ٹوٹے جھولے، اجڑی گھاس، لاہور کے پارکس کی زبوں حالی عروج پر

پارکس کسی بھی شہر کے پھیپھڑے ہوتے ہیں، جو آلودگی کو کم کرتے اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرتے ہیں

لاہور:کبھی باغوں کے شہر کے طور پر پہچانے جانے والا لاہور آج ویرانی، بدحالی اور ماحولیاتی زوال کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جہاں کبھی سرسبز درخت، مہکتی ہوا اور دلکش مناظر شہریوں کے ذہنوں کو تراوٹ بخشتے تھے، وہاں اب ٹوٹی بنچیں، اجڑی گھاس، کوڑے کے ڈھیر اور بوسیدہ باڑیں دکھائی دیتی ہیں۔

پنجاب حکومت کا "گرین اینڈ کلین مشن” اور شہری فلاح کے بلند بانگ دعوے زمین پر حقیقت بننے کے بجائے صرف بیانات تک محدود نظر آ رہے ہیں۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) جو شہری ماحول کو خوبصورت بنانے کا ذمے دار ادارہ ہے، اب اپنے اصل مینڈیٹ سے ہٹ چکا ہے۔ ادارہ اب سبزہ زاروں کی بحالی کے بجائے تقریبوں، لائٹنگ اور عارضی سجاوٹ پر وسائل خرچ کرنے میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر کے بیشتر پبلک پارکس عدم توجہی اور ناقص دیکھ بھال کے باعث تباہ حالی کا شکار ہیں۔ رہائشی علاقوں جیسے گلبرگ، جوہر ٹاؤن، چوبرجی، بھوپال نگر، سبزہ زار اور دیگر علاقوں میں قائم چھوٹے بڑے پارکس میں نہ گھاس باقی رہی ہے، نہ پودے، نہ صفائی کا کوئی انتظام۔ ٹوٹے جھولے، بجھے بلب، بوسیدہ باونڈری والز اور گندگی کے ڈھیر ان مقامات کو شہریوں کے لیے اجنبی اور غیر محفوظ بنا چکے ہیں۔

شہریوں کے مطابق پی ایچ اے صرف چند مخصوص پارکس جیسے گریٹر اقبال پارک، جلانی پارک اور فیروز پور روڈ کے اطراف کے کچھ مقامات پر توجہ دے رہی ہے جہاں تقریبوں، روشنیوں کی سجاوٹ اور نمائشی سرگرمیوں پر لاکھوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ مگر بی اور سی کیٹیگری کے سینکڑوں پارکس مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: آلودہ ترین ممالک کی تازہ فہرست میں پاکستان پہلے نمبر

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارکس کی تزئین و آرائش کے کئی منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، جب کہ گھاس کاٹنے، صفائی اور لائٹنگ کے ٹھیکے بھی متعدد علاقوں میں معطل پڑے ہیں۔ فنڈز جو عوامی بہبود اور سبزہ زاروں کی دیکھ بھال کے لیے مختص کیے گئے تھے، اب مختلف تشہیری تقریبات اور نمائشی سرگرمیوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ادارہ جاتی مینڈیٹ کے مطابق پی ایچ اے کا مقصد عوامی پارکس، گرین بیلٹس اور شہری لینڈ اسکیپ کی دیکھ بھال اور فروغ ہے، مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

لاہور کے پارکس کی زبوں حالی نہ صرف ماحولیاتی بحران کی علامت ہے بلکہ شہری منصوبہ بندی کی ناکامی کا بھی ثبوت ہے۔ پارکس کسی بھی شہر کے پھیپھڑے ہوتے ہیں، جو آلودگی کو کم کرتے اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرتے ہیں۔ مگر جب یہ فطری فضا ہی ماند پڑ جائے تو شہری صحت، ذہنی سکون اور سماجی ہم آہنگی سب متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق لاہور جیسے میگا سٹی میں فی کس سبزہ زار کی دستیابی عالمی معیار سے کہیں کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک شہری کے لیے کم از کم 9 مربع میٹر سبزہ ہونا چاہیے، مگر لاہور میں یہ شرح بمشکل 2 مربع میٹر رہ گئی ہے۔

اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو لاہور کا ’’شہرِ باغاں‘‘ کا لقب محض تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ایچ اے کو دوبارہ اپنے اصل مشن — سبزہ، صفائی اور پائیدار شہری ماحول — پر واپس لایا جائے، اور تشہیری سرگرمیوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دی جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین