لاہور:صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کریسنٹ کالج شادمان میں منعقدہ ایک فکری نشست میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن ایک ماڈرن بک آف سائنسز ہے۔اسلام نے انسانیت کو امن کے تصور سے آشنا کیا، تاریخ کو نہ بدلا جا سکتا ہے اور نہ جھٹلایا جا سکتا ہے۔ امت کے نوجوانوں کو لادینیت اور دہریت کے فتنہ سے بچانا ہو گا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے فکری انتشار پھیلایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے غیر محسوس انداز میں سوشل ڈسکشنز کا آغازمذہب پر تنقید سے ہوتا ہے اور پھر بحث خدا کے وجود کی نفی تک پہنچا دی جاتی ہے۔ ایمان و کردار کی حفاظت علمائے کرام، اساتذہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تصوف کے خلاف بھی نیم خواندہ ذہن زہر اگلنے میں مصروف ہیں جبکہ تصوف تزکیہ نفس ،روحانی بالیدگی اور باطنی تطہیر کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کاواحد جواب کتاب سے دوستی ہے۔ دنیا کا کوئی الہامی یا غیر الہامی مذہب ایسا نہیں جس میں خدا کے وجود سے انکار کیا گیا ہو۔
لادینیت کے فتنے کو 21ویں صدی میں سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے قوت ملی۔ اسلام نے ابتدائی صدیوں میں ترقی اور انسانی خدمت کے معیار قائم کئے۔نشاۃ ثانیہ کے لئے امت کو علم و تحقیق سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو بحال کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ من گھڑت روایات اور مطالعہ کے فقدان کی وجہ سے دین کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے وجود سے نفی کا مطلب خود کوکھلی آنکھوں کے ساتھ دھوکہ دینا ہے۔ انسانی جسم میں ایک جین ایساہے جو انسان کو خدا کی تلاش کی تحریک دیتا ہے۔ اسلام ایک جدید سائنٹیفک ضابطہ حیات ہے، جسے قرآن نے کھول کھول کر بیان کیا۔ ایک سازش کے تحت امت مسلمہ کے نوجوانوں کو قرآن و حدیث سے بیگانہ کیا جارہا ہے۔ آج اسلام پر انتہا پسندی کا الزام لگایا جاتا ہے حالانکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانیت کو امن کے تصور سے آشنا کیا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد کاشف جان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ایک ایسے موضوع پر روشنی ڈالی ہے جو آج کے معاشرتی اور فکری تناظر میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا خطاب محض مذہبی وعظ نہیں بلکہ ایک فکری منشور کی حیثیت رکھتا ہے جو نوجوان نسل کو فکری انتشار سے نکالنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ سینئر صحافی کی حیثیت سے اس پر مثبت تجزیہ کچھ یوں پیش کیا جا سکتا ہے:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا یہ پیغام وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قرآن کو صرف ایک مذہبی کتاب کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے "ماڈرن بک آف سائنسز” قرار دے کر یہ واضح کیا کہ اسلام جامد مذہب نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک ضابطہ حیات ہے۔ آج جب سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو لادینیت اور دہریت کے فتنوں میں مبتلا کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں، یہ پیغام نوجوانوں کے ذہنوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے درست نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا پر مذہب پر تنقید کے نام پر بحث شروع ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ خدا کے وجود کی نفی تک جا پہنچتی ہے۔ یہ بات نہایت اہم ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر نوجوان اپنے عقیدے سے دور ہوتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ ایمان اور کردار کی حفاظت علما، اساتذہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہمارے تعلیمی اور خاندانی نظام کے لیے ایک عملی رہنمائی ہے۔
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے تصوف کو تزکیہ نفس اور باطنی تربیت کا نام دے کر اس پر ہونے والی تنقید کا علمی جواب دیا۔ یہ نکتہ بھی قابلِ تحسین ہے کہ دین کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا واحد جواب "کتاب سے دوستی” بتایا گیا۔ یہ پیغام نوجوانوں کو تحقیق، مطالعہ اور علمی سرگرمیوں کی طرف مائل کرتا ہے، جو آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
انہوں نے امت مسلمہ کو نشاۃ ثانیہ کے لیے علم و تحقیق سے تعلق بحال کرنے کا جو پیغام دیا، وہ ترقی کا ایک واضح لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔ آج امت کی زوال پذیری کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے علم اور ریسرچ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ خدا کے وجود سے انکار کا مطلب خود کو دھوکہ دینا ہے اور یہ کہ انسانی جسم میں ایک جین خدا کی تلاش کی تحریک دیتا ہے، نہ صرف ایک فکری بلکہ سائنسی بنیاد پر قائم استدلال ہے جو نوجوانوں کے ذہنوں کو قائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بطور صحافی یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کا خطاب اسلام کے دفاع میں محض جذباتی نہیں بلکہ عقلی اور علمی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے اسلام پر لگائے جانے والے انتہا پسندی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے اسلام کو امن اور رواداری کا مذہب قرار دیا، جو کہ درست ہے اور جس کی گواہی اسلام کی ابتدائی صدیوں میں قائم کردہ ترقی و خدمت کے ادارے دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ پیغام نوجوانوں کو ایک متوازن، مثبت اور علمی راستہ دکھاتا ہے۔ اس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو ایک فکری انقلاب برپا کرسکتے ہیں، بشرطیکہ ہم اسے اپنی پالیسیوں، تعلیمی نصاب اور معاشرتی رویوں کا حصہ بنائیں۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا یہ خطاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کو درست تناظر میں پیش کرنے کے لیے علم، تحقیق اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو گمراہی سے بچایا جا سکے اور انہیں ایک روشن فکری سمت عطا کی جا سکے۔





















