واشنگٹن: عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں بھارت کی خودمختار خارجہ پالیسی کے بلندوبانگ دعوؤں کی حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ امریکی دباؤ اور سخت تجارتی پابندیوں کے خوف نے بھارت کو مجبور کردیا کہ وہ روس سے تیل کی درآمدات میں 50 فیصد کی نمایاں کمی کردے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کی اقتصادی ترجیحات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کی آزادی پر بھی گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔
امریکی دباؤ اور بھارت کی پسپائی
وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جن میں امریکا نے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اگر وہ روس سے تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے تو اسے سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان نتائج میں اضافی محصولات (ٹیرف) اور دیگر معاشی پابندیاں شامل ہیں جو بھارت کی معیشت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔ امریکی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بھارت کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط رکھنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ روس کے ساتھ اپنے توانائی کے تعلقات کو محدود نہ کرے۔
اس امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریوں نے فوری طور پر روس سے خام تیل کی درآمدات کو نصف تک کم کردیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی بڑی ریفائنریاں اب اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کرچکی ہیں اور روس سے تیل کی کم ہوتی ہوئی ترسیل اس کی واضح عکاسی ہے۔ یہ اقدام بھارت کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا، کیونکہ روس سے سستے تیل کی خریداری نے گزشتہ چند برسوں میں اس کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مرحلہ وار تبدیلی کا منصوبہ
باخبر ذرائع کے مطابق، بھارتی تیل کمپنیوں نے ایک منظم منصوبے کے تحت روس سے تیل کے انحصار کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہ عمل دسمبر 2025 سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے تحت بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش تیز کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، بھارت کے لیے تیل کی فراہمی کے اہم ذرائع بن سکتے ہیں۔ تاہم، یہ تبدیلی بھارت کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ روس سے ملنے والا تیل نسبتاً کم قیمت پر دستیاب تھا۔
امریکی صدر کا دعویٰ اور بھارتی تردید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روس سے تیل کی خریداری بند کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا، "ہم بھارت کے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے سے خوش نہیں تھے، لیکن اب یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔ مودی نے مجھے بتایا کہ وہ اسے روک دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ امریکا اور بھارت کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب، بھارت کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کی اور کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی آزادانہ ہے اور وہ کسی ملک کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتا۔ تاہم، وزارت خارجہ کا یہ بیان حقیقت کے برعکس دکھائی دیتا ہے، کیونکہ بھارتی ریفائنریوں کے عملی اقدامات امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کی واضح دلیل پیش کرتے ہیں۔
بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات
یہ واقعہ بھارت کی خودمختار خارجہ پالیسی کے دعوؤں پر ایک اور دھچکا ہے۔ ماضی میں بھی بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی کو آزاد اور غیر جانبدار قرار دیا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں مغربی ممالک، بالخصوص امریکا کے دباؤ کے سامنے اس کی پالیسیوں میں لچک دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی معاشی ترقی اور عالمی تجارت میں اس کا بڑھتا ہوا انحصار اسے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینے پر مجبور کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں روس جیسے روایتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
بھارت کا یہ فیصلہ عالمی سیاست اور معاشی دباؤ کے پیچیدہ جال کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف بھارت اپنی معاشی ترقی کے لیے سستی توانائی کے ذرائع پر انحصار کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف مغربی ممالک کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط رکھنے کی کوشش میں ہے۔ روس سے تیل کی خریداری میں کمی کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات فی الحال زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ فیصلہ بھارت کے لیے طویل مدتی چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ متبادل ذرائع سے تیل کی خریداری اس کے لیے مہنگی پڑ سکتی ہے، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، بھارت کی خارجہ پالیسی کی آزادی پر سوالات اٹھنا ناگزیر ہے۔ روس کے ساتھ تاریخی تعلقات اور حالیہ برسوں میں گہرے ہوتے ہوئے اقتصادی تعاون کے باوجود، امریکی دباؤ کے سامنے بھارت کا جھکنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے اس کی خودمختاری محدود ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر بھارت کے کردار اور اس کی غیر جانبداری کے دعوؤں کو مزید جانچنے کا باعث بنے گی۔





















