹ ٹیکرز میں تیسرے نمبر پر رکھتی ہیں—ان کی آل راؤنڈر صلاحیتوں کی امید دلاتی ہیں، جو بھارت کے خلاف 3/35 جیسی کارکردگی سے واضح ہے۔ 2025 میں پانچ صفر کا ریکارڈ سانجو سیمسن سے برابر ہونا ان کی جدوجہد کی شدت دکھاتا ہے، مگر باؤلنگ کی بہتری ٹیم کے لیے فائدہ مند ہے۔ مستقبل میں، صائم کو بیٹنگ پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ‘بونس وکٹ ٹیکر’ کی حیثیت سے آگے بڑھے—ایک ایسا موڑ جو پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کامیابی کا راز بن سکتا ہے، اگر فارم کی بحالی ہوئی تو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین