واشنگٹن: پاکستان کی سرحدوں کے قریب شدت پسند عناصر کی کارروائیوں کے سلسلے میں ایک اور ناکام کوشش سامنے آئی ہے، جہاں شمالی وزیرستان کے انتہائی حساس علاقے میرعلی میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک منظم خودکش حملے کی سازش کو بروقت ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں چار دہشت گردوں کو فوری طور پر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ قومی اداروں کو کسی بھی قسم کی ہلاکت یا نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ واقعہ نہ صرف علاقائی سلامتی کی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پاکستانی افواج کی تیاری اور ردعمل کی صلاحیتوں کی بھی ایک زندہ مثال ہے۔
حملے کی تفصیلات
مقامی ذرائع اور سکیورٹی رپورٹس کے مطابق، میرعلی کے ایک اہم سیکیورٹی کیمپ کے قریب ایک دہشت گرد نے بارود سے لدھی ہوئی گاڑی کو کیمپ کی بیرونی دیوار سے آکر ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ کیمپ کی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا واضح منصوبہ رکھتا تھا، مگر سیکیورٹی فورسز کی انتہائی چوکس نگرانی نے اسے ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام بنا دیا۔ دھماکے کی شدت سے علاقے میں دھواں اٹھا اور آوازیں دور دور تک گونجیں، مگر فورسز کی فوری ردعمل کی وجہ سے مزید تباہی سے بچا لیا گیا۔
دھماکے کے فوراً بعد، تین اضافی حملہ آوروں نے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی، جو مسلح تھے اور ممکنہ طور پر مزید اندرونی حملے کی تیاری میں مصروف تھے۔ ان کی یہ کوشش بھی ناکام رہی جب سیکیورٹی اہلکاروں نے بیرونی حدود پر ہی انہیں گھیر لیا اور موثر فائرنگ کے ذریعے سب کو جگہ پر ہی ختم کر دیا۔ یہ پوری کارروائی چند منٹوں میں مکمل ہوئی، جس میں فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کر دیا۔ الحمدللہ، اس واقعے میں پاکستانی سیکیورٹی دستوں کا کوئی فرد بھی زخمی یا شہید نہ ہوا، جو ان کی دفاعی حکمت عملی کی کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے۔
وسیع تر تناظر
یہ حملہ اکیلا واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے، جہاں گزشتہ 48 گھنٹوں میں افغان طالبان کی مبینہ حمایت یافتہ 88 دہشت گردوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی او) کا نتیجہ ہیں، جو شمالی اور جنوبی وزیرستان، بنوں اور مہمند جیسے حساس اضلاع میں جاری ہیں۔ مثال کے طور پر، 13 سے 15 اکتبر کے درمیان خیبر پختونخوا میں 34 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں سے 18 صرف سپن وام علاقے میں مارے گئے، جبکہ جنوبی وزیرستان میں آٹھ اور بنوں میں آٹھ دیگر انجام کو پہنچے۔
ان کارروائیوں کا مقصد فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کے نیٹ ورکس کو توڑنا ہے، جو سرحد پار سے چلائے جاتے ہیں اور علاقائی استحکام کو چیلنج کرتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے حال ہی میں اعلان کیا کہ "عزمِ استحکام” کے تحت یہ آپریشنز جاری رہیں گے، جو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، انشاء اللہ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہ تسلسل نہ صرف دہشت گردوں کو روکتا ہے بلکہ ان کے حامیوں کو بھی واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
علاقائی چیلنجز اور پاکستانی ردعمل کی حکمت عملی
شمالی وزیرستان جیسے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی حالیہ لہر 2021 کے بعد سے شدت اختیار کر چکی ہے، جب افغان طالبان کی واپسی کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سرگرمیاں تیز کر دیں۔ عالمی رپورٹس، جیسے گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025، بتاتی ہیں کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو سرحد پار حمایت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، پاکستانی فورسز کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں اس رجحان کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
یہ واقعات پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جہاں حالیہ سرحدی جھڑپوں میں دونوں اطراف سے الزامات لگائے گئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے مدد مل رہی ہے، جبکہ کابل اسے مسترد کرتا ہے۔ اس باوجود، پاکستانی اداروں کا فوکس اندرونی سلامتی پر ہے، جہاں سینیٹائزیشن آپریشنز اور علاقائی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
یہ تازہ ترین کارروائی پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کی کامیابی کی ایک اور جھلک ہے، جو نہ صرف فوری خطرات کو روکتی ہے بلکہ طویل مدتی استحکام کی بنیاد رکھتی ہے۔ 88 دہشت گردوں کا خاتمہ گزشتہ دو دنوں میں ایک نمایاں کامیابی ہے، جو بتاتی ہے کہ انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، یہ اعدادوشمار سرحد پار حمایت کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی عکاسی کرتے ہیں، جہاں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے تعلقات علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ جب تک سرحدی حدود کو مکمل طور پر محفوظ نہ بنایا جائے، ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، جو وسائل اور انسانی جانوں پر بوجھ ڈالتی ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان جیسے اقدامات ضروری ہیں، مگر ان کی کامیابی سفارتی کوششوں پر منحصر ہے، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ بالآخر، افواج کا عزم اور عوامی حمایت ہی اس جنگ کی کلید ہے، جو دہشت گردی کے خلاف حتمی فتح کی ضمانت دے سکتی ہے۔





















