کے پی اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب جاری، اسپیکر نے گنڈاپور کا استعفیٰ منظور کرنے کی رولنگ دے دی

ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔گنڈاپور

خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم لمحہ قریب آ گیا ہے، جہاں صوبائی اسمبلی کا اجلاس نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے جاری ہے، جو علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد ایک نئی راہنمائی کی بنیاد رکھے گا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت شروع ہونے والے اس اجلاس میں گنڈاپور نے اپنے 19 ماہہ دورِ حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا، جبکہ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسمبلی سے واک آؤٹ کر لیا۔ یہ اجلاس نہ صرف صوبائی سیاست کی نئی سمت طے کرے گا بلکہ پی ٹی آئی کی قیادت اور اپوزیشن کی حکمت عملیوں کو بھی آزمائے گا، جو صوبے کی ترقی اور استحکام کی راہ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔

اجلاس کا آغاز

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت وقت پر شروع ہوا، جہاں پہلے ہی مرحلے میں علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب سے ایوان کو مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جس دن حکم دیا، اسی دن انہوں نے اپنے لیڈر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ پیش کر دیا، اور اب جمہوری عمل کا مذاق نہ بنایا جائے۔ گنڈاپور نے واضح کیا کہ جو کچھ گزشتہ عرصے میں ہوا، اسے مزید برداشت نہ کیا جائے گا، جو ان کی جماعتی وفاداری اور سیاسی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے اپنے 19 ماہہ دورِ حکومت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں ذمہ داری ملی تو صوبائی خزانے میں صرف 18 روز کی تنخواہ موجود تھی، جبکہ آج 218 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جو ان کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے۔ گنڈاپور نے اپوزیشن کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان سے گلہ ہو سکتا ہے کہ فنڈز کی تقسیم میں ان کی حصہ داری کم تھی، مگر عوام خوش ہیں کیونکہ انہوں نے وسائل کو عوامی فلاح و بہبود پر لگایا۔

 گنڈاپور کا جذباتی خطاب

خطاب کے دوران گنڈاپور کا لہجہ جذباتی ہو گیا جب انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ذکر کیا، کہتے ہوئے کہ وہ ہمارے لیے اور ہماری نسلوں کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، اور ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ یہ الفاظ ایوان میں موجود اراکین میں گونج اٹھے، جو جماعتی وفاداری اور سیاسی جدوجہد کی ایک زندہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ گنڈاپور کا یہ بیان نہ صرف ان کی ذاتی قربانی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ صوبائی سیاست میں پی ٹی آئی کی مضبوط گرفت کو بھی واضح کرتا ہے، جو نئے قائد کی منتخب ہونے والی صورت میں جاری رہے گی۔

اپوزیشن کا احتجاج

اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں ہوا، اور ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے کا انتخاب آئین مخالف ہے۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ گورنر نے گنڈاپور کو بلایا ہے تاکہ ابہام دور ہو، اور اپوزیشن کو اتنی جلدی کیوں ہے جب ان کے پاس اکثریت موجود ہے۔ عباد اللہ نے اس عمل کو متنازع اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس غیر آئینی اقدام کا حصہ نہ بنیں گے، جو ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ احتجاج نہ صرف اپوزیشن کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ صوبائی اسمبلی میں سیاسی توازن کی جدوجہد کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اسپیکر کا ردعمل

اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران گیلری سے شور شرابہ ہونے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خاموشی نہ برتی گئی تو اجلاس کی کارروائی روک کر گیلری کو خالی کر دیا جائے گا، جو ایوان کی وقار کی حفاظت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سواتی نے اپوزیشن کی تقریر کے بعد کہا کہ گنڈاپور نے دو بار استعفیٰ گورنر کو بھیجا اور آج ایوان میں بھی اعلان کیا، مگر چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں، جو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے رولنگ سناتے ہوئے کہا کہ نئے قائد ایوان کا انتخاب آئین کے مطابق ہوگا، جس کے بعد منتخب وزیراعلیٰ کا اعلان کیا جائے گا، جو اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔ یہ رولنگ نہ صرف اجلاس کی سمت طے کرتی ہے بلکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔

امیدواروں کی فہرست

نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 4 امیدواروں نے نامزدگیاں جمع کرائی ہیں، جو صوبائی سیاست کی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو نامزد کیا ہے، جو قبائلی علاقوں سے پہلے وزیراعلیٰ بننے کی امید رکھتے ہیں۔ جے یو آئی ایف نے مولانا لطف الرحمان کو آگے بڑھایا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن نے سردار شاہ جہاں یوسف اور پیپلز پارٹی نے ارباب زرک خان کو امیدوار بنایا ہے۔ یہ نامزدگیاں اسمبلی میں 145 اراکین میں سے حکومتی 93 اور اپوزیشن کے 52 کی اکثریت کی جنگ کو دلچسپ بناتی ہیں۔

پی ٹی آئی کا اعلان

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں سے حلف لے لیے ہیں، اور گزشتہ روز صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر نے واضح کیا کہ جو بانی پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سے غداری کرے گا، صوبے کی عوام اس کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دے گی اور اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔ یہ بیان جماعتی نظم و ضبط کی نشاندہی کرتا ہے، جو انتخابی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

گورنر کا کردار

یہ بات بھی یاد رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ دستخطوں کے اختلاف پر واپس بھیج دیا ہے، اور انہیں ذاتی حیثیت میں 15 اکتوبر کو گورنر ہاؤس طلب کر لیا ہے۔ یہ تنازعہ اسمبلی کے اجلاس کو مزید دلچسپ بناتا ہے، جو آئینی حدود اور سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول

پہلو تفصیلات
اجلاس کا آغاز اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت؛ نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب
گنڈاپور کا خطاب استعفیٰ کا اعلان، 19 ماہہ کارکردگی کا دفاع، عمران خان کی قربانی
اپوزیشن کا احتجاج ڈاکٹر عباد اللہ: غیر قانونی عمل؛ واک آؤٹ، گورنر کا بلاؤ
اسپیکر کی رولنگ آئین کے مطابق انتخاب؛ گیلری شور پر تنبیہ
امیدوار سہیل آفریدی (پی ٹی آئی)، مولانا لطف الرحمان (جے یو آئی)، سردار شاہ جہاں (مسلم لیگ ن)، ارباب زرک خان (پیپلز پارٹی)
اراکین کی تعداد کل 145؛ حکومتی 93، اپوزیشن 52
گورنر کا اقدام استعفیٰ واپس بھیجا، 15 اکتوبر کو طلب

خیبر پختونخوا اسمبلی کا یہ اجلاس صوبائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، جو علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کی منظوری اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے ایک نئی راہنمائی کی بنیاد رکھے گا، جو پی ٹی آئی کی اکثریت (93 اراکین) کی طاقت کو آزمائے گا۔ گنڈاپور کا جذباتی خطاب اور عمران خان کی قربانیوں کا ذکر جماعتی وفاداری کو مضبوط کرتا ہے، جو 19 ماہہ معاشی بہتری (218 ارب روپے کا اضافہ) کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کر رہا ہے۔ اپوزیشن کا واک آؤٹ اور غیر قانونی عمل کا الزام سیاسی توازن کی جدوجہد کو واضح کرتا ہے، جو گورنر کنڈی کے استعفیٰ واپس بھیجنے سے مزید الجھا رہا ہے۔

اسپیکر سواتی کی رولنگ آئین کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے، جو انتخابی عمل کو شفاف رکھے گی، جبکہ 4 امیدواروں کی فہرست صوبائی اتحاد کی تلاش کو اجاگر کرتی ہے۔ جنید اکبر کی تنبیہ غداری کے خلاف جماعتی نظم کو مضبوط کرتی ہے، جو انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اجلاس استحکام کی آزمائش ہے، جو صوبے کی ترقی کی بنیاد رکھے گا، بشرطیکہ سیاسی اتفاق رائے برقرار رہے – یہ ایک نئی قیادت کا آغاز ہے جو صوبائی مسائل کو حل کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین