تحریر :پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات )
غربت کی کہانی محض خالی جیب نہیں بلکہ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو کروڑوں خوابوں کو ادھورا چھوڑ نے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہ ماؤں کی آنکھوں کا وہ آنسو ہے جو بچوں کی بھوک دیکھ کر ٹپکتا ہے۔ یہ وہ حسرت ہے جو جوان ہاتھوں میں ہنر ہونے کے باوجود روزگار نہ ملنے پر مایوسی میں بدل جاتی ہے، اور یہ وہ اداسی ہے جو بزرگوں کے چہروں پر اس وقت اتر آتی ہے جب وہ اپنی اگلی نسل کے لیے بھی کوئی بہتر کل دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔اسلام نے اس دکھ کو محض ایک ذاتی مسئلہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بنایا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو حکم دیا: “وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ” (الذاریات: 19) یعنی ان کے مال میں سوال کرنے والے اور محروم کا بھی حصہ ہے۔
اسلامی نقطہ نظر کے مطابق غربت محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اسے انسان کی عزتِ نفس اور معاشرتی توازن کے لیے بھی ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا: "الشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَأْمُرُکُم بِالْفَحْشَاءِ” (البقرہ: 268) یعنی شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے اور برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ غربت صرف پیٹ کی بھوک نہیں بلکہ فکر و کردار کی زنجیر بھی ہے جو انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "کاد الفقر ان یکون کفراً” یعنی غربت کبھی کبھار انسان کو کفر کے قریب لے آتی ہے۔
ایک حالیہ نیوز رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً 6 کروڑ آبادی غربت کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے، غربت کی شرح 3.25فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی غربت کے پیمانے پر پاکستان کی حالت 45 فیصد کے قریب بتائی جاتی ہے۔ گویا یہاں ہر دوسرا شخص زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے۔ یعنی لاکھوں لوگ محنت اور صلاحیت تو رکھتے ہیں مگر وسائل کی کمی ان کے خوابوں کو بجھا دیتی ہے۔اسلام نے اس اندھیرے کو دور کرنے کے لیے نظامِ زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کو قائم کیا، تاکہ روشنی کا یہ چراغ بجھنے نہ پائے اور معاشرے کے کمزور طبقے عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
اگر عالمی غربت کے پیمانے کو معیار بنایا جائے، جہاں ساڑھے 3 ڈالر یومیہ آمدنی سے کم رکھنے والے افراد کو غریب شمار کیا جاتا ہے، تو پاکستان میں غربت کا تناسب چالیس سے بیالیس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اعداد و شمار کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2001ء میں پاکستان میں غربت کی شرح 3.64 فیصد تھی۔ مختلف سماجی اور معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ کم ہوتے ہوتے 2018ء تک 9.21 فیصد تک آ گئی تھی۔ لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی، کورونا وبا، سیلابی آفات اور معاشی غیر یقینی نے صورتحال کو دوبارہ ابتری کی جانب دھکیل دیا اور غربت کی شرح 25 فیصد سے اوپر جا پہنچی۔
اگر ہم خطے کے دیگر ممالک کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ غربت کو کم کرنا ممکن ہے۔ بنگلہ دیش اس کی ایک روشن مثال ہے جہاں گزشتہ دو دہائیوں میں غربت میں نمایاں کمی آئی۔ آج وہاں شدید غربت کا تناسب صرف6فیصد کے قریب رہ گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر غربت کی شرح تقریباً 28فیصد ہے۔ ہندوستان میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا ہے جہاں اقوامِ متحدہ کے مطابق آبادی کا تقریباً 16 فیصد حصہ کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ نیپال نے بھی گزشتہ15 برسوں میں غربت کو نصف سے زیادہ کم کیا ہے اور اب وہاں غربت کی شرح صرف5سے 6 فیصد رہ گئی ہے۔یہ تمام مثالیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے ہمیں فوری اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں غربت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وقتی امداد کے بجائے ایک پائیدار اور مربوط حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں ۔رپورٹس کے مطابق ہر سال پاکستان میں اربوں روپے کی زکوٰۃ جمع ہوتی ہے ۔ اگر اس زکوٰۃ کو ایک مرکزی قومی اتھارٹی کے تحت منظم کر کے جمع کیا جائے تو یہ ایک قومی فنڈ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔یہ رقوم ضرورت مندوں کو محض نقد امداد دینے کے بجائے بلاسود قرضوں کی شکل میں فراہم کی جائیں تاکہ وہ چھوٹے کاروبار شروع کر سکیں۔اس عمل کے ساتھ ساتھ فنی تربیت، کاروباری رہنمائی اور مارکیٹ تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ دی گئی رقوم کاروبار کی صورت میں مستقل آمدنی پیدا کریں۔اگر یہ نظام پانچ برس تک باقاعدگی سے جاری رکھا جائے تو لاکھوں افراد مستقل روزگار پا سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں قومی معیشت میں دولت کی تخلیق (Wealth Creation) کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔مزید برآں، نوجوانوں کو جدید شعبوں مثلاً آئی ٹی، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور ڈیجیٹل بزنس کی طرف راغب کر کے انہیں لیپ ٹاپ اور ٹیکنیکل تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں۔
پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے SMEDA جیسے اداروں کو مزید فعال اور وسائل سے مالا مال کیا جائے تاکہ وہ کاروباری افراد کو رہنمائی، سرمایہ اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کر سکیں۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے زراعت کو جدید ٹیکنالوجی اور بلاسود قرضوں کے ذریعے مضبوط کیا جائے۔ کسانوں کو بیج، کھاد اور مشینری کی فراہمی میں ریاست براہ راست کردار ادا کرے۔اس کے ساتھ ساتھ غربت مٹانے کے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ وسائل ضائع نہ ہوں اور ان کا حقیقی فائدہ مستحقین تک پہنچے۔یہ تمام اقدامات وقتی ریلیف نہیں بلکہ غربت کے دیرپا خاتمے کی ضمانت ہیں۔ اگر ان پر سنجیدگی اور شفافیت کے ساتھ عمل کیا جائے تو پاکستان نہ صرف غربت کے اندھیروں سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور خود کفیل معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
اگر پاکستان میں شفافیت اور سنجیدہ پالیسی کے ساتھ اس ماڈل پر عمل کیا جائے تو آنے والے برسوں میں وہ دن دور نہیں جب لاکھوں خاندان غربت کی زنجیروں سے آزاد ہو جائیں گے۔یوں پاکستان میں غربت کا خاتمہ ممکن ہے، بشرطیکہ ہم وقتی تدابیر پر انحصار کرنے کے بجائے ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیں جو عوام کو خود کفالت کی طرف لے جائے اور قومی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرے۔
حوالہ جات :
ااسلامک مائیکرو فنانس(از پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری )
اسلامی اخلاقیات و تجارت ( از پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری)





















