ایران کی وارننگ کے بعد لندن کا دوٹوک مؤقف، برطانوی افواج مکمل الرٹ

برطانیہ نے ایران کو واضح پیغام دے دیا، قومی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکا کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر برطانیہ کو دھمکی دیے جانے کے بعد لندن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج ملک اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔

برطانوی حکومت کا یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈوں کا استعمال کرتا ہے تو ایسے اڈے بھی ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔

برطانوی حکومتی ترجمان نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ برطانیہ کی مسلح افواج ہر قسم کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے اور ملک کو اندرون و بیرون ملک سے ہونے والے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے الرٹ رہتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس ایک مربوط اور تہہ دار فضائی و میزائل دفاعی نظام کے تحت کام کر رہی ہیں، جبکہ یہ تمام اقدامات نیٹو اتحادیوں کے تعاون سے انجام دیے جا رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو امریکا کے ساتھ ایک موجودہ دفاعی معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس کے تحت امریکی افواج کو مخصوص برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

اگرچہ برطانوی حکومت نے اس معاہدے کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث برطانیہ کے حالیہ بیان کو ایک واضح سفارتی اور دفاعی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں تمام فریقوں کے بیانات خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ فوجی تعاون کے معاہدے بھی مزید توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس پیش رفت پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ دیگر نے سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل پر زور دیتے ہوئے کسی بھی ممکنہ تصادم سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور اور دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے سخت بیانات سے خطے میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ ان کے نزدیک موجودہ حالات میں سفارت کاری، براہِ راست رابطے اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات ہی مزید تصادم سے بچنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی تنازعات میں سخت بیانات اور جوابی وارننگز کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

میری رائے میں موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے، جہاں ہر سرکاری بیان اور دفاعی اقدام عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں مصدقہ معلومات، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سفارتی کوششیں ہی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین