حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں تمام 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کردیا

اس کے بدلے اسرائیل اپنی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا

مشرق وسطیٰ کی تباہ کن دو سالہ لڑائی کے منظر نامے میں ایک ایسا باب کھل گیا ہے جو امید کی نئی کرن جگا رہا ہے، جہاں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ قدم، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی اور مصری، قطری، اور ترکی جیسے ثالث ممالک کی کوششوں کا نتیجہ ہے، نہ صرف انسانی ہمدردی کی ایک جھلک ہے بلکہ علاقائی امن کی طرف ایک احتیاط بھرا قدم بھی، جو سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا راستہ ہموار کرے گا۔ غزہ کی نصر اسپتال سے لے کر تل ابیب کے یرغمالی چوک تک خوشی کی لہر دوڑ گئی، مگر یہ خوشی ابھی بھی نازک ہے، جہاں جاری تنازعات اور سیاسی دباؤ اس عمل کو چیلنج کر رہے ہیں۔

حماس کی رہائی

حماس کی جانب سے 20 یرغمالیوں کی رہائی جنوبی غزہ کے نصر اسپتال میں ایک دل دہلا دینے والے منظر کا باعث بنی، جہاں نقاب پوش حماس ارکان نے انہیں بین الاقوامی ریڈ کراس کی ٹیموں کے حوالے کیا۔ یہ یرغمالی، جو دو سالہ قید کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اب آزاد ہو کر اپنے خاندانوں کی طرف لوٹ رہے ہیں، جو انسانی ہمدردی کی ایک زندہ مثال ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ رہائی معاہدے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے، جو فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی تبادلے پر مرکوز ہے، اور اس کے بدلے اسرائیل اپنی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ یہ عمل نہ صرف تنازعے کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، جو علاقے کی سیاسی صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی ردعمل

اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کی خبر نے فوراً ہی خوشی کی لہر دوڑا دی، جہاں فوجی کیمپ رئیم کے باہر اور تل ابیب کے مشہور "یرغمالی چوک” میں سیکڑوں شہری اسرائیلی جھنڈے لہراتے اور یرغمالیوں کی تصاویر اٹھائے جمع ہو گئے۔ یہ چوک، جو ماضی میں احتجاج کا مرکز رہا، آج جشن کی جگہ بن گیا، جہاں لوگوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی تعریف کی اور فلسطینیوں کی رہائی کی امید کا اظہار کیا۔ یہ منظر نہ صرف اسرائیلی عوام کی راحت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ معاہدے کی نفاذ پر ان کی بے صبری کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو انسانی جانوں کی قدر کی ایک خوبصورت جھلک ہے۔

ٹرمپ کا اعلان’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل روانگی سے قبل ایک بیان میں کہا کہ "جنگ ختم ہو چکی ہے”، اور اب خطے میں حالات معمول پر آنے کی امید ہے، جو ان کی سفارتی کامیابی کی ایک واضح نشانی ہے۔ ٹرمپ آج اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے، جہاں ان کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، جو غزہ معاہدے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرے گی۔ صدر کا یہ بیان نہ صرف تنازعے کے خاتمے کی خوشخبری ہے بلکہ علاقائی استحکام کی طرف ایک بڑا قدم بھی، جو امریکی قیادت کی سفارتی مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔

تنازعے کا پس منظر

یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ایک اچانک حملے سے شروع ہوئی تھی، جس میں اسرائیل کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اسرائیل کی جوابی کارروائیوں نے غزہ کو تباہ و برباد کر دیا، جہاں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 170,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس تنازعے نے ایران، یمن، اور لبنان جیسے ممالک کو بھی بالواسطہ طور پر شامل کر لیا، جس نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی توازن کو ہلا کر رکھ دیا، اور عالمی سطح پر انسانی بحران کو جنم دیا۔

جاری حملے

اس رہائی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جو امن عمل کو چیلنج کر رہے ہیں۔ جمعرات کی رات غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت پر بمباری سے کم از کم دو افراد شہید اور 40 سے زائد ملبے تلے دب گئے، جو فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جو افواج کے لیے خطرہ ہیں، جو حملوں کی شدت کو برقرار رکھنے کی وجہ بتاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف رہائی کی خوشی کو دھندلا رہی ہے بلکہ معاہدے کی نفاذ میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔

عالمی ردعمل

اس رہائی پر فلسطینی علاقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں لوگوں نے حماس کی استقامت کی تعریف کی، جبکہ اسرائیل میں یرغمالیوں کے خاندانوں نے ٹرمپ کی ثالثی کی شکر گزاری کی۔ عالمی رہنماؤں نے بھی اسے "انسانی ہمدردی کی فتح” قرار دیا، مگر جاری حملوں پر اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ یہ امن عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ یہ ردعمل نہ صرف معاہدے کی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ علاقائی استحکام کی طرف عالمی توجہ کو مبذول کرتا ہے۔

اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول

پہلو تفصیلات
رہائی کی تفصیلات 20 اسرائیلی یرغمالی؛ نصر اسپتال، غزہ؛ ریڈ کراس کے حوالے
معاہدے کا پہلا مرحلہ اسرائیلی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی قیدی رہا؛ انسانی امداد کی بحالی
ٹرمپ کا بیان "جنگ ختم ہو چکی ہے”؛ اسرائیلی پارلیمان میں خطاب
جاری حملے غزہ سٹی میں بمباری؛ 2 شہید، 40 ملبے تلے؛ فلسطینی الزامات
تنازعے کا پس منظر 7 اکتوبر 2023؛ 1,200 اسرائیلی ہلاک، 67,000 فلسطینی شہید

حماس کی 20 یرغمالیوں کی رہائی غزہ معاہدے کی کامیابی کی ایک روشن جھلک ہے، جو ٹرمپ کی ثالثی اور ثالث ممالک کی کوششوں کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے، اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے انسانی ہمدردی کی ایک نئی مثال قائم کرتی ہے۔ نصر اسپتال اور یرغمالی چوک میں جشن کی لہر عوامی راحت کی عکاسی کرتا ہے، جو دو سالہ تنازعے (67,000 شہادتوں) کے بعد امن کی امید جگاتی ہے۔ ٹرمپ کا "جنگ ختم” کا اعلان سفارتی فتح ہے، جو پارلیمنٹ خطاب سے مزید تقویت پائے گا۔

تاہم، جاری حملے (غزہ سٹی میں 2 شہید) امن عمل کو سبوتاژ کر رہے ہیں، جو فلسطینی الزامات اور اسرائیلی مؤقف کی کشمکش کو بڑھاتے ہیں۔ عالمی ردعمل اس عمل کی حمایت کرتا ہے، مگر اقوام متحدہ کی تنبیہ رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ رہائی انسانی فتح ہے، جو پائیدار امن کی بنیاد رکھے گی، بشرطیکہ حملے روکیں اور تبادلہ تیز ہو – یہ لمحہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایک سنہری باب بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین