راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے ایک ایسا فیصلہ سنادیا ہے جو کورٹ میرج اور لو میرج کی روایت کو جڑ سے ہلا سکتا ہے، جہاں گھروں سے بھاگ کر کچہریوں میں کیے جانے والے نکاحوں کے نامے رجسٹر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضلع کی تمام 182 یونین کونسلز کے سیکرٹریز کو سرکلر جاری کرتے ہوئے فوری عمل درآمد کا حکم دیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے نکاح اب قانونی طور پر تسلیم نہیں ہوں گے۔ یہ قدم نہ صرف جعلی نکاحوں کی لہر کو روکنے کی کوشش ہے بلکہ خاندانی نظام کی حفاظت اور قانونی جوابدہی کو یقینی بنانے کی طرف بھی ایک بڑا قدم ہے، جو ضلع میں حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی کورٹ میرج کی صورتحال پر قابو پانے کی کوشش ہے۔
سرکلر کی تفصیلات
لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سرکلر میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ گھروں سے مبینہ طور پر بھاگ کر کچہریوں میں کیے جانے والے کورٹ یا لو میرج کے نکاح نامے رجسٹر نہیں کیے جائیں گے، جو ضلعی سطح پر ایک تاریخی اقدام ہے۔ سرکلر پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے، اور متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ پابندی نہ صرف راولپنڈی کے اندر بلکہ دوسرے شہروں یا اضلاع سے آنے والی لڑکیوں کے نکاحوں پر بھی لاگو ہوگی، جو کچہریوں میں رجسٹر ہونے والے تمام ایسے واقعات کو روکے گی۔
خلاف ورزی کی سزائیں
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کی خلاف ورزی پر نکاح خواں کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا، اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو شدید متاثر کرے گی۔ اسی طرح، یونین کونسل کے سیکرٹری کو ملازمت سے برطرف کرکے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو ان کی سرکاری ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کو روکنے کی ایک سخت حکمت عملی ہے۔ یہ سزائیں نہ صرف ان افراد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں بلکہ پورے نظام کو جوابدہی کا سبق دیتی ہیں، جو جعلی نکاحوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں گی۔
کورٹ میرج کی بڑھتی لہر
راولپنڈی ضلع میں گزشتہ 2 سالوں میں کورٹ میرج اور لو میرج کی تعداد میں خوفناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جو خاندانی نظام اور سماجی استحکام کو چیلنج کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف یکم جنوری سے 30 ستمبر 2025 تک ضلع راولپنڈی میں 1594 ایسے نکاح رجسٹر ہوئے، جو گزشتہ سالوں کی نسبت ایک نمایاں اعلیٰ سطح ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف خاندانی تنازعات کو بڑھا رہا ہے بلکہ جعلی ایڈریس، فرضی مقامی رہائش، اور جھوٹے گواہوں کے استعمال کو بھی فروغ دے رہا ہے، جو قانونی نظام پر بوجھ بڑھاتا ہے۔
جعلی نکاحوں کا نقصان
کچہریوں میں ہونے والے جعلی نکاحوں کی وجہ سے متعلقہ ملازمین کو راولپنڈی سے باہر دور دراز اضلاع کی کچہریوں میں پیشیاں بھگتنی پڑ رہی ہیں، جو ان کی ذمہ داریوں کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عدالتی نظام پر دباؤ بڑھاتی ہے بلکہ خاندانی نظام کو بھی کمزور کرتی ہے، جہاں ایسے نکاح اکثر جھوٹی معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ سرکلر کا یہ اقدام جعلی دستاویزات اور فرضی گواہوں کے استعمال کو روکنے کی کوشش ہے، جو سماجی استحکام کی بنیاد کو مضبوط بنائے گا۔
سرکلر کا پس منظر
یہ سرکلر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خاندانی نظام کی حفاظت اور قانونی جوابدہی کو یقینی بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جو راولپنڈی جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی کورٹ میرج کی لہر کو روکنے کا مقصد رکھتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام یونین کونسلز کو یہ ہدایات جاری کی ہیں، جو فوری عمل درآمد کی ضمانت دیتی ہیں۔ یہ قدم نہ صرف جعلی نکاحوں کو روکے گا بلکہ خاندانی تنازعات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جو معاشرے کی بنیاد کو مستحکم کرے گا۔
عوامی ردعمل
سرکلر کے جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر راولپنڈی کے رہائشیوں میں مخلوط ردعمل دیکھنے کو ملا، جہاں کچھ نے اسے خاندانی نظام کی حفاظت کا قدم قرار دیا، جیسے "اب جعلی نکاحوں کا خاتمہ ہوگا”، جبکہ دوسرے نے خدشہ ظاہر کیا کہ "یہ آزادی پر پابندی تو نہیں”۔ یہ بحث نہ صرف سرکلر کی اہمیت کو بڑھاتی ہے بلکہ سماجی مسائل پر عوامی شعور کو بھی جگاتی ہے، جو قانونی نظام کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| سرکلر کا محتاج | لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ، راولپنڈی ضلع |
| پابندی کا دائرہ | گھر سے بھاگ کر کورٹ/لو میرج؛ تمام 182 یونین کونسلز پر لاگو |
| خلاف ورزی کی سزا | نکاح خواں: لائسنس منسوخ، مقدمہ، گرفتاری؛ سیکرٹری: برطرفی، مقدمہ |
| اعداد و شمار | 2025 میں جنوری-ستمبر تک 1594 کورٹ/لو میرج؛ 2 سال میں خوفناک اضافہ |
| نقصانات | جعلی ایڈریس/گواہ؛ ملازمین کی پیشیاں، خاندانی تنازعات |
| مقصد | خاندانی نظام کی حفاظت، جعلی نکاحوں کی روک تھام |
راولپنڈی کا یہ سرکلر کورٹ میرج کی بڑھتی لہر کو روکنے میں ایک مؤثر اقدام ہے، جو 1594 ایسے کیسز کی نشاندہی کرتے ہوئے خاندانی نظام کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔ پابندی اور سزائیں (لائسنس منسوخ، گرفتاری، برطرفی) نہ صرف جعلی دستاویزات کو روکیں گی بلکہ یونین کونسلز کی جوابدہی کو بڑھائیں گی، جو عدالتی بوجھ اور خاندانی تنازعات کو کم کرے گی۔ یہ فیصلہ راولپنڈی سے باہر اضلاع کی لڑکیوں پر بھی لاگو ہونے سے وسیع دائرہ رکھتا ہے، جو جعلی نکاحوں کی روک تھام میں مددگار ہوگا۔
تاہم، عوامی خدشات (آزادی پر پابندی) کو دور کرنے کے لیے آگاہی مہمات کی ضرورت ہے، جو خاندانی نظام کی اہمیت سکھائیں۔ سوشل میڈیا کی بحث اسے عوامی فورم بنا رہی ہے، جو سماجی تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ سرکلر قانونی نظام کی مضبوطی کی طرف ایک بڑا قدم ہے، جو استحکام لائے گا، بشرطیکہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے – یہ خاندانوں کی حفاظت کی ایک نئی شروعات ہے۔





















