پی ٹی وی کی معروف نیوز کاسٹر عشرت کا اپنی موت کی افواہوں پر مسکراتا ہوا جواب

ابھی ابھی ریڈیو پروگرام کر کے آئی ہوں، اور آج تو میرے پاس لحاف دھونے جیسے گھریلو کاموں کی لمبی فہرست ہے،پیغام

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے سنہری دور کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کے انتقال کی جھوٹی خبریں گزشتہ روز سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں اور معمول کے مطابق اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ عشرت فاطمہ، جنہیں پی ٹی وی کے ناظرین آج بھی انتہائی عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں، ان افواہوں سے خود بھی حیران رہ گئیں۔ جب سوشل میڈیا پر یہ جھوٹا دعویٰ وائرل ہوا کہ وہ انتقال کر گئی ہیں، تو ان کے مداحوں اور رشتہ داروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

بعد ازاں عشرت فاطمہ نے معروف میزبان توثیق حیدر کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے افواہوں کی تردید کی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا،
"میں ابھی ابھی ریڈیو پروگرام کر کے آئی ہوں، اور آج تو میرے پاس لحاف دھونے جیسے گھریلو کاموں کی لمبی فہرست ہے!”
ان کا یہ پُر اعتماد اور مزاح سے بھرپور انداز سن کر مداحوں نے سکون کا سانس لیا۔ انہوں نے سب سے درخواست کی کہ صرف صحت مند لمبی زندگی کی نہیں بلکہ عزت اور وقار کے ساتھ بقا کی دعا کریں۔یاد رہے کہ عشرت فاطمہ نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا تھا، جہاں انہوں نے مشہور پروگرام کھیل اور کھلاڑی کی میزبانی کی۔

ان کی پختہ اردو، باوقار اندازِ گفتگو اور اعتماد بھری آواز نے جلد ہی انہیں پی ٹی وی کے نو بجے کے خبرنامے کی علامت بنا دیا۔ ان کی موجودگی ناظرین کے لیے محض ایک نیوز کاسٹر نہیں بلکہ گھر کے فرد کی حیثیت رکھتی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عشرت فاطمہ نے ابتدا میں موسم کا بلیٹن پڑھنے کی تیاری کی تھی مگر اچانک خیال آیا کہ نیوز ریڈنگ بھی آزمائی جائے — اور وہیں سے ان کے شہرت کے سفر کا آغاز ہوا، جو آج بھی پی ٹی وی کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔

ان کی آواز، متانت اور شخصیت نے صحافت کے شعبے میں آنے والی نسلوں کے لیے پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ذمہ داری کی مثال قائم کی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین