چمن:افغان طالبان کی جانب سے چمن اور اسپن بولدک کے سرحدی علاقوں میں کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ کا پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیتے ہوئے جارح دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دشمن کے متعدد ٹھکانے، پوسٹیں اور ٹینک بمعہ عملہ تباہ کر دیے۔ بھرپور کارروائی کے بعد افغان طالبان نے پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاک فوج نے دشمن کی جارحیت کے جواب میں وہ طاقت اور صلاحیت دکھائی جس نے حملہ آوروں کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ دشمن کے کئی اہم کمانڈر مارے گئے جبکہ متعدد جنگجو زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شکست خوردہ افغان طالبان اپنی ناکامی چھپانے کے لیے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت ویڈیوز جاری کر رہے ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے پاک فوج کے ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے — زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور پاکستانی فورسز مکمل کنٹرول میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پاک فوج نہ صرف افغان طالبان بلکہ فتنۃ الخوارج کے کسی بھی ممکنہ حملے یا اشتعال انگیزی کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو ردعمل توقع سے کہیں زیادہ شدید اور فیصلہ کن ہو گا۔
چمن اور اسپن بولدک کا محاذ ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات کے نازک مرحلے کو اجاگر کر رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر بار بار کی اشتعال انگیزی نے اعتماد کے رشتے کو متاثر کیا ہے۔
افغان طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے ہونے والی سرحدی خلاف ورزیوں نے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری پر سوال اٹھایا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، پاک فوج کا فوری اور مضبوط ردعمل اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع میں کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں۔
پاکستان کی پالیسی ہمیشہ مذاکرات اور امن کی حمایت پر مبنی رہی ہے، مگر جب دشمن طاقت کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کرے تو جواب بھی اسی زبان میں دیا جاتا ہے۔ اسپن بولدک میں جنگ بندی کی افغان طالبان کی درخواست اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی عسکری قوت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
دوسری جانب، افغان طالبان کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور سوشل میڈیا مہم اس بات کی علامت ہے کہ وہ زمینی ناکامیوں کو پروپیگنڈے کے ذریعے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر پاک فوج کے نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ حب الوطنی کے مقابلے میں اس طرح کی چالیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ افغان قیادت اپنی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ اگر وہ واقعی ایک خودمختار اور پرامن ریاست کے طور پر دنیا میں تسلیم ہونا چاہتے ہیں تو پاکستان جیسے ہمسائے کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ تعاون کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ ورنہ، ہر بار کی جارحیت کا انجام ایک ہی ہوگا — مکمل شکست اور مزید تنہائی۔





















