لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)صبح آنکھ کھلتے ہی پانی کے ساتھ لہسن کی ایک پوتھی نگل لینا بعض لوگوں کے نزدیک صحت مند دن کا آغاز ہے۔ کوئی اسے دل کی حفاظت کا ذریعہ سمجھتا ہے، کوئی قوتِ مدافعت بڑھانے کا نسخہ اور کوئی وزن گھٹانے کی امید پر اس کی تیزی برداشت کرتا ہے۔ لیکن صحت کا اصل سوال یہ ہے کہ لہسن سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے، کس صورت میں اور کس حد تک؟
لہسن ہماری خوراک کا مانوس حصہ ہے، مگر کھانے میں اس کا استعمال اور اسے روزانہ علاج کی نیت سے نہار منہ کھانا دو مختلف صورتیں ہیں۔ کسی غذا کی مفید خصوصیات کا مطلب یہ نہیں کہ اسے مخصوص وقت پر کھانے سے ہر شخص کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ دستیاب تحقیق بھی نہار منہ کچے لہسن کو صحت بہتر بنانے کا لازمی طریقہ ثابت نہیں کرتی۔
لہسن کی شہرت کے پیچھے کیا ہے؟
لہسن میں قدرتی سلفر مرکبات پائے جاتے ہیں۔ اسے کاٹنے یا کچلنے پر ہونے والے کیمیائی عمل سے ایلیسن بنتا ہے، جسے لہسن کی مخصوص بو اور بعض حیاتیاتی خصوصیات سے جوڑا جاتا ہے۔ انہی مرکبات نے اسے غذائی تحقیق کا اہم موضوع بنایا ہے۔تاہم کسی مرکب کی تجربہ گاہ میں اینٹی آکسیڈنٹ یا جراثیم کے خلاف سرگرمی اور انسان میں کسی بیماری کا مؤثر علاج ثابت ہونا الگ باتیں ہیں۔ لہسن کی کیمیائی خصوصیات دلچسپ ضرور ہیں، لیکن انہیں ہر انفیکشن سے بچاؤ یا بیماری سے نجات کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔
دل کے لیے امید، مگر دوا کا متبادل نہیں
لہسن کے بارے میں نسبتاً زیادہ تحقیق بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے حوالے سے ہوئی ہے۔ امریکی قومی مرکز برائے تکمیلی و مربوط صحت کے مطابق لہسن کے بعض سپلیمنٹس سے کولیسٹرول میں معمولی کمی ہوسکتی ہے، مگر یہ اثر کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے مقابلے میں محدود ہے۔ بلڈ پریشر کے بارے میں بھی ممکنہ فائدے کے شواہد موجود ہیں، تاہم تحقیق کی اپنی حدود ہیں۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: تحقیق میں استعمال ہونے والے لہسن کے مخصوص عرق، پاؤڈر یا سپلیمنٹ کے نتائج کو صبح کھائی جانے والی ایک کچی پوتھی پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ مقدار، تیاری اور استعمال کی مدت مختلف ہونے سے نتائج بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔اسی طرح بلڈ پریشر میں کچھ کمی آنا اور دل کے دورے یا فالج سے تحفظ ثابت ہونا ایک جیسے نتائج نہیں۔ ایک تحقیقی جائزے نے لہسن کے ممکنہ بلڈ پریشر کم کرنے والے اثر کے باوجود دل کی بیماریوں اور اموات میں کمی کے لیے شواہد ناکافی قرار دیے۔
فائدے کی امید میں جلن کو نظرانداز نہ کریں
کچے لہسن کا تیز ذائقہ بعض افراد کے لیے محض ناگوار ہوتا ہے، جبکہ دوسروں میں یہ معدے کی بے آرامی کا باعث بن سکتا ہے۔ لہسن کے استعمال سے پیٹ میں درد، گیس اور متلی جیسے مسائل رپورٹ ہوئے ہیں۔اگر کسی شخص کو نہار منہ لہسن کھانے کے بعد سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں یا معدے میں تکلیف محسوس ہو تو اسے فائدے کی علامت سمجھ کر برداشت کرتے رہنا مناسب نہیں۔ خاص طور پر پہلے سے تیزابیت کے شکار افراد کے لیے یہ معمول پریشانی بڑھا سکتا ہے۔ایسے افراد اسے خالی پیٹ کھانے کے بجائے معمولی مقدار میں کھانے کا حصہ بنا کر دیکھ سکتے ہیں۔ اگر تکلیف برقرار رہے تو استعمال ترک کرنا اور طبی مشورہ لینا زیادہ مناسب ہے۔ صحت بہتر بنانے کے لیے اختیار کی گئی عادت مسلسل بے آرامی پیدا کرے تو اس پر نظرثانی ضروری ہے۔
قوتِ مدافعت ایک پوتھی سے مضبوط نہیں ہوتی
لہسن کو اکثر بیماریوں کے خلاف قدرتی ڈھال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعض اجزا پر مدافعتی نظام کے حوالے سے تحقیق ہوئی ہے، لیکن اس بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ روزانہ کچا لہسن کھانے والا شخص نزلے، فلو یا دوسری بیماریوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔جسم کی دفاعی صلاحیت کسی ایک غذا کی محتاج نہیں۔ مناسب نیند، متوازن خوراک، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور مجموعی صحت اس سلسلے میں اہم ہیں۔ اگر باقی معمولات خراب ہوں تو لہسن کو ان کی تلافی کا ذریعہ سمجھنا غیرحقیقی توقع ہوگی۔
وزن گھٹانے کا آسان نسخہ؟
وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے فوری نتائج کا وعدہ خاص کشش رکھتا ہے۔ لیکن صرف نہار منہ لہسن کھانے سے نمایاں وزن گھٹنے کا دعویٰ مضبوط سائنسی بنیاد نہیں رکھتا۔لہسن کا عملی فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسے کھانے میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے، جس سے زیادہ نمک یا بھاری چٹنیوں کی ضرورت کم کرنے میں مدد ملے۔ البتہ وزن میں پائیدار کمی کے لیے خوراک کی مجموعی مقدار، غذائی انتخاب اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک مفید جزو پورے غذائی معمول کی جگہ نہیں لے سکتا۔
قدرتی ہونے کا مطلب ہر حال میں محفوظ ہونا نہیں
لہسن کے معاملے میں احتیاط خصوصاً مرتکز سپلیمنٹس کے استعمال سے متعلق اہم ہے۔ ایسے سپلیمنٹس خون بہنے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ خون پتلا کرنے والی ادویات لینے والے افراد اور آپریشن کی تیاری کرنے والوں کو لہسن کے سپلیمنٹس کے استعمال سے پہلے اپنے معالج کو آگاہ کرنا چاہیے۔کھانے میں شامل معمولی لہسن اور زیادہ مقدار والے سپلیمنٹ کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح روزانہ کچے لہسن کی کوئی ایسی لازمی مقدار مقرر نہیں جسے ہر عمر، ہر طبی کیفیت اور ہر شخص کے لیے موزوں کہا جاسکے۔لہسن پسند ہو تو اسے خوراک میں شامل کیا جاسکتا ہے، مگر زیادہ مقدار کو زیادہ فائدے کا اصول نہ بنایا جائے۔ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کی دوا چھوڑ کر لہسن پر انحصار کرنا بھی مناسب نہیں؛ تجویز کردہ علاج جاری رکھنا ضروری ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ لہسن سے متعلق بحث ہمارے معاشرے کے ایک وسیع رجحان کی نشاندہی کرتی ہے: ہم صحت کے پیچیدہ مسائل کا آسان، سستا اور فوری حل تلاش کرتے ہیں۔ گھریلو غذاؤں سے فائدہ اٹھانا معقول رویہ ہے، لیکن کسی ایک چیز کو غیرمعمولی طاقت کا حامل سمجھ لینا توقعات اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھا دیتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے نزدیک صحت سے متعلق صحافت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ممکنہ فائدے، ثابت شدہ اثر اور غیرمصدقہ دعوے میں واضح فرق رکھے۔ نہ کسی مفید غذا کو بے وقعت قرار دیا جائے اور نہ اسے ایسا نسخہ بنایا جائے جس کی خاطر قاری اپنے جسم کی تکلیف یا ڈاکٹر کے علاج کو نظرانداز کردے۔
لہسن کو دسترخوان پر جگہ دی جاسکتی ہے، مگر صحت کی پوری ذمہ داری اس کے سپرد نہیں کی جاسکتی۔ اصل سرمایہ وہ روزمرہ معمولات ہیں جن میں مناسب خوراک، نیند، حرکت اور ضرورت کے مطابق علاج شامل ہو۔ صحت کسی ایک صبح کے نسخے سے زیادہ، ہر روز کے متوازن فیصلوں کا نتیجہ ہے۔





















