مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے، جہاں اسرائیلی کابینہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جو غزہ میں دو سالہ تباہ کن تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس منظوری کے تحت حماس کے زیر حراست تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے، جو معاہدے کا مرکزی نکتہ ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری مختصر بیان میں صرف یرغمالیوں کی رہائی کا ذکر کیا گیا، جبکہ دیگر متنازعہ نکات جیسے اسرائیلی فوج کا انخلا اور انسانی امداد کی بحالی کو بیان سے باہر رکھا گیا۔ تاہم، اس منظوری کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن کی وجہ سے مزید ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جو امن کی راہ میں رکاوٹوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف علاقائی استحکام کی امید جگاتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کی استقامت اور عالمی سفارت کاری کی کامیابی کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
کابینہ کی منظوری
اسرائیلی کابینہ نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی، جو غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر مرکوز ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ منظوری مشرق وسطیٰ میں جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہے، جو حماس کے زیر حراست تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنائے گی۔ یہ فیصلہ جمعرات کی رات (9 اکتوبر) کو ہوا، جہاں کابینہ اراکین نے ووٹنگ کے ذریعے اسے منظور کیا، حالانکہ دائیں بازو کے کچھ اراکین کی مخالفت کے باوجود اکثریت نے حمایت کی۔ معاہدے کے تحت، حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، رفح بارڈر کراسنگ کا کھلنا، اور انسانی امداد کی بحالی شامل ہے، جو غزہ کی تباہ شدہ پٹی کو بحال کرنے کی بنیاد رکھے گا۔
حماس کا ردعمل
ایک اعلیٰ حماس عہدیدار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل سنجیدگی سے عمل کرے تو امن ممکن ہے، جو معاہدے کی کامیابی پر ان کی امید کی عکاسی کرتا ہے۔ حماس کے جلاوطن رہنما خلیل الحیہ نے بھی ٹی وی خطاب میں کہا کہ "ہم نے مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے”، جو فلسطینی عوام کی استقامت کی فتح کا اعلان تھا۔ یہ ردعمل مصر، قطر، اور ترکی جیسے ثالث ممالک کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جو شرم الشیخ میں ہونے والی بات چیت کا حصہ تھے۔
جاری حملے
اس منظوری کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جو امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ جمعرات کی رات غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت پر بمباری سے کم از کم دو افراد شہید اور 40 سے زائد ملبے تلے دب گئے، جو فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد سے اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 170,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جو افواج کے لیے خطرہ ہیں، جو حملوں کی شدت کو برقرار رکھنے کی وجہ بتاتا ہے۔
جنگ کا پس منظر
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ایک اچانک حملے سے شروع ہوئی، جس میں اسرائیل کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اسرائیل کی جوابی کارروائیوں نے غزہ کو تباہ و برباد کر دیا، جہاں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے نسل کشی قرار دے رہی ہیں۔ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ، جو مصر میں طے پایا، اس بحران کا حل پیش کرتا ہے، جو پہلے مرحلے میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر مرکوز ہے۔
عالمی ردعمل
اس منظوری پر تل ابیب میں ہوسٹیج اسکوائر پر اسرائیلیوں نے جشن منایا، جبکہ غزہ کے خان یونس میں فلسطینی بچوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "یہ ایک بڑا دن ہے”، اور مصر میں دستخط کی تیاری کا اعلان کیا۔ تاہم، اسرائیلی دائیں بازو کے رہنما بزلیل سموٹریچ نے مخالفت کی، کہتے ہوئے کہ "حماس کا خاتمہ نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی”، جو معاہدے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے فوری نفاذ کی اپیل کی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں امداد کی رسائی کو ترجیح دیں۔
اہم نکات کا خلاصہ جدول
|
پہلو |
تفصیلات |
|
کابینہ کی منظوری |
ٹرمپ پلان کے پہلے مرحلے کی منظوری؛ یرغمالیوں کی رہائی ممکن |
|
بیان کا مواد |
صرف یرغمالیوں کا ذکر؛ دیگر نکات (انخلا، امداد) چھوڑے گئے |
|
جاری حملے |
غزہ سٹی میں بمباری؛ 2 شہید، 40 ملبے تلے؛ فلسطینی الزامات |
|
جنگ کا پس منظر |
7 اکتوبر 2023؛ 1,200 اسرائیلی ہلاک، 67,000 فلسطینی شہید |
|
عالمی ردعمل |
جشن تل ابیب اور خان یونس؛ ٹرمپ کا خوشی کا اظہار؛ سموٹریچ کی مخالفت |
اسرائیلی کابینہ کی منظوری غزہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو ٹرمپ کی ثالثی اور ثالث ممالک کی کوششوں کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر یرغمالیوں کی رہائی جو معاہدے کا مرکزی نکتہ ہے۔ بیان میں صرف یرغمالیوں کا ذکر کرنا سیاسی احتیاط کی نشاندہی کرتا ہے، جو انخلا اور امداد جیسے متنازعہ نکات پر اتفاق رائے کی ضرورت کو چھپاتا ہے۔ جاری حملے، جو فلسطینیوں کے الزامات کے مطابق مذاکرات کو سبوتاژ کر رہے ہیں، امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جو 67,000 شہادتوں والے تنازعے کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
تاہم، توقع ہے کہ 24 گھنٹوں میں جنگ بندی نافذ ہو جائے گی، جو 72 گھنٹوں میں تبادلے کا آغاز کرے گی، اور عالمی جشن (تل ابیب اور خان یونس میں) اس کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دائیں بازو کی مخالفت (جیسے سموٹریچ) حکومت کو کمزور کر سکتی ہے، جو نیتن یاہو کی سیاسی بقا کا امتحان ہے۔ اگر یہ مرحلہ کامیاب ہوا تو یہ دو سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگا، جو انسانی بحران کو کم کرے گا، ورنہ تاخیر مزید ہلاکتیں لائے گی – یہ لمحہ سفارت کاری کی فتح کا ہے، جو استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔





















