راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا ہے، جو 26 نومبر 2024 کے ڈی چوک احتجاج کیس میں ان کی مسلسل عدم حاضری پر مبنی ہے۔ عدالت جج امجد علی شاہ نے حاضری معافی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ طلبی کے باوجود بار بار پیش نہ ہونا عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے، جو قانونی جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ حکم تھانہ صادق آباد میں درج کیس کا حصہ ہے، جہاں آج علیمہ خان پر فرد جرم عائد ہونا تھی، مگر ان کی عدم موجودگی نے عدالت کو سخت قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وارنٹ کی تعمیل کے لیے ٹیم اڈیالہ جیل جائے گی، جہاں علیمہ خان توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے پہنچیں گی، جو اس کیس کی پیچیدگیوں کو مزید بڑھاتا ہے۔
کیس کا پس منظر
تھانہ صادق آباد میں درج یہ کیس 26 نومبر 2024 کے ڈی چوک احتجاج سے جڑا ہے، جہاں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں نے شہر اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی، جو عوامی اجتماعات پر پابندی اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی تھی۔ مظاہرین نے ڈی چوک کی طرف بڑھتے ہوئے 20,000 سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کی، جہاں پولیس اور فورسز نے شدید ٹیئر گیس شیلنگ کا استعمال کیا۔ اس احتجاج میں علیمہ خان، ان کی بہن عظمیٰ، اور دیگر پی ٹی آئی کارکنوں کو نامزد کیا گیا، جو حکومت مخالف نعرے بازی، توڑ پھوڑ، اور سیکشن 144 کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدالت نے آج فرد جرم عائد کرنے کا ارادہ کیا تھا، مگر علیمہ خان کی عدم حاضری نے اسے وارنٹ گرفتاری تک لے جانے پر مجبور کر دیا۔
عدالت کی ریمارکس
عدالت جج امجد علی شاہ نے حاضری معافی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے کہ طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے، جو قانونی نظام کی توہین ہے۔ عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے فوری تفتیشی آفیسر کو اس کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا، جو علیمہ خان کو گرفتار کرکے کل بدھ 15 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ریمارکس نہ صرف اس کیس کی شدت کو واضح کرتے ہیں بلکہ عدالتی احترام کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جو دیگر مقدمات کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔
پولیس کا اقدام
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے ایک خصوصی ٹیم اڈیالہ جیل جائے گی، جہاں علیمہ خان توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے پہنچیں گی۔ جیل سماعت کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، جو اس کیس کی پیچیدگیوں کو مزید بڑھاتا ہے۔ راولپنڈی میں علیمہ خان کے خلاف کل 12 کیسز درج ہیں، جن میں سے صرف ایک میں انہیں ضمانت مل چکی ہے، جبکہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کے خلاف 2 کیسز ہیں، جن میں ضمانت کی درخواست مسترد ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علیمہ خان کی قانونی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
ڈی چوک احتجاج کا تناظر
26 نومبر 2024 کا ڈی چوک احتجاج پی ٹی آئی کی جانب سے ملک بھر میں مظاہرہ کا اعلان تھا، جو انتخابی مندوبیت کی بحالی، قید پارٹی رہنماؤں کی رہائی، اور 26ویں ترمیم کی واپسی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ ہزاروں کارکنوں نے مختلف صوبوں سے اسلام آباد کا رخ کیا، جو حکومت کی پابندیوں کے باوجود ڈی چوک کی طرف بڑھے۔ سیکیورٹی فورسز نے ٹیئر گیس اور دیگر ذرائع سے انہیں روکا، جس میں جھڑپوں میں ایک پولیس کانسٹیبل محمد مبشر (46 سالہ، مظفرگڑھ سے) شدید زخمی ہوئے اور بعد میں شہید ہو گئے۔ اس احتجاج میں عمران خان، بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، اور دیگر سینئر رہنما نامزد ہیں، جو راولپنڈی میں 29 کیسز کا حصہ ہے، جن میں 1,383 ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے۔
راولپنڈی کیسز کی تفصیلات
راولپنڈی میں ڈی چوک احتجاج سے جڑے 29 کیسز درج ہیں، جن میں عمران خان 7 میں، اور بشریٰ بی بی تمام 29 میں نامزد ہیں۔ علیمہ خان 12 کیسز کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں صرف ایک میں ضمانت ملی ہے۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ 2 کیسز میں ملوث ہیں، جن میں ضمانت کی درخواست مسترد ہوئی۔ یہ کیسز فساد، توڑ پھوڑ، توہین عدالت، اور دہشت گردی کے الزامات پر مبنی ہیں، جو پی ٹی آئی کی تحریک کو قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس حکم نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا، جہاں پی ٹی آئی حامیوں نے اسے "سیاسی انتقام” قرار دیا، جبکہ دوسرے نے عدالتی عمل کی حمایت کی۔ ایکس پر #JusticeForAleema ٹرینڈ کر رہا ہے، جو اس کیس کی سیاسی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| عدالت کا حکم | ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری؛ 15 اکتوبر کو پیش کریں |
| کیس کا پس منظر | 26 نومبر 2024 ڈی چوک احتجاج؛ تھانہ صادق آباد، فرد جرم عائد ہونی تھی |
| عدالت کے ریمارکس | طلبی کے باوجود عدم حاضری عدالتی رکاوٹ؛ معافی مسترد |
| پولیس کا اقدام | ٹیم اڈیالہ جیل جائے گی؛ توشہ خانہ کیس سماعت کے بعد گرفتاری |
| راولپنڈی کیسز | 29 کیسز؛ علیمہ 12 میں ملوث، 1 میں ضمانت؛ عظمیٰ 2 میں |
راولپنڈی ATC کا یہ حکم علیمہ خان کے خلاف قانونی جوابدہی کی ایک واضح مثال ہے، جو 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کیس میں ان کی مسلسل عدم حاضری پر مبنی ہے، اور عدالتی ریمارکس عدالتی وقار کی حفاظت کو اجاگر کرتے ہیں۔ طلبی اور معافی کی مستردگی عدالتی عمل کی سختی کو ظاہر کرتی ہے، جو راولپنڈی کے 29 کیسز (عمران خان 7 میں، بشریٰ 29 میں) کی شدت کو بڑھاتی ہے۔ پولیس کا اڈیالہ جیل سے گرفتاری کا منصوبہ اس کیس کی فوری تعمیل کو یقینی بناتا ہے، جو توشہ خانہ کیس سے جڑتا ہے۔
تاہم، سوشل میڈیا پر #JusticeForAleema جیسے ٹرینڈز اسے سیاسی انتقام کا الزام لگاتے ہیں، جو پی ٹی آئی کی تحریک کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ حکم قانونی نظام کی مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے، جو احتجاج کیسز میں 1,383 ضمانتوں کے باوجود جاری ہے، مگر سیاسی تناؤ اسے متنازعہ بنا رہا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ایک قانونی قدم ہے جو جوابدہی کو فروغ دیتا ہے، بشرطیکہ سیاسی مداخلت سے بچا جائے – یہ عدالتی عمل کی فتح ہے جو استحکام لائے گی۔





















