پی سی بی نے قومی کھلاڑیوں کے این او سی معطل کردیے، چند بڑے نام بھی متاثر

قومی ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم نے پہلی بار بگ بیش لیگ کے سیزن 15 میں کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا

لاہور/دبئی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے غیر ملکی ٹی 20 لیگوں میں شرکت کے لیے قومی کھلاڑیوں کے جاری کردہ این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے، جس سے بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان سمیت کئی اسٹار کھلاڑی براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے محض ایک روز بعد کیا گیا، جو قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر پی سی بی کی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے۔ ESPNcricinfo کی رپورٹ کے مطابق، پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) سید سمیر احمد نے ایک سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تمام این او سی کو "ہولڈ” پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی، البتہ رپورٹس میں اسے کارکردگی پر مبنی نظام سے جوڑا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پی سی بی نے غیر ملکی لیگوں کے لیے جاری کیے گئے این او سی کو ہولڈ پر رکھ دیا گیا ہے، جو قومی کھلاڑیوں کی غیر ملکی فرنچائزوں کے ساتھ معاہدوں کو شدید خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کے ٹاپ کرکٹرز، جن میں بیٹسمین، بولرز اور آل رااؤنڈرز شامل ہیں، براہ راست متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کی آمدنی اور بین الاقوامی نمائش کا ایک بڑا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ پی سی بی نے بابر اعظم، شاہین آفریدی، حارث رؤف، محمد رضوان، شاداب خان اور فہیم اشرف کو آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کے لیے این او سی جاری کیا تھا، جو دسمبر 2025 میں شروع ہونے والی ہے۔ اس کے علاوہ، 18 پاکستانی کھلاڑیوں – جن میں سائم ایوب، فخر زمان اور نسیم شاہ شامل ہیں – کو متحدہ عرب امارات کی آئی ایل ٹی 20 لیگ کے آکشن لسٹ میں بھی شامل کیا گیا تھا، جو 1 اکتوبر 2025 کو ہونے والا ہے۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم نے پہلی بار بگ بیش لیگ کے سیزن 15 میں کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا، جو ان کی آسٹریلوی مارکیٹ میں انٹری کا سنگ میل سمجھا جا رہا تھا۔ بابر اعظم کا آسٹریلوی بگ بیش لیگ کی فرنچائز ’سڈنی سکسرز‘ کے ساتھ مکمل سیزن کا معاہدہ ہوا تھا، جس کی تصدیق فرنچائز نے خود کی تھی اور اس کے تحت بابر کو پلیٹینم کیٹیگری میں تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 2.35 کروڑ روپے) کی آمدنی متوقع تھی۔ اب اس معطلی کی وجہ سے بابر کی یہ شمولیت مشکوک ہو گئی ہے، جو نہ صرف ان کی ذاتی مالیات بلکہ ان کی ٹی 20 فارمیٹ میں واپسی کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

اسی طرح، محمد رضوان کا میلبورن رینگیڈز، شاداب خان کا سڈنی تھنڈر، حارث رؤف، شاہین آفریدی اور حسن علی کا ایڈیلیڈ سٹریکرز جیسے معاہدے بھی خطرے میں ہیں، پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش میں شامل کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے والے تھے۔ پی سی بی کی پالیسی کے مطابق، مرکزی معاہدہ شدہ کھلاڑی سالانہ صرف دو غیر ملکی ٹی 20 لیگوں میں شرکت کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ قومی شیڈول سے ٹکرائی نہ کھائیں۔ تاہم، اکتوبر 2024 سے مئی 2025 تک کا پاکستان کا ٹھیک شیڈول – جس میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 میچز شامل ہیں  ورک لوڈ مینجمنٹ کی وجہ سے این او سی کی درخواستوں کو مسترد کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ "پی سی بی کے چیئرمین کی منظوری سے، تمام کھلاڑیوں کے لیے لیگوں اور دیگر غیر ملکی ٹورنامنٹس میں شرکت کے حوالے سے این او سی کو مزید حکم تک ہولڈ پر رکھا جاتا ہے۔” یہ اقدام ایشیا کپ فائنل میں بھارت کے خلاف دل ہلا دینے والی ہار – جہاں پاکستان نے 5 رنز سے میچ ہارا – کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جو پی سی بی کی جانب سے ٹیم کی تیاری اور کارکردگی پر نظرثانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کرکٹ پاکستان اور انسائڈ اسپورٹ کی رپورٹس کے مطابق، یہ معطلی عارضی ہے، لیکن اس کی حتمی حیثیت قومی ٹیم کی آنے والی سیریزوں – جیسے جنوبی افریقہ کے خلاف – کی کارکردگی پر منحصر ہوگی۔

کھلاڑیوں کے حلقوں میں اس فیصلے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے لیے جو ٹی 20 فارمیٹ میں قومی ٹیم سے باہر ہو چکے ہیں، جیسے بابر اعظم اور محمد رضوان، جن کے لیے غیر ملکی لیگز قومی واپسی کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ تھیں۔ سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ورک لوڈ مینجمنٹ اور قومی ترجیحات کو یقینی بنانے کا ہے، جو طویل مدتی طور پر ٹیم کی فٹنس کو بہتر بنائے گا۔ تاہم، کئی فینز نے سوشل میڈیا پر اسے "سزا” قرار دیتے ہوئے پی سی بی پر تنقید کی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا یہ اقدام، اگرچہ فوری طور پر کھلاڑیوں اور فینز کے لیے تکلیف دہ لگتا ہے، کرکٹ میں پاکستان کی مجموعی ترقی اور پائیدار کامیابی کی جانب ایک مثبت اور ذمہ دارانہ قدم ہے، جو ورک لوڈ مینجمنٹ، کارکردگی کی بہتری اور قومی مفادات کو ترجیح دینے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایشیا کپ فائنل کی حالیہ شکست – جو ایک قریبی مقابلہ تھا – نے پی سی بی کو یہ احساس دلایا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور تیاری کو مزید سخت کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب پاکستان کا آنے والا شیڈول – جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف سیریزز – انتہائی شدید ہے۔ اس معطلی سے بابر اعظم، شاہین آفریدی اور محمد رضوان جیسے اسٹارز کو غیر ملکی لیگوں کی بجائے قومی ٹریننگ اور میچز پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا، جو ان کی فارم کو بحال کرنے اور ٹیم میں واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔

سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ فیصلہ ورک لوڈ مینجمنٹ کی پالیسی کو مضبوط کرتا ہے، جو انجریز اور برن آؤٹ کو روکے گا – ایک مسئلہ جو حالیہ برسوں میں پاکستان کی ٹیم کو ستائے رہا ہے۔ مثال کے طور پر، شاہین آفریدی کی بار بار انجریز نے ٹیم کو کمزور کیا ہے، اور اب این او سی کی معطلی انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا موقع دے گی، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، کارکردگی پر مبنی نظام کا تعارف – جیسا کہ رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے – کھلاڑیوں کو مزید محنت کرنے کی ترغیب دے گا، جو قومی ٹیم کی مجموعی معیار کو بلند کرے گا اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دے گا، جیسے سائم ایوب یا نسیم شاہ، جو آئی ایل ٹی 20 جیسے پلیٹ فارمز پر ابھر سکتے ہیں۔

معاشی طور پر، اگرچہ بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں کو بگ بیش سے ممکنہ 2.35 کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے، یہ قدم پی سی بی کو مرکزی معاہدوں کو مزید پرکشش بنانے کا موقع دے گا، جو کھلاڑیوں کی آمدنی کو مستحکم کرے گا اور غیر ملکی لیگوں پر انحصار کم کرے گا۔ طویل مدتی فوائد میں، یہ اقدام پاکستان کی کرکٹ کو خود انحصاری کی طرف لے جائے گا، جہاں قومی ٹورنامنٹس جیسے پاکستان پریمیئر لیگ (پی ایس ایل) کو مزید فروغ ملے گا، جو مقامی ٹیلنٹ کی نشوونما اور معاشی ترقی کا ذریعہ بنے گا۔ فینز کی تنقید کے باوجود، یہ فیصلہ پی سی بی کی قیادت کو ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ کرکٹ کو قومی فخر کی حیثیت سے دیکھا جائے، نہ کہ ذاتی فائدے کی۔

مجموعی طور پر، یہ معطلی ایک مشکل لیکن ضروری قدم ہے جو پاکستان کرکٹ کو بحال کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر اسے کارکردگی کی بہتری سے جوڑ دیا جائے تو یہ نہ صرف کھلاڑیوں کی صحت اور فارم کو بہتر بنائے گا بلکہ قومی ٹیم کو عالمی سطح پر دوبارہ چیلنجر بننے کا موقع دے گاایک ایسا منظر نامہ جہاں بابر اور شاہین جیسے اسٹارز قومی جرسی میں چمکیں گے، اور پاکستان کرکٹ کی سنہری تاریخ کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین