خواتین کے خواب بکھرنے لگے،سونے کی قیمت نے ہوش اڑا دیے

24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار 100 روپے کا زبردست اضافہ ہوا

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں اور صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے، کیونکہ ایک ہی دن میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ تیزی گزشتہ روز کی بلند سطحوں کے بعد ایک نئی چھلانگ ہے، جس نے سونے کو سرمایہ کاری کی دنیا میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ عالمی معاشی حالات، بڑھتی ہوئی طلب، اور سونے کی محفوظ اثاثے کے طور پر بڑھتی ہوئی ساکھ نے اس دھات کی قیمتوں کو تاریخی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا نیا ریکارڈ

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعہ کے روز سونے کی فی اونس قیمت میں 141 ڈالر کا حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ قیمت 4 ہزار 358 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔ یہ اضافہ عالمی معاشی عدم استحکام اور سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھنے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ تیزی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافے، اور ڈالر کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔

مقامی مارکیٹوں پر عالمی اثرات

عالمی مارکیٹ کی اس تیزی نے پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں کو بھی براہ راست متاثر کیا۔ کراچی، لاہور، اور دیگر بڑے شہروں میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار 100 روپے کا زبردست اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت میں 12 ہزار 89 روپے کا اضافہ ہوا، اور اب یہ 3 لاکھ 91 ہزار 718 روپے پر ٹھہری ہے۔ یہ تیزی مقامی صارفین کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ شادی بیاہ کے سیزن اور زیورات کی خریداری کے لیے سونے کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، مگر قیمتوں کی اس بلند سطح نے عام خریداروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی کی قیمت 167 روپے بڑھ کر 5 ہزار 504 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 143 روپے کے اضافے کے ساتھ 4 ہزار 718 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں یہ اضافہ بھی عالمی مارکیٹوں میں دھاتوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور سرمایہ کاری کے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔

سونے کی قیمتوں میں اضافے کے محرکات

ماہرین معاشیات کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی سطح پر مرکزی بینکوں، خاص طور پر چین، بھارت، برازیل، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں نے سونے کے ذخائر میں اضافہ شروع کر دیا ہے، جو سونے کی طلب کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا، روس، اور جرمنی جیسے ممالک میں سونے کے سکوں کی خریداری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے کہ سونا معاشی عدم استحکام کے دور میں سب سے محفوظ اثاثہ ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، 2026 تک سونے کی فی اونس قیمت 5 ہزار ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ یہ پیش گوئی سونے کی بڑھتی ہوئی طلب، عالمی معاشی بدحالی، اور ڈالر کی قدر میں ممکنہ کمی کے امکانات پر مبنی ہے۔ مزید برآں، جیو پولیٹیکل تناؤ، جیسے کہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات، نے بھی سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کیا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی دھات ہے جو معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی قدر برقرار رکھتی ہے۔

مقامی اثرات اور صارفین کی پریشانی

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے صارفین اور زیورات کی صنعت سے وابستہ افراد کو شدید متاثر کیا ہے۔ صرافہ بازاروں میں خریداری کی سرگرمیوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ عام صارفین کے لیے اتنی بلند قیمتوں پر سونا خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ زیورات بنانے والوں کا کہنا ہے کہ شادی کے سیزن میں سونے کی مانگ تو بڑھتی ہے، مگر قیمتوں کی اس سطح نے صارفین کو متبادل دھاتوں، جیسے کہ چاندی یا مصنوعی زیورات کی طرف دھکیل دیا ہے۔

دوسری جانب، سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ ان کے اثاثوں کی قدر کو بڑھا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سونے کی قیمتوں میں اتنی تیزی ممکنہ طور پر ایک بلبلہ (bubble) بھی بن سکتی ہے، جو مستقبل میں اچانک گراوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی معاشی منظرنامے کی پیچیدگیوں اور عدم استحکام کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر بڑھانے کا رجحان اور سرمایہ کاروں کا اس دھات کی طرف بڑھتا ہوا اعتماد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال دوہری چیلنج پیش کرتی ہے: ایک طرف، سونے کی بلند قیمتیں صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف، یہ سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش مواقع فراہم کر رہی ہیں۔

تاہم، اس تیزی کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے مسائل سے دوچار ہے، سونے کی قیمتوں میں اضافے سے مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ درآمد شدہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے اخراجات کے ساتھ مل کر یہ صورتحال عام پاکستانی کے لیے معاشی بوجھ کو بڑھا رہی ہے۔ مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی حالات، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں، اور جیو پولیٹیکل واقعات پر ہوگا۔ فی الحال، سونا اپنی چمک اور قدر کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، مگر اس کی قیمتوں کی یہ بلند پرواز کب تک جاری رہے گی، یہ ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب وقت ہی دے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین