پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے سے خطے میں ہلچل، بھارت مشکلات کا شکار

ایک پر حملہ، سب پر حملہ" کا تصور، نیٹو کا آرٹیکل 5 ہے جو نیٹو اتحاد کی روح سمجھا جاتا ہے

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک ایسا دفاعی معاہدہ سامنے آیا ہے جو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کو ہلا کر رکھ دے گا، جہاں ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یہ "اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ” (SMDA) گزشتہ روز ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان دستخط ہوا، جس نے بھارت کو فوری طور پر پریشان کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس پیشرفت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی رپورٹس کا بغور جائزہ لے رہی ہے، جو نئی دہلی کی اسٹریٹیجک تشویش کی ایک واضح جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی تاریخی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے، خاص طور پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں۔

بھارتی ردعمل

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت اس دفاعی معاہدے کی پیشرفت سے پہلے ہی مکمل طور پر آگاہ تھی اور اب اس کی تفصیلات کا گہرا تجزیہ کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی دہلی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی، جو ایک محتاط مگر مضبوط موقف کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسوال نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ خطے اور عالمی سطح پر استحکام پر کیا اثرات مرتب کرے گا، اس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جو بھارت کی اسٹریٹیجک تشویش کو عیاں کرتا ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی اور دفاعی شراکت داری کے تناظر میں بھی اہم ہے، جہاں نئی دہلی کو اب ایک نئی توازن کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین اور تجزیہ کاروں کا ردعمل بھی شدید ہے، جہاں کئی نے اسے پاکستان کی طرف سے "ایٹمی چھتری” حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جو بھارت کے لیے ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ ایک بھارتی تجزیہ کار نے لکھا کہ "یہ معاہدہ سعودی عرب کی امریکہ سے بڑھتی ہوئی دوری اور پاکستان کی طرف مائل ہونے کی علامت ہے، جو ہمیں اپنے اتحادیوں کو مزید مضبوط کرنے پر مجبور کر دے گا۔”

معاہدے کی تفصیلات

گزشتہ روز ریاض میں ہونے والے اس تاریخی معاہدے میں پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے گہرے اسٹریٹیجک تعلقات کو ایک نئی شکل دی ہے۔ اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA) کی شقوں کے مطابق، اگر کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا، جو ایک NATO طرز کا آرٹیکل 5 کی مانند ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو سعودی عرب کی حالیہ علاقائی تشویشوں—جیسے کہ قطر پر اسرائیلی حملےکے تناظر میں اہم ہے۔

معاہدہ دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو فروغ دینے کا مقصد رکھتا ہے، جس میں پاکستان کی ایٹمی طاقت اور سعودی عرب کی معاشی وسائل کا امتزاج شامل ہے۔ یہ دستخط سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کے دوران ہوئے، جہاں دونوں رہنماؤں نے تاریخی شراکت داری اور مشترکہ مفادات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، جو پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ امریکہ کی کمزور سیکورٹی ضمانتوں کے تناظر میں ایک متبادل ڈھال ہے، جبکہ پاکستان کو یہ سعودی سرمایہ کاری اور دفاعی مدد کی صورت میں فائدہ پہنچائے گا۔

خطے میں ہلچل

یہ معاہدہ خطے میں نئی ہلچل مچا رہا ہے، خاص طور پر اسرائیلی جارحیت کے حالیہ واقعات—جیسے کہ قطر پر حملہ—کے بعد، جو سعودی عرب کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ معاہدہ سعودی عرب کی امریکہ سے دوری اور پاکستان کی طرف مائل ہونے کی علامت ہے، جو علاقائی جغرافیائی سیاست کو تبدیل کر دے گا۔ بھارت، جو سعودی عرب کے ساتھ معاشی طور پر مضبوط رشتہ رکھتا ہے، اب اسے اپنے دفاعی اتحادیوں جیسے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مزید قریب ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بحثوں میں، ایک صارف نے لکھا کہ "یہ معاہدہ پاکستان-سعودی اتحاد کو NATO کی طرح بنا دے گا، جو بھارت کے لیے برا خبر ہے”، جبکہ دوسرے نے کہا کہ "سعودی عرب کی یہ پیش رفت ایران اور اسرائیل دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے”۔ یہ ردعمل معاہدے کی اہمیت کو دوبالا کر رہے ہیں، جو قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کو بھی اس اتحاد میں شامل کرنے کی باتیں چھیڑ رہے ہیں۔

عالمی تناظر

عالمی سطح پر، یہ معاہدہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں 40,000 سے 50,000 فوجی موجودگی کے باوجود سعودی اعتماد کو کمزور کر رہا ہے، جہاں سعودی عرب اب پاکستان کی ایٹمی طاقت کو ایک متبادل دیکھ رہا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ معاہدہ دہائیوں پرانی سیکورٹی شراکت داری کو مزید گہرا کرتا ہے، جو علاقائی تناؤ میں ایک نئی ڈائنامک پیدا کرے گا۔ بھارت کی طرف سے یہ ردعمل سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاشی رشتوں کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے، مگر دفاعی سطح پر یہ ایک نئی چیلنجنگ صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کا یہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں ایک سنگ میل ہے، جو سعودی عرب کی امریکہ سے بڑھتی ہوئی دوری اور پاکستان کی طرف مائل ہونے کی واضح علامت ہے۔ شق کہ ایک حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا، سعودی عرب کو پاکستان کی ایٹمی طاقت کی چھتری فراہم کرتی ہے، جو حالیہ اسرائیلی حملوں—جیسے قطر پر—کے بعد علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ بھارت کا محتاط ردعمل—جہاں رندھیر جیسوال نے آگاہی کا دعویٰ کیا—اسٹریٹیجک تشویش کو چھپاتا ہے، کیونکہ یہ معاہدہ پاکستان کو سعودی مدد سے مضبوط کرتا ہے، جو کشمیر یا سرحدی تناؤ میں بھارت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

تاہم، سعودی عرب کی بھارت کے ساتھ معاشی شراکت داری—جو تیل کی تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی ہے—اسے دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر مجبور کرے گی، جو فوری تنازع کا خطرہ کم کرتی ہے۔ عالمی طور پر، یہ معاہدہ امریکہ کی خلیجی موجودگی کو چیلنج کرتا ہے اور ایران، اسرائیل اور دیگر کو نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کرے گا۔ پاکستان کے لیے، یہ معاشی ریلیف اور دفاعی گہرائی کا ذریعہ ہے، مگر خطے میں توازن کی تبدیلی طویل مدتی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے—ایک ایسا موڑ جو اتحاد کی طاقت کو آزمائے گا، اگر سفارتی احتیاط برقرار رہی تو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین