لاہور ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کا پلڑا بھاری، متھوسامی کے 6 شکار

جنوبی افریقا نے 28 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 91 رنز بنا لیے ہیں

قذافی اسٹیڈیم میں جاری پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا کھیل دلچسپ موڑ لے رہا ہے، جہاں میزبان ٹیم نے اپنی پہلی اننگز 378 رنز پر ختم کر دی، جبکہ جنوبی افریقا نے 28 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 91 رنز بنا لیے ہیں۔ جنوبی افریقا کی اسپنر سینوران متھوسامی کی تباہ کن بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں کو ریت کی دیوار کی طرح بکھیر دیا، جو میچ میں 6 وکٹیں لے کر سب سے نمایاں بولر بنے۔ دوسرے دن کا کھیل جاری ہے، جہاں جنوبی افریقا 287 رنز سے پیچھے ہے، اور پاکستان کی اسپنرز نعمان علی اور آصف آفریدی مخالف بیٹنگ کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا آغاز ہے، جو دونوں ٹیموں کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔

دوسرے دن کا آغاز

دوسرے دن کا کھیل شروع ہونے پر پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 313/5 کے اسکور سے آگے بڑھایا، جہاں محمد رضوان 62 اور سلمان علی آغا 52 رنز کے ساتھ کریز پر تھے۔ تاہم، متھوسامی کی بولنگ نے جلد ہی پاکستانی اننگز کو ختم کر دیا، جو میچ میں 6 وکٹیں لے کر سب سے مؤثر بولر بنے۔ 102ویں اوور میں متھوسامی نے تین وکٹیں لے لیں، جہاں محمد رضوان 75 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوئے، نعمان علی صفر پر بولڈ، اور ساجد خان بھی بغیر رن بنائے کیچ تھمے۔ شاہین آفریدی 7 رنز پر متھوسامی کا شکار بنے، جبکہ سلمان علی آغا 93 رنز پر سبرائن کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

اسرائیلی بولرز کی کارکردگی میں پرینیلن سبرائن نے 2، کاگیسو ربادا اور سیمون ہارمر نے ایک ایک وکٹ لی، جو جنوبی افریقا کی اسپن اٹیک کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان کی پہلی اننگز 378 رنز پر ختم ہوئی، جو ایک قابلِ فخر اسکور ہے، مگر متھوسامی کی 6 وکٹوں نے اسے محدود کر دیا۔

جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا، جہاں 45 رنز پر ایڈن مارکرم 20 رنز بناکر نعمان علی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے، اور 80 رنز پر ویان ملڈر 17 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت ریان ریکلٹن اور ٹونی ڈی زورزی کریز پر موجود ہیں، جو 91 رنز کے اسکور پر 287 رنز سے پیچھے ہیں۔ پاکستان کی اسپنرز نے وکٹ کو اسپن کی مدد دی، جو لاہور کی پچ کی خصوصیات کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کا مضبوط آغاز

پہلے دن پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو ایک صحیح انتخاب ثابت ہوا۔ عبداللہ شفیق صرف 2 رنز پر کاگیسو ربادا کا شکار بنے، مگر شان مسعود اور امام الحق نے 161 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔ شان 76 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جبکہ امام الحق 93 رنز پر کیچ آؤٹ ہوکر سنچری سے محروم رہے۔ سعود شکیل پہلی گیند پر آؤٹ ہوئے، اور بابر اعظم 23 رنز پر نکل گئے، مگر محمد رضوان اور سلمان علی آغا نے اننگز کو استحکام دیا۔

ٹیموں کا لائن اپ

پاکستان: امام الحق، عبداللہ شفیق، شان مسعود (کپتان)، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سلمان آغا، حسن علی، شاہین آفریدی، نعمان علی، ساجد خان۔

جنوبی افریقا: ٹونی ڈی زورزی، ریان رکلٹن، ویان ملڈر، ایڈن مارکرم (کپتان)، ٹرسٹن اسٹبس، ڈیوالڈ بریوس، کائل ویرین، سینوران متھوسامی، پرینیلن سبرائن، کاگیسو ربادا، سیمون ہارمر۔

میچ کا تناظر

یہ میچ جنوبی افریقا ٹور آف پاکستان 2025 کا حصہ ہے، جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا آغاز ہے۔ جنوبی افریقا، موجودہ چیمپئن ہونے کے ناطے، اپنا تاج برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی، جبکہ پاکستان گھر کی برتری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ لاہور کی پچ، جو اسپنرز کے لیے سازگار ہے، اس میچ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں آصف آفریدی کا ڈیبیو پاکستان کی اسپن اٹیک کو نئی طاقت دے گا۔

 شائقین کی توقعات

میچ کے دوسرے دن کا کھیل سوشل میڈیا پر شائقین کی بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں کچھ نے متھوسامی کی بولنگ کی تعریف کی، جیسے "متھوسامی نے پاکستان کو توڑ دیا”، جبکہ دوسرے نے پاکستانی بیٹنگ لائن کی تعریف کی، کہتے ہوئے کہ "378 کا اسکور جنوبی افریقا کے لیے چیلنج ہے”۔ یہ ردعمل میچ کی دلچسپی کو بڑھاتا ہے، جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نئی سائیکل کو مزید دلچسپ بنائے گا۔

اہم اعداد و شمار کا خلاصہ جدول

پہلو تفصیلات
پاکستان پہلی اننگز 378 رنز (آل آؤٹ)؛ متھوسامی 6/؟؟ (رضوان 75، آغا 93، شفیق 2، بابر 23)
جنوبی افریقا پہلی اننگز 91/2 (28 اوورز)؛ مارکرم 20، ملڈر 17؛ ریکلٹن اور زورزی کریز پر
متھوسامی کی کارکردگی 6 وکٹیں؛ 102ویں اوور میں 3 وکٹیں (رضوان، نعمان، ساجد)
پہلے دن کا اسکور پاکستان 313/5 (شفیق 2، مسعود 76، امام 93، سعود 0، بابر 23)
میچ کا آغاز 12 اکتوبر 2025، قذافی اسٹیڈیم؛ ٹاس پاکستان جیتا، بیٹنگ کا فیصلہ

لاہور ٹیسٹ کا دوسرا دن پاکستان کی بیٹنگ کو متھوسامی کی اسپن اٹیک نے چیلنج کیا، جو 378 رنز کا اسکور دینے کے باوجود 6 وکٹوں سے محدود رہا، جو جنوبی افریقا کو امید دیتا ہے۔ رضوان (75) اور آغا (93) کی سنچریاں قریب ہونے سے پاکستان کی بیٹنگ لائن کی مضبوطی واضح ہوئی، مگر متھوسامی کی 102ویں اوور میں 3 وکٹیں میچ کا موڑ ثابت ہوئیں۔ جنوبی افریقا کا 91/2 اسکور، جو 287 رنز سے پیچھے ہے، پاکستان کی اسپنرز (نعمان اور آصف) کو موقع دیتا ہے، جو پچ کی مدد سے مخالف بیٹنگ کو دباؤ میں رکھ سکتے ہیں۔

شان مسعود کی قیادت اور شاہین کی واپسی فاسٹ بولنگ کو توازن دیں گی، جبکہ جنوبی افریقا کی اسپن ٹرائی (متھوسامی، ہارمر، سبرائن) پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ پہلے دن کا 313/5 اسکور پاکستان کی گھر کی برتری کو ظاہر کرتا ہے، جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نئی سائیکل میں کامیابی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بحث میچ کی دلچسپی کو بڑھاتی ہے، جو پاکستان کو فائدہ دے سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ میچ اسپن کی جنگ کا میدان ہے، جو پاکستان کی جیت کی امید رکھتا ہے، بشرطیکہ بیٹنگ استحکام برقرار رہے – یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جو ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی کو زندہ کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین