راولپنڈی: راولپنڈی شہر میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 17 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جو موسلا دھار بارشوں اور ناقص صفائی کی صورتحال کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ضلعی ہیلتھ آفس اور نجی اخبار کی رپورٹس کے مطابق، یہ اضافہ گزشتہ ہفتے کے 41 نئے کیسز (28 ستمبر) اور 16 نئے کیسز (29 ستمبر) کے بعد سامنے آیا ہے، جو شہر کی مختلف علاقوں میں لاروا کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی بارشوں کے بعد جام شدہ پانی اور نالوں کی صفائی کی کمی اس وبا کی بنیادی وجہ ہے، اور عوام کو فوری احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، راولپنڈی میں ڈینگی کے کل 10816 مریضوں کی سکریننگ کی گئی اور 656 ڈینگی کنفرم مریض آئے۔ رواں سال اب تک ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی جبکہ ڈینگی کے 61 کنفرم مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ضلعی ہسپتالوں – ہولی فیملی ہسپتال، بے نظیر بھٹو ہسپتال اور راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال – میں داخل مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہولی فیملی ہسپتال میں 59، بے نظیر بھٹو ہسپتال میں 4 اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں 5 مریض زیر علاج ہیں۔ صحت کے شعبے کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ مریض جہلم، چکوال، اٹک، مرری اور اسلام آباد سے بھی ریفر کیے جا رہے ہیں، جو علاقائی سطح پر وبا کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ ڈینگی سرویلنس ٹیموں کی تعداد 1499 ہے، جو شہر بھر میں فعال ہیں۔ اب تک 53 لاکھ 16 ہزار 568 گھروں کی چیکنگ کی گئی اور گھروں میں 1 لاکھ 57 ہزار 73 گھر ڈینگی پازٹیو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسپاٹ چیکنگ کے تحت 14 لاکھ 26 ہزار 111 اسپاٹ چیک کیے گئے اور 21 ہزار 021 اسپاٹ پازٹیو رہے۔ 1 لاکھ 78 ہزار 094 مقامات سے لاروا ملا جسے تلف کردیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے جمع کیے گئے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے 1.17 ملین اسپاٹ انسپکشنز اور 106,062 پازیٹو سائٹس سے ملتے جلتے ہیں، جو مہم کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے، جہاں 4265 ایف آئی آرز درج کی گئیں، 1813 بلڈنگ سربمہر کی گئیں اور 3415 چالان جاری کیے گئے۔ ڈینگی لاروا کی موجودگی پر 1 کروڑ 5 لاکھ 56 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ ماہ کے 3,300 سے زائد ایف آئی آرز اور 2,441 سیلنگز کی توسیع ہیں، جو پنجاب بھر میں 176 سے زائد کیسز کی روک تھام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ایک نجی لیبارٹری میں لاروا ملنے پر بھی ایف آئی آر درج کی گئی، جہاں ملازمین نے حکام کی مزاحمت کی کوشش کی، جو ایس او پیز کی خلاف ورزی کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔
ڈینگی لاروا کے ہاٹ سپاٹس میں ڈھوک منگٹال، ڈھوک بابو عرفان، کونتریلا، پنڈوڑہ، دھمیال سے ڈینگی لاروا ملا اور ڈینگی مریض سامنے آئے۔ اس کے علاوہ کوٹھہ کلاں، ہزارہ کالونی، چک جلال دین اور وارڈ 2 واہ کینٹ سے بھی ڈینگی لاروا ملے اور ڈینگی کے مریض سامنے آئے۔ یہ علاقے گزشتہ ہفتے کے رپورٹڈ ہاٹ سپاٹس جیسے موہن پورہ، نصیر آباد، دھوک سیداں اور کینٹمنٹ ایریاز سے ملتے جلتے ہیں، جہاں بارشوں کے بعد جام شدہ پانی میں مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ایک حالیہ میٹنگ میں کہا کہ تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے ڈینگی کنٹرول پروگرام کو مزید سخت کیا جائے گا، اور ہر ممکن پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، ڈینگی ایک مچھر بورن وائرل بیماری ہے جو ایڈیز ایجپٹی مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے، اور دنیا بھر میں 100 سے 400 ملین کیسز سالانہ ہوتے ہیں۔ راولپنڈی میں مندوب صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پانی کے کنٹینرز، ٹینکوں اور کولروں کی باقاعدہ صفائی کریں، اور بخار، کمر درد جیسے علامات پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے کینٹمنٹ اور سب ڈسٹرکٹس میں سرویلنس کو مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاکہ وبا کو روکا جا سکے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کیسز کا یہ اضافہ، اگرچہ تشویشناک ہے، ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کی فعال سرویلنس اور سخت نفاذی کارروائیوں کی عکاسی کرتا ہے، جو وبا کی روک تھام اور عوامی صحت کی حفاظت کی جانب ایک مثبت اور منظم پیش رفت ہے۔ 1499 سرویلنس ٹیموں کی جانب سے 53 لاکھ سے زائد گھروں اور 14 لاکھ اسپاٹس کی چیکنگ، اور 1 لاکھ 78 ہزار مقامات سے لاروا کی تلفی، نہ صرف فوری خطرے کو کم کر رہی ہے بلکہ طویل مدتی طور پر مچھروں کی افزائش کو روکنے کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ ہفتے کی 1.17 ملین انسپکشنز سے بڑھ کر ہیں، جو مہم کی کارکردگی اور وسائل کی بہتر تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں، اور رواں سال کی کوئی ہلاکت نہ ہونا صحت سہولیات کی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
سب سے مثبت پہلو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہے، جہاں 4265 ایف آئی آرز، 1813 سیلنگز، 3415 چالان اور 1 کروڑ 5 لاکھ روپے جرمانہ نہ صرف خلاف ورزیوں کو روکتے ہیں بلکہ عوام میں شعور اجاگر کرتے ہیں، جو سماجی ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ اقدامات پنجاب بھر کی 176 کیسز کی روک تھام کا حصہ ہیں، اور نجی لیبارٹریوں جیسے کیسز میں ایف آئی آرز سماج کے ہر طبقے کو شامل کرتے ہیں۔ ہاٹ سپاٹس جیسے ڈھوک منگٹال، کوٹھہ کلاں اور وارڈ 2 واہ کینٹ کی نشاندہی اور فوری ردعمل، جیسے لاروا کی تلفی، وبا کی حد بندی کو ممکن بناتا ہے، جو موسلا دھار بارشوں کے باوجود استحکام کی امید دیتا ہے۔
61 مریضوں کا زیر علاج ہونا اور ہولی فیملی ہسپتال جیسی سہولیات کی تیاری، جہاں 59 مریض داخل ہیں، صحت کے نظام کی لچک کو ظاہر کرتی ہے، جو مریضوں کو فوری علاج اور نگرانی فراہم کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایات اور تمام وسائل کا استعمال، بشمول کینٹمنٹ علاقوں کی سرویلنس، علاقائی تعاون کو مضبوط کرتا ہے، جو جہلم اور چکوال سے ریفرل کیسز کو سنبھالنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔ عوامی سطح پر، پانی کے کنٹینرز کی صفائی کی اپیل ایک صحت مند عادت کو فروغ دیتی ہے، جو خاندانوں اور کمیونٹیز کو بااختیار بناتی ہے اور مستقبل کی وباؤں سے بچاؤ کی ثقافت قائم کرتی ہے۔
عالمی تناظر میں، ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل درآمد راولپنڈی کو ایک ماڈل ضلع بنا سکتا ہے، جہاں سرویلنس ٹیموں کی تعداد اور چیکنگ کا حجم دیگر شہروں کے لیے مثال بنے گا۔ یہ مہم نہ صرف فوری کیسز کو کنٹرول کرے گی بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گی – سرویلنس ٹیموں اور صفائی ورکرز کے ذریعے – اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھائے گی۔ مجموعی طور پر، یہ صورتحال ایک مثبت موڑ ہے جو راولپنڈی کو ڈینگی فری شہر بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے، جہاں فعال نگرانی، سخت نفاذ اور عوامی شمولیت مل کر ایک صحت مند، محفوظ اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھیں گی – ایک ایسا منظر نامہ جہاں وبا کی بجائے ترقی اور خوشحالی کی باتیں ہوں۔





















