چمن میں افغان فورسز کی سول آبادی پر بلااشتعال فائرنگ ، پاک فوج کا بھرپور جواب

کشیدہ صورتحال کے باعث چمن کے تمام تعلیمی ادارے آج بند کر دیے گئے ہیں اور پولیو مہم کو بھی عارضی طور پر منسوخ کر دیا

کوئٹہ:افغان فورسز کی جانب سے ایک بار پھر چمن میں سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقے میں اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے رہائشی علاقوں پر گولے برسائے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور چمن کی گلیوں میں سناٹے کا سماں چھا گیا۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ویش منڈی اور اسپن بولدک میں افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 2 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ جوابی فائرنگ کے بعد دونوں جانب سے گولہ باری کا سلسلہ رک گیا ہے۔

حکام کے مطابق، اس وقت سرحدی علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جب کہ ممکنہ کسی بھی نئی جارحیت کے خدشے کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

کشیدہ صورتحال کے باعث چمن کے تمام تعلیمی ادارے آج بند کر دیے گئے ہیں اور پولیو مہم کو بھی عارضی طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات فی الحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں، تاہم بارڈر ایریا میں گشت مزید بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

چمن بارڈر پر ایک بار پھر فائرنگ کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ افغان فورسز کی جانب سے سول آبادی پر حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی بھی سنگین پامالی ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ سرحدی مسائل کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، مگر بار بار کی اس قسم کی اشتعال انگیز کارروائیاں خطے میں امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

افغان طالبان کی حکومت سے پاکستان نے گزشتہ برسوں میں تجارتی، انسانی ہمدردی اور سیکیورٹی تعاون کے کئی مواقع فراہم کیے، مگر ان کے زیرِ اثر سیکیورٹی فورسز کی ایسی حرکات دونوں ممالک کے درمیان موجود اعتماد کی فضا کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

چمن ایک حساس اور تجارتی لحاظ سے اہم گزرگاہ ہے، جس کے بند ہونے سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ دونوں جانب کے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی مفلوج ہو جاتی ہے۔ اس طرح کے واقعات خطے کے امن، تجارت، اور انسانی روابط کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے ذریعے سرحدی کشیدگی کو کم کریں۔ پاکستان کی طرف سے مؤثر مگر ذمہ دارانہ ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین