نیویارک: چین، ایران، پاکستان اور روس کے وزرائے خارجہ کے چوتھے چار فریقی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اجلاس گزشتہ روز روس کی دعوت پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہوا جس میں چاروں فریقین نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، افغان ریاست کے استحکام اور عالمی امن کے لیے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ یہ اجلاس 25 ستمبر 2025 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سیشن کے سائیڈ لائنز پر منعقد ہوا، جس کی صدارت روس نے کی۔ چاروں ممالک چین، ایران، پاکستان اور روس نے افغانستان کو ایک آزاد، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم دہرایا۔ یہ چوتھا چار فریقی اجلاس تھا، جو پہلے دوشنبے (تاجکستان) میں 12 ستمبر 2025 کو خصوصی نمائندوں کی سطح پر منعقد ہو چکے تھے۔
اجلاس کا پس منظر اور شرکت
چار فریقی اجلاس کا یہ سلسلہ افغانستان کی صورتحال کو حل کرنے کے لیے 2021 سے جاری ہے، جو طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد شروع ہوا۔ اس اجلاس میں چین کی طرف سے وزیر خارجہ وانگ یی، ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستان کی طرف سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اور روس کی طرف سے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شرکت کی۔ اجلاس کا مرکزی موضوع افغانستان کی سلامتی، انسانی بحران، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون تھا۔ چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ طور پر ایک جامع اعلامیہ تیار کیا، جو عالمی امن کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔ یہ اجلاس خاص طور پر اس وقت منعقد ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں دوبارہ فوجی اڈوں کی تجویز نے علاقائی تشویش بڑھا دی تھی، جس پر چاروں ممالک نے شدید مخالفت کا اظہار کیا۔
مشترکہ اعلامیہ کی کلیدی نکات
اعلامیے کے مطابق فریقین نے ایک آزاد، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر افغانستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ فریقین نے دہشتگردی، جنگ اور منشیات سے پاک افغانستان کی ضرورت پر زور دیا جب کہ اجلاس میں افغان حکام پر افغان سرزمین پر دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ چاروں ممالک نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ "effective, concrete and verifiable actions” اٹھائیں، دہشتگرد گروہوں جیسے ISIS، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ETIM)، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، جیش الادل، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور ماجد بریگیڈ کو ختم کریں، اور ان کی بھرتی، فنڈ ریزنگ، ہتھیاروں تک رسائی اور غیر ملکی دہشتگردوں کے ساتھ تعاون کو روکیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر علاقائی اقدامات کی حمایت کی، افغانستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، افغانستان کے ساتھ اقتصادی، تجارتی تعاون اور علاقائی روابط کو وسعت دینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ فریقین نے افغانستان کے لیے ہنگامی انسانی امداد جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ چاروں ممالک نے ایران اور پاکستان کی طرف سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی تعریف کی اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داری اور بوجھ کی تقسیم کے اصول کے تحت مالی اور دیگر امداد فراہم کریں تاکہ مہاجرین کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق افغانستان میں دہشتگردی سے متعلق سلامتی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فریقین نے افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے، لڑکیوں کو تعلیم، کام اور معاشی مواقع تک رسائی دینے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ، چاروں ممالک نے افغانستان میں دوبارہ فوجی اڈوں کی تعمیر کی شدید مخالفت کی، خاص طور پر ان ممالک کی طرف سے جو افغانستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں، اور اسے علاقائی امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اعلامیے میں موسم خانہ، افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگز، اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے علاقائی فورمز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
علاقائی اور عالمی تناظر
یہ اجلاس افغانستان کی صورتحال کو حل کرنے کے لیے چاروں ممالک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جو 2024 میں تیسرے اجلاس (ایران کی دعوت پر) کے بعد منعقد ہوا۔ پاکستان کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے OIC کانٹیکٹ گروپ میں بھی اسی طرح کے مطالبات اٹھائے تھے۔ یہ مشترکہ موقف نہ صرف طالبان حکومت پر دباؤ بڑھاتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی متحرک کرتا ہے کہ افغانستان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
یہ چار فریقی اجلاس اور اس کا مشترکہ اعلامیہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے لیے ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت ہے، جو علاقائی تعاون کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے اور تنازعات کے بجائے امن و استحکام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سب سے پہلے، یہ اعلان افغانستان کو ایک آزاد، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعادہ کرتا ہے، جو طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری میں شمولیت کی طرف راغب کرنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔ دہشتگردی، جنگ اور منشیات سے پاک افغانستان کی ضرورت پر زور دینا نہ صرف پاکستان، ایران، چین اور روس کی سلامتی کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مشترکہ حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر، دہشتگرد گروہوں جیسے TTP، BLA اور ISIS کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرنا، جو علاقائی سرحدوں کو متاثر کر رہے ہیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ چاروں ممالک اپنے قومی مفادات کو علاقائی اتحاد کی شکل دے رہے ہیں، جو تنازعات کو کم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔
دوسرا، معاشی اور انسانی امداد پر توجہ اس اجلاس کی سب سے مثبت جہت ہے۔ افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانے، تجارتی روابط کو وسعت دینے اور علاقائی کنیکٹیویٹی کو فروغ دینے کی حمایت سے نہ صرف افغان عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستان، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک کو بھی معاشی فوائد پہنچیں گے۔ ہنگامی انسانی امداد اور مہاجرین کی واپسی کی سہولت کا مطالبہ، جہاں ایران اور پاکستان کی میزبانی کی تعریف کی گئی، بین الاقوامی ذمہ داری کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ اقدام لاکھوں افغان مہاجرین کی مشکلات کو کم کرے گا اور علاقائی استحکام کو یقینی بنائے گا، جو غربت اور بے روزگاری کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ لڑکیوں کی تعلیم، کام اور معاشی مواقع تک رسائی کا زور دینا انسانی حقوق کی حفاظت کا ایک مثبت اشارہ ہے، جو طالبان کو اصلاح کی طرف راغب کر سکتا ہے اور عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
تیسرا، یہ اجلاس عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابی کی علامت ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کا کردار، جو TTP جیسے گروہوں سے براہ راست متاثر ہے، اس مشترکہ موقف کو مضبوط بناتا ہے۔ فوجی اڈوں کی تعمیر کی مخالفت، جو امریکی تجاویز کا جواب ہے، علاقائی خودمختاری کی حفاظت کرتی ہے اور چاروں ممالک کو ایک متحد آواز دیتی ہے۔ یہ نہ صرف امریکی مداخلت کو روکتا ہے بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز کو فعال بناتا ہے، جو مستقبل میں مزید تعاون کی بنیاد رکھے گا۔
آخر میں، یہ اعلان امن کی ایک نئی راہ ہموار کرتا ہے جو تنازعات کے بجائے تعاون پر مبنی ہے۔ چار فریقی فورم کی مسلسل میٹنگز سے ثابت ہوتا ہے کہ پڑوسی ممالک مل کر افغانستان کی بحالی کر سکتے ہیں، جو نہ صرف علاقائی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کو تقویت بھی دے گی۔ یہ قدم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سفارت کاری اور مشترکہ عزم سے ہر چیلنج کا حل ممکن ہے، اور افغانستان کی خوشحالی سے پورا خطہ مستفید ہوگا۔





















