عدم استحکام کا فائدہ بیرونی قوتیں اٹھائیں گی: خرم نواز گنڈاپور

افواج پاکستان مشرقی اور مغربی بارڈر پر برسرپیکار ہیں، قومی یکجہتی ناگزیر

لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی راہنما خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے، مغربی اور مشرقی سرحدوں پر افواج پاکستان وطن عزیز کا جرأت مندانہ دفاع کررہی ہیں، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے لئے یکجان ہواجائے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی جارحیت کے ساتھ ساتھ وطن عزیز دہشت گردی کی لپیٹ میں بھی ہے، روزانہ کی بنیاد پر افسران اور جوان جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، دشمن عدم استحکام چاہتا ہے، اس وقت پاکستان پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے، اگر حالات کو بگاڑا گیا تو اس کا فائدہ یقینا بیرونی دنیا اٹھائے گی لہٰذا طاقت اور تشدد کے بے رحم استعمال سے گریز کیا جائے، معاملات بند گلی کی طرف دھکیلنے کا نقصان ہو گا، اس وقت جس سیاسی سوچ اور اپروچ کی ضرورت ہے اُس کا فقدان ہے، انہوں نے کہا کہ مریدکے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر بہت خوفناک مناظر نمایاں کئے جارہے ہیں، عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی ہے، یقینا دشمن ملک جلتی پر تیل گرائے گا، لہٰذا معاملات کو سمجھداری کے ساتھ سنبھالا جائے۔

اسے بھی پڑھیں: حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں تمام 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کردیا

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ خرم نواز گنڈاپور کے حالیہ بیانیے کے پس منظر میں قومی یکجہتی، احتیاط اور حکمت عملی کی ضرورت واضح ہے۔ موجودہ صورتحال میں فوجی اور سکیورٹی اداروں کی بیداری اور محبِ وطن جوانوں کی قربانیاں قوم کے وقار اور سلامتی کی بنیاد ہیں۔ سرحدوں پر مردِ وطن کا پختہ دفاع ہر شہری کے لیے اعزاز ہے۔ ایسے حالات میں قومی مفاد کو ذاتی یا فریقانہ مفادات پر فوقیت دینا ضروری ہے تاکہ بیرونی و اندرونی قوتیں ہماری کمزوری کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

ملکی سالمیت اور وطن کے دفاع کے تناظر میں فروعی اختلافات پسِ پشت رکھنے کا تصور محض اخلاقی دعویٰ نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے۔ جب قوم متحدہ موقف اپناتی ہے تو دشمن کی حکمتِ عملی ناکارہ بن جاتی ہے — داخلی استحکام بیرونی دباؤ کا جواب ہے۔ سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ اتحادِ فکر کی فضا پیدا کریں، جذباتی بیانات سے خودداری اختیار کریں اور ہر سطح پر مثبت گفت‌وگو کو فروغ دیں۔

خرم نواز گنڈاپور نے جس طرح طاقت و تشدد کے بے رحم استعمال سے روکنے کی آواز بلند کی، وہ اسی سمت کا اشارہ ہے جو ملک کو درپیش بڑے خطرات سے بچا سکتی ہے۔ تشدد نہ صرف براہِ راست انسانی اور مالی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ معاشرتی دراڑیں بھی گہری کرتا ہے جو برسوں میں بھرنا ممکن ہوتا ہے۔ قانون کا دائرہ کار اور آئینی طریقِ کار ہی مسائل کا پائیدار حل مہیا کرتے ہیں؛ لہٰذا جمہوری اصولوں کی پاسداری اور غیرقانونی رویوں سے اجتناب ملک کے طویل مدتی مفاد میں ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین