حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے خاصی توجہ حاصل کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے بھارت کے خلاف میچ ہارنے کے بعد بھارتی کھلاڑی سمرتی مندھانا کے پاؤں چھوئے۔ یہ تصویر مختصر پیغامات کی سائٹ ایکس کے علاوہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئی۔ تاہم، تفصیلی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تصویر حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے ذریعے بنائی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ہم اس وائرل تصویر کے پس منظر، دعوؤں، اور فیکٹ چیکنگ کے نتائج کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
وائرل تصویر کا پس منظر
یہ تصویر 5 اکتوبر 2025 کو دبئی میں ہونے والے آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے ایک میچ سے منسوب کی گئی، جس میں پاکستان اور بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ میچ کے بعد 6 اکتوبر کو ایک بھارتی صارف نے ایکس پر یہ تصویر شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ "پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے بھارت سے ہار کے بعد سمرتی مندھانا کے قدم چھوئے۔” اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی اور کئی فیس بک پیجز سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر یہ تصویر وائرل ہوگئی۔
تصویر میں فاطمہ ثنا کو مبینہ طور پر سمرتی مندھانا کے سامنے جھکتے ہوئے دکھایا گیا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ ان کے پاؤں چھو رہی ہیں۔ یہ دعویٰ کرکٹ شائقین کے لیے چونکا دینے والا تھا، کیونکہ ایسی حرکت کھیل کے میدان میں غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔
فیکٹ چیکنگ کا عمل
اس تصویر کی صداقت جانچنے کے لیے کئی سطحوں پر تحقیق کی گئی:
میچ کی فوٹیجز کا جائزہ: 5 اکتوبر کے پاک-بھارت میچ کی مکمل ویڈیو فوٹیجز اور کمنٹری کا بغور جائزہ لیا گیا۔ میچ کے دوران یا اس کے اختتام پر فاطمہ ثنا اور سمرتی مندھانا کے درمیان ایسی کوئی صورتحال دیکھنے میں نہیں آئی جس میں فاطمہ نے سمرتی کے پاؤں چھوئے ہوں۔ دونوں کھلاڑیوں نے میچ کے بعد روایتی ہینڈ شیک کیا، جو کہ کرکٹ میچز میں عام ہے۔
ڈیجیٹل فارنزک ٹولز کا استعمال: تصویر کی صداقت کی تصدیق کے لیے جدید ڈیجیٹل میڈیا فارنزک ٹولز استعمال کیے گئے۔ ان ٹولز نے واضح کیا کہ تصویر میں ترمیم کے آثار موجود ہیں اور یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ تصویر کے پکسلز، روشنی، اور دیگر تکنیکی پہلوؤں میں تضادات پائے گئے جو کہ ایسی تصاویر کی نشاندہی کرتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔
سوشل میڈیا پوسٹس کی جانچ: ایکس اور فیس بک پر اس تصویر کے ساتھ کیے گئے دعوؤں کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ پتا چلا کہ یہ تصویر سب سے پہلے ایک بھارتی صارف کی پوسٹ سے وائرل ہوئی، لیکن اس دعوے کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت یا گواہ پیش نہیں کیا گیا۔
میچ کے دیگر ذرائع سے تصدیق: میچ کی آفیشل رپورٹس، کھلاڑیوں کے انٹرویوز، اور میڈیا کوریج کا جائزہ لیا گیا، لیکن کہیں بھی اس واقعے کا ذکر نہیں ملا۔
نتائج
مذکورہ بالا تحقیقات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وائرل تصویر جعلی ہے اور اس کا کسی حقیقی واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تصویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی اور اسے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ فاطمہ ثنا اور سمرتی مندھانا کے درمیان میچ کے دوران یا بعد میں ایسی کوئی صورتحال پیش نہیں آئی جس سے اس دعوے کی تصدیق ہو۔
سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا اثر
غلط معلومات اور جعلی تصاویر کا پھیلاؤ سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسی تصاویر نہ صرف کھلاڑیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ شائقین کے درمیان غلط فہمیاں اور تناؤ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر پاک-بھارت کرکٹ میچز، جو کہ جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں، ایسی جعلی خبروں کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر جعلی مواد کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک واضح مثال ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز اب اس قدر حقیقت پسندانہ ہو سکتی ہیں کہ عام صارفین کے لیے ان کی صداقت کو جانچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ صارفین کسی بھی sensنsational خبر یا تصویر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق معتبر ذرائع سے کریں۔ کرکٹ جیسے کھیل، جو کہ جذباتی اور ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں، کو سیاسی یا سماجی ایجنڈوں کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ جعلی مواد کی نشاندہی اور اسے ہٹانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ فیکٹ چیکنگ تنظیموں اور صحافتی اداروں کا کردار بھی اس سلسلے میں اہم ہے، کیونکہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کر کے غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں۔
آخر میں، فاطمہ ثنا اور سمرتی مندھانا دونوں ہی اپنے ملکوں کی باصلاحیت کھلاڑی ہیں، اور انہیں ایسی جعلی خبروں سے جوڑنا نہ صرف ان کی عزت کے خلاف ہے بلکہ کھیل کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کھیل کو کھیل کی طرح ہی دیکھیں اور اسے غیر ضروری تنازعات سے دور رکھیں۔





















