امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کو ختم کرنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں، بلکہ اگر وہ چاہیں تو یہ تنازع فوراً ختم ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جنگوں کا خاتمہ پسند ہے اور وہ ہمیشہ ایسے اقدامات کے حق میں ہیں جو دنیا میں امن لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے وہ مکمل طور پر باخبر ہیں اور اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے بات چیت کے دوران ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ ان کی مداخلت سے پاک بھارت جنگ ٹل گئی اور لاکھوں جانیں بچ گئیں۔
انہوں نے فخر کے ساتھ کہا،مجھے جنگیں رکوانا پسند ہے، اور اگر میں چاہوں تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تنازع بھی فوراً ختم کروا سکتا ہوں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
گزشتہ کئی روز سے افغانستان کی سرحدی پٹی سے پاکستان کے مختلف سرحدی علاقوں پر حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ان حملوں کے جواب میں پاکستانی افواج نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد عسکریت پسند مارے گئے۔
عسکری ذرائع کے مطابق، پاکستانی کارروائیوں کا ہدف وہ گروہ تھے جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کارروائیوں کے بعد افغانستان کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
تاہم، اس کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے بحال رہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا، جسے بعد میں مزید توسیع دے دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دوحہ میں جاری مذاکرات کے دوران افغان طالبان حکومت اور پاکستانی وفد کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ہفتے کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو وہ امن کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق، علاقائی امن صرف دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے ایک بار پھر یہ تاثر ابھرا ہے کہ وہ خود کو عالمی امن کا ضامن سمجھتے ہیں اور اپنی سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرنے میں بھرپور مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم، جنوبی ایشیا کا زمینی حقائق پر مبنی پیچیدہ ماحول محض ایک بیان سے نہیں بدل سکتا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود مسائل صرف عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ ان میں سیاسی، معاشی اور سرحدی پہلو بھی گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ سفارتی نرمی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، مگر اصل امتحان یہ ہوگا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میز پر کس حد تک حل کر پاتے ہیں۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ امریکہ واقعی کوئی فعال کردار ادا کرے گا یا نہیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی توجہ ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی جانب موڑنے میں کامیاب رہا ہے۔





















