واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا میں سامنے آنے پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کے عسکری ذخائر سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کے بعد متعلقہ اداروں کو معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس، جن میں امریکی میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور دیگر اہم عسکری ذخائر میں کمی کا دعویٰ کیا گیا، وائٹ ہاؤس میں تشویش کا باعث بنی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی میڈیا میں متعدد رپورٹس سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران امریکا کے بعض اہم ہتھیاروں کے ذخائر ماضی کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔
رپورٹس میں خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، فضائی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر حساس جنگی سازوسامان کی دستیابی پر سوالات اٹھائے گئے۔ تاہم امریکی انتظامیہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ امریکا کے پاس اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے مطلوبہ صلاحیت اور وسائل موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نجی ملاقاتوں میں ان رپورٹس پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی عسکری ذخائر سے متعلق ایسی اطلاعات ایران کو حوصلہ دے سکتی ہیں اور یہ تاثر پیدا کر سکتی ہیں کہ واشنگٹن طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بھی مؤقف ہے کہ حساس فوجی معلومات کا افشا ایران کے ساتھ جاری سفارتی اور ممکنہ مذاکراتی عمل میں امریکا کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن تہران پر اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ پینٹاگون اور دیگر متعلقہ اداروں سے عسکری ذخائر سے متعلق معلومات میڈیا تک کیسے پہنچیں اور مستقبل میں ایسے حساس انکشافات کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اس خبر کا بنیادی ماخذ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور امریکی حکام کے حوالے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے اگرچہ حساس معلومات کے افشا پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم اسلحہ ذخائر کی حقیقی صورتحال سے متعلق مختلف سرکاری اور غیر سرکاری مؤقف سامنے آ رہے ہیں، اس لیے مزید سرکاری تفصیلات کا انتظار ضروری ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کے بعد مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے امریکی قومی سلامتی کا اہم معاملہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے کہا کہ دفاعی معاملات سے متعلق معلومات کے افشا کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی ذخائر اور عسکری صلاحیتوں سے متعلق معلومات انتہائی حساس نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسی معلومات قبل از وقت منظرِ عام پر آئیں تو وہ نہ صرف فوجی منصوبہ بندی بلکہ سفارتی مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، تاہم ان رپورٹس کی مکمل تصدیق متعلقہ سرکاری تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
جنگی حالات میں معلومات کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال قومی سلامتی کا اہم تقاضا ہوتا ہے۔ حساس عسکری معلومات کے افشا سے متعلق ہر دعوے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
میری رائے میں اس معاملے کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ خبر کا بڑا حصہ میڈیا رپورٹس اور حکام کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ اگر تحقیقات ہوتی ہیں تو ان کے نتائج ہی واضح کریں گے کہ معلومات کا اخراج کیسے ہوا اور اس کے امریکی دفاعی اور سفارتی حکمت عملی پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔





















