مطابق، لا نینا کی موجودہ لہر ستمبر 2025 میں شروع ہوئی اور اس کے اثرات فروری 2026 تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
اس صورت حال نے پاکستان کے لیے سردی کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی سیلاب کے تباہ کن اثرات سے نبرد آزما ہے۔
زراعت اور خوراک پر گہرے اثراتفوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ سیلابوں نے پنجاب میں 12 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین کو زیر آب کر دیا، جس سے چاول، کپاس اور گنے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس تباہی نے نہ صرف کھریف کی فصلوں کی کٹائی کو متاثر کیا بلکہ ربیع کے موسم کی بوائی پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔نتیجتاً، خوراک کی قلت اور روزگار کے مواقع میں کمی نے ملکی معیشت پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید سردی زرعی سرگرمیوں کو مزید مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے، جس سے غذائی بحران گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔
صحت اور رہائش کے مسائلصحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی کے باعث صحت کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ سیلابوں سے 229,000 سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس صورت حال میں نزلہ، زکام، ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر ڈینگی کے کیسز میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو پہلے ہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
پہاڑی علاقوں میں نئے خطراترپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدید سردی کے باعث پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے اور زراعت کو بھی مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔حکومتی اور بین الاقوامی اداروں کی تیاریماہرین نے حکومت اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کریں۔ان اقدامات میں متاثرہ علاقوں میں عارضی رہائش گاہوں کا قیام، گرم کپڑوں اور خوراک کی تقسیم، اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ اس بحران سے نمٹا جا سکے۔
تجزیہیہ صورت حال پاکستان کے لیے ایک کثیر الجہتی چیلنج پیش کرتی ہے۔ لا نینا کے اثرات نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے، زراعت اور صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی عیاں کرتے ہیں۔ حالیہ سیلابوں نے پہلے ہی ملکی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور اب شدید سردی اس صورت حال کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری اور طویل مدتی حکمت عملی تیار کرے، جس میں نہ صرف امدادی کاموں پر توجہ دی جائے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار حل بھی تلاش کیے جائیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس غیر معمولی سردی کے لیے تیاری کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
یہ رپورٹ پاکستان کے موجودہ حالات اور آنے والے چیلنجز کی سنگینی کو واضح کرتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ بروقت اقدامات ہی اس بحران سے نمٹنے کی کلید ہیں۔




















