پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ صدی کی سب سے بڑی خبر ہے:خرم نواز گنڈاپور

اس معاہدہ کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ اخوت کا رشتہ اور زیادہ مضبوط ہو گا

لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما خرم نواز گنڈا پور نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ کا خیر مقدم کیا ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر ہے۔

امید ہے یہ معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا، اس وقت دنیا کو جس امن اور مفاہمت کی ضرورت ہے وہ طاقت کا توازن قائم ہونے سے ہی حاصل ہوگی اور پاکستان ایک جوہری قوت ہے اور اسکی جوہری صلاحیت علاقائی توازن اور امن کے حوالے سے اہم کردار کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدہ کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ اخوت کا رشتہ اور زیادہ مضبوط ہو گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر تجزیہ نگار اورنگزیب خان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور خرم نواز گنڈا پور کا یہ بیان اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ محض ایک دفاعی شراکت داری نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور امن کے قیام کی جانب ایک سنجیدہ پیش رفت ہے۔ اس معاہدے کا خیرمقدم ایک مثبت سوچ اور دور اندیش قیادت کی علامت ہے، جو یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مسلم ممالک کو یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔

خرم نواز گنڈا پور کا یہ کہنا کہ یہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر ہے، ایک نہایت جرات مندانہ اور حوصلہ افزا بیان ہے۔ دنیا میں اس وقت جیو پولیٹیکل صورتِ حال پیچیدہ ہے، بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات اور توانائی کے بحران جیسے مسائل نے عالمی نظام کو غیر یقینی بنا رکھا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے قریب آنا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے خوش آئند ہے۔ یہ معاہدہ عالمِ اسلام کے اتحاد کے خواب کو حقیقت کا رنگ دے سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک امتِ مسلمہ میں کلیدی کردار رکھتے ہیں۔ سعودی عرب مذہبی اور روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جس کی عسکری صلاحیت خطے میں توازن پیدا کرنے کی ضامن ہے۔

یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی تعاون کو بڑھائے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور سیکیورٹی تعلقات کو بھی مضبوط کرے گا۔ جدید دنیا میں دفاعی تعلقات صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ مشقیں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمتِ عملی بھی شامل ہوتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی دفاعی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرے اور سعودی عرب جیسے اہم شراکت دار کے ساتھ مل کر خطے میں امن اور استحکام کے لیے عملی کردار ادا کرے۔

خرم نواز گنڈا پور نے بالکل درست کہا کہ امن صرف طاقت کے توازن سے ہی قائم رہ سکتا ہے۔ اگر کسی خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے تو جنگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت پہلے ہی جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور اب سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون اس توازن کو مزید مستحکم کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور اس سے برادرانہ تعلقات میں نئی روح پیدا ہو گی۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ معاہدہ امتِ مسلمہ کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اگر دیگر اسلامی ممالک بھی اسی طرز پر تعاون کو آگے بڑھائیں تو دنیا میں مسلمانوں کی اجتماعی آواز مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب امتِ مسلمہ کو انتشار اور تقسیم کا سامنا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کا یہ قدم امید کی نئی کرن ہے۔

مجموعی طور پر یہ معاہدہ پاکستان کے دفاعی، سفارتی اور معاشی مفادات کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی پوزیشن مضبوط ہوگی بلکہ خطے میں امن و استحکام کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ یہ معاہدہ مستقبل میں دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین