گھریلو تربیت ہی معاشرتی برائیوں کی اصل جڑ ہے

زمانہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، ٹیکنالوجی کی رفتار حیران کن ہے، مگر افسوس کہ ہماری تربیت کی رفتار اس کے ساتھ قدم نہیں ملا رہی

بچے ریت کے نازک ذرات کی مانند ہیں، اگر انہیں محبت کی مضبوط گرفت اور احتیاط کی نگاہ سے نہ تھاما جائے تو وہ انگلیوں سے پھسل کر بکھر جاتے ہیں، اور ان کی یہ بکھری ہوئی حالت ہمارے معاشرے کی نئی نسل کی تصویر ہے جو اپنی جڑوں سے کٹتی جا رہی ہے اور اخلاقی اقدار کی گہری دلدل میں ڈوبتی نظر آتی ہے۔ اس دلخراش صورتِ حال کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟ بلاشبہ والدین، جو دنیا کی رنگینیوں اور مصروفیات میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ اپنی سب سے مقدس ذمہ داری—بچوں کی تربیت—سے غافل ہو بیٹھے ہیں۔

زمانہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، ٹیکنالوجی کی رفتار حیران کن ہے، مگر افسوس کہ ہماری تربیت کی رفتار اس کے ساتھ قدم نہیں ملا رہی۔ گھروں میں اب گفت و شنید کا خوبصورت کلچر ماند پڑتا جا رہا ہے؛ کھانے کی میز پر ہر فرد اپنے موبائل کی اسکرین میں کھویا ہوا ہے، جہاں خاندانی بات چیت کی جگہ خاموشی اور تنہائی نے لے لی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، اسکرین ٹائم میں اضافہ براہِ راست والدین اور بچوں کے درمیان گفتگو میں کمی کا باعث بنتا ہے، جو بچوں کی مواصلاتی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔ مزید برآں، ایک اور مطالعہ بتاتا ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافہ خاندان کے ارکان کے درمیان آمنے سامنے کی بات چیت کو کم کر دیتا ہے اور مشترکہ وقت کو متاثر کرتا ہے۔ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ مہنگے اسکولوں میں داخلہ اور جدید سہولیات کی فراہمی سے ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی، حالانکہ سچائی یہ ہے کہ تربیت کا اصل منبع ماں کی شفقت بھری گود اور باپ کا مضبوط کردار ہے، نہ کہ محض کتابیں یا آلات۔

آج کے معاشرے میں پھیلی ہوئی بددیانتی، جھوٹ، ناانصافی، عدم برداشت اور بے راہ روی کی جڑیں گھروں کی کمزور بنیادوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔ اگر والدین ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور محبت سے پیش آئیں تو اولاد بھی شائستگی اور ہمدردی کا سبق سیکھے گی۔ اگر ماں باپ بزرگوں کا ادب کریں تو بچے بھی والدین کی قدر جانیں گے۔ مگر اگر گھر میں چیخ و پکار، بدزبانی اور عدم اعتماد کا ماحول ہو تو بچے انہی منفی رویوں کو اپنائیں گے، اور معاشرہ مزید انتشار اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ تحقیقاتی اعداد و شمار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جن بچوں کے والدین ان کی زندگی میں فعال طور پر شامل ہوتے ہیں، ان میں سماجی مہارتیں بہتر ہوتی ہیں اور رویے کی خرابیاں کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مزید یہ کہ، معاون والدین کے ساتھ رہنے والے طلبہ ہائی اسکول سے گریجویٹ ہونے کے امکانات 81 فیصد زیادہ رکھتے ہیں۔

اسلام میں والدین کی ذمہ داری صرف رزق کی فراہمی تک محدود نہیں، بلکہ سب سے بڑی امانت اولاد کی صحیح تربیت اور کردار سازی ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔” یہ حدیث مبارکہ والدین کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ بچوں کے اخلاق، کردار اور دینی شعور کی پرورش ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے: "سب سے بہتر تم میں سے وہ ہیں جو اخلاق اور کردار میں سب سے اچھے ہیں۔” افسوس کہ آج والدین اپنی اولاد کو حقیقی محبت اور وقت دینے کی بجائے مادی اشیاء اور پیسے میں الجھا رہے ہیں، جو ان کی روحانی اور اخلاقی نشوونما کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسلام بچوں کو امانت قرار دیتا ہے، اور خاندان پر لازم ہے کہ انہیں صالح طریقے سے پروان چڑھائے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو دنیاوی علم کے ساتھ دینی اور اخلاقی اقدار کی روشنی بھی عطا کریں۔ انہیں وقت دیں، ان کی بات سنیں، مسائل حل کریں، اور ان کے سچے دوست بنیں۔ محبت اور شفقت سے ان کے دلوں کو جیتیں، تاکہ وہ دنیا کی فریب کاریوں میں بھٹکنے کی بجائے والدین کے نقشِ قدم پر چلیں اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ بنیں۔

یاد رکھیے، نیک اولاد نہ صرف دنیا میں والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور سکون کا باعث بنتی ہے بلکہ آخرت میں بھی صدقہ جاریہ کی صورت میں ان کی بخشش کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہم آج اپنی نسل کو صحیح تربیت اور توجہ نہ دیں تو آنے والا کل ہمیں اپنی غفلت کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دے گا۔ لہٰذا، آج ہی عزم کریں کہ آپ اپنی اولاد کو ریت کے بکھرتے ذرات کی طرح ضائع ہونے دیں گے یا انہیں مضبوط کردار اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر میں ڈھال کر ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین