ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ اسکول پر حملہ، فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 دہشتگرد ہلاک، 7 اہلکار شہید

حملے کے وقت تقریباً 200 پولیس ریکروٹس اور اہلکار موجود تھے

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر دہشت گردوں کے ایک منظم اور خوفناک حملے نے علاقے میں خوف کی لہر دوڑا دی، جہاں فورسز کی بہادرانہ جوابی کارروائی نے حملہ آوروں کے شیطانی عزائم کو ناکام بنا دیا۔ رات تقریباً ساڑھے 8 بجے شروع ہونے والے اس حملے میں فائرنگ اور دھماکوں کی گونج علاقے بھر میں سنائی دی، جبکہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مشترکہ طور پر فوری ردعمل دیا۔ آپریشن رات گئے مکمل ہوا، جس میں 5 حملہ آور دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، تاہم اس دوران 7 پولیس اہلکاروں نے وطن کی حفاظت میں اپنی قیمتی جانیں نچھاور کر دیں۔ یہ واقعہ نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے بلکہ پولیس کی بہادری اور قربانی کی ایک نئی داستان بھی رقم کرتا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو مزید پختہ کر رہا ہے۔

حملے کا منظر

ڈیرہ اسماعیل خان، جو جنوبی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع ہے، میں واقع پولیس ٹریننگ اسکول ایک ایسا ادارہ ہے جہاں نئے ریکروٹس کو تربیت دی جاتی ہے، اور حملے کے وقت تقریباً 200 پولیس ریکروٹس اور اہلکار موجود تھے۔ رات ساڑھے 8 بجے دہشت گردوں نے راکٹس اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کی گونج علاقے بھر میں سنائی دی۔ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں رات بھر جاری رہیں، جو مقامی رہائشیوں کو خوفزدہ کر رہی تھیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں کی تعداد 7 سے 8 تھی، جو فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی اور اتحادی گروہوں) سے تعلق رکھتے تھے، اور انہوں نے ٹریننگ اسکول کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سجاد احمد صابزدار نے ذاتی طور پر نگرانی کی۔ اضافی دستے ایجاز شہید پولیس لائنز سے طلب کیے گئے، اور آپریشن میں نہ صرف پولیس بلکہ دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھی حصہ لیا۔ حملہ آوروں کو اسکول کی حدود میں ہی گھیر لیا گیا، جہاں ایک خودکش بمبار نے دھماکہ کرنے کی کوشش کی، جو فورسز کی بروقت کارروائی سے ناکام رہا۔

آپریشن کی کامیابی

آپریشن، جو رات گئے مکمل ہوا، میں فورسز کی مؤثر کارروائی نے 5 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا، جو دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچانے کا باعث بنا۔ ڈی جی پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا کے مطابق، حملے کے وقت موجود 200 ریکروٹس اور اہلکاروں کو بحفوظ واپس نکال لیا گیا، اور نادرا آفس سمیت اسکول کے تمام بلاکس کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کی عکاسی کرتا ہے۔

اسپتال ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 13 زخمی اہلکاروں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔ یہ زخمیوں کی تعداد آپریشن کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، جو دہشت گردوں کی بھاری ہتھیاروں کی وجہ سے تھی۔

شہداء کی قربانی

جوابی کارروائی کے دوران 7 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، جو ان کی بے مثال بہادری اور وطن سے محبت کی داستان رقم کرتے ہیں۔ یہ شہداء اسکول کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کرنے والے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے حملہ آوروں کو آگے بڑھنے نہ دیا۔ ان کی قربانیاں نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک ناقابل فراموش ضرب ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی لازوال خدمات کی یاد دلاتی ہیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کا ردعمل

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس ٹریننگ سینٹر پر خوارجی دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ پولیس اہلکاروں نے جان دے کر خوارجی دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔ نقوی نے خیبر پختونخوا پولیس کی دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے، جو ملک کی سلامتی کی حفاظت میں اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔

علاقائی سیاق

ڈیرہ اسماعیل خان، جو جنوبی وزیرستان کی سرحد سے ملحق ہے، میں دہشت گردی کے واقعات کا رجحان مسلسل جاری ہے، جہاں فتنہ الخوارج جیسے گروہ اپنے شیطانی عزائم پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ حملہ پولیس کی تربیتی اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک نئی کوشش ہے، جو فورسز کی تیاریوں کو کمزور کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس نے ماضی میں بھی ایسے حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول

پہلو تفصیلات
حملے کا وقت اور جگہ رات ساڑھے 8 بجے، پولیس ٹریننگ اسکول، ڈیرہ اسماعیل خان
حملہ آور 7-8 دہشت گرد (فتنہ الخوارج)؛ راکٹس اور بھاری ہتھیار
فورسز کی کارروائی فوری جوابی فائرنگ؛ اضافی دستے ایجاز شہید پولیس لائنز سے
نتائج 5 دہشت گرد ہلاک (بشمول 1 خودکش بمبار)؛ 7 پولیس اہلکار شہید
ریکروٹس کی حفاظت 200 ریکروٹس اور اہلکار بحفاظت نکالے گئے؛ علاقہ کلیئر
زخمی 13 اہلکار؛ ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹراما سینٹر میں علاج

ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ اسکول پر یہ حملہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی جرات کی نشاندہی کرتا ہے، جو خیبر پختونخوا میں پولیس کی تربیتی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور جنوبی وزیرستان کی سرحد سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ ایک حساس محاذ بن چکا ہے۔ فورسز کی فوری جوابی کارروائی اور 5 دہشت گردوں کا خاتمہ آپریشن کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے، جو فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کو شدید دھچکا پہنچاتی ہے، لیکن 7 پولیس اہلکاروں کی شہادت قوم کے لیے ایک گہرا غم ہے، جو ان کی قربانیوں کی قدر کو اجاگر کرتی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کا ردعمل اس قربانی کی عظمت کو تسلیم کرتا ہے، جو پولیس کی لازوال خدمات کی یاد دلاتا ہے، اور علاقائی سلامتی کے لیے فورسز کی تیاریوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا رجحان، جو سرحد پار مداخلت کا نتیجہ ہے، حکومت کو مزید انٹیلی جنس اور سرحدی نگرانی کی طرف راغب کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی حمایت اور فخر کی لہر قوم کو متحد کر رہی ہے، جو شہداء کی قربانیوں کو امر کرے گی۔ مجموعی طور پر، یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فتح ہے، جو استحکام کی بنیاد رکھے گا، بشرطیکہ علاقائی تعاون اور وسائل بڑھائے جائیں – یہ بہادری کی داستان ہے جو پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین