بچوں کی معصوم ہنسی اور چمکتے بال نہ صرف ان کی صحت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی حالت کے راز بھی افشا کر سکتے ہیں۔ ایک تازہ تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ بچوں کے بالوں میں موجود کورٹیسول ہارمون جو ‘تناؤ کا ہارمون’ کہلاتا ہےان کے دماغی دباؤ اور رویوں کے مسائل کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ بال، جو بظاہر صرف خوبصورتی کا زیور ہیں، دراصل ایک ایسی کیمیائی کہانی سنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ماہرین کو بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کی راہ دکھا سکتی ہے۔ تاہم، یہ اشارے حتمی تشخیص نہیں بلکہ ایک گہری چھان بین کا نقطہ آغاز ہیں، جو والدین اور معالجین کو بچوں کی بہتری کے لیے نئے راستے دکھاتے ہیں۔
کورٹیسول
کورٹیسول، جو جسم کا قدرتی تناؤ سے لڑنے والا ہارمون ہے، عام طور پر خون، تھوک یا پیشاب کے ذریعے ماپا جاتا ہے، مگر یہ فوری حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ بالوں میں موجود کورٹیسول (ہئر کورٹیسول) ایک منفرد کہانی سناتا ہے یہ پچھلے ہفتوں یا مہینوں کے تناؤ کی ایک جامع تصویر پیش کرتا ہے۔ جب بچہ طویل مدتی دباؤ کا شکار ہوتا ہے چاہے وہ خاندانی مسائل، مالی پریشانیوں، یا سماجی تناؤ کی وجہ سے ہوتو اس کے بالوں میں کورٹیسول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ مقدار نہ صرف ذہنی دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ڈپریشن، گھبراہٹ یا رویوں کے مسائل کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف واٹرلو کی ایک حالیہ تحقیق نے اس راز کو کھولا ہے کہ زیادہ کورٹیسول والے بچوں میں ذہنی صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر وہ پہلے سے کسی دائمی جسمانی بیماری کا شکار ہوں۔
بالوں کی زبان
بالوں کی حالت جیسے کہ ٹوٹنا، جھڑنا، خشکی، یا سیاہ بالوں کی رنگت میں تبدیلی صرف خوبصورتی کا معاملہ نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی تناؤ کی کہانی بھی سنا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، یہ علامات کئی عوامل سے جڑی ہوتی ہیں، جیسے غذائیت کی کمی، ہارمونل عدم توازن، بیماری، یا ماحولیاتی دباؤ۔ مثال کے طور پر، بچوں میں بالوں کا سفید ہونا یا کمزور ہونا نہ صرف جینیاتی بلکہ تناؤ سے متاثرہ زندگی کے اثرات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ علامات براہ راست تناؤ کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر عوامل کے امتزاج سے ہو سکتی ہیں، جو ایک جامع تشخیص کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
بچوں میں ذہنی مسائل کی نشاندہی
یونیورسٹی آف واٹرلو کی تحقیق نے 11 سالہ بچوں پر فوکس کیا، جن کے بالوں میں کورٹیسول کی بلند سطح نے رویوں کے مسائل کو ظاہر کیا۔ ان بچوں میں داخلی مسائل (جیسے ڈپریشن اور اضطراب) اور خارجی مسائل (جیسے جارحیت یا بے چینی) زیادہ نمایاں تھے، خاص طور پر ان میں جو دائمی بیماریوں سے لڑ رہے تھے۔ تحقیق نے یہ بھی دکھایا کہ بچپن میں منفی حالات—جیسے خاندانی تنازعات، مالی مشکلات، گھریلو تشدد، یا والدین کی ذہنی بیماریاں—بالوں میں کورٹیسول کی مقدار کو بڑھاتے ہیں، جو بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ نتائج والدین، اساتذہ، اور معالجین کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ بچوں کی ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
بچپن کے نازک لمحات
بچوں کی زندگی میں تناؤ کے کئی ذرائع ہو سکتے ہیں، جو ان کے بالوں میں کورٹیسول کے ذریعے عیاں ہوتے ہیں۔ خاندانی جھگڑوں سے لے کر اسکول میں دباؤ، غربت، یا والدین کی ذہنی بیماریوں تک، یہ تمام عوامل بچوں کے دماغ پر ایک خاموش بوجھ ڈالتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں معاشی دباؤ اور سماجی توقعات بچوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، یہ تناؤ بچوں کی نفسیاتی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورٹیسول کی یہ پیمائش ایک سادہ اور غیر حملہ آور طریقہ ہے جو بچوں کی طویل مدتی ذہنی صحت کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دیگر تشخیصی طریقوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔
یہ تحقیق بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں ایک نئی جہت کھولتی ہے، جہاں بالوں میں کورٹیسول کی پیمائش ایک سائنسی لیکن سادہ ٹول کے طور پر سامنے آتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں ذہنی صحت کے مسائل کو ابھی تک معاشرتی طور پر مکمل قبول نہیں کیا گیا، یہ طریقہ ایک خاموش لیکن طاقتور طریقہ ہو سکتا ہے جو بچوں کے تناؤ کو سمجھنے میں مدد دے۔ تاہم، کورٹیسول کی پیمائش کو حتمی تشخیص کے طور پر لینے کی بجائے ایک اشارے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ غذائیت، ماحول، اور جینیاتی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق والدین اور اسکولوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ بچوں کے ماحول کو بہتر بنانا—خاندانی ہم آہنگی، غذائی توازن، اور جذباتی مدد ان کی ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان میں، جہاں معاشی دباؤ اور سماجی مسائل عام ہیں، حکومت اور این جی اوز کو ذہنی صحت کے پروگرامز شروع کرنے چاہئیں جو بچوں کے تناؤ کو کم کریں۔ مستقبل میں، اس طرح کی تحقیق کو اسکولوں اور ہسپتالوں میں عملی طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے تاکہ بچوں کی ذہنی صحت کی بروقت نگرانی ہو—ایک ایسی کوشش جو نئی نسل کی فلاح کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔





















