فوج نے عوام کے دل جیت لیے، خوارج کے ہاتھوں تباہ مساجد میں دوبارہ ’’صدائے اللہ اکبر‘‘

فرنٹیئر کور کے انجینئرز اور جوانوں نے نہ صرف ان عبادت گاہوں کی تعمیر نو کی بلکہ انہیں جدید سہولیات سے بھی آراستہ کیا

باجوڑ کے علاقے میں امید اور ایمان کی روشنی ایک بار پھر جگمگا اٹھی ہے، جہاں فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) نے خوارج کے ہاتھوں تباہ ہونے والی دو تاریخی مساجد مسجد سلیمان خیل اور مسجد اعراب کی مکمل مرمت اور تزئین و آرائش کا منصوبہ مکمل کرلیا ہے۔یہ وہی مساجد تھیں جو دہشت گردی کی اندھی لہر میں بری طرح متاثر ہوئیں، ان کے منارے زخموں کی کہانی سناتے اور مصلے ملبے تلے دبے رہ گئے تھے۔ مگر اب وہی مساجد ایک نئے عزم اور روحانی جوش کی علامت بن چکی ہیں۔

امن کی بحالی کا عملی مظہر

فرنٹیئر کور کے انجینئرز اور جوانوں نے نہ صرف ان عبادت گاہوں کی تعمیر نو کی بلکہ انہیں جدید سہولیات سے بھی آراستہ کیا۔وضو خانے، روشنی کا نظام، فرش کی مرمت، اور صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی (سولر سسٹم) بھی نصب کیا گیا تاکہ بجلی کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہ ہو۔یہ کام نہ صرف ایک تعمیراتی منصوبہ تھا بلکہ عوام کے دلوں میں اعتماد بحال کرنے کی ایک سنہری کوشش تھی۔

عوام کی خوشی اور تشکر

باجوڑ کے مکینوں نے مساجد کی بحالی کو ’’روحانی زندگی کی بحالی‘‘ قرار دیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے صرف پتھر اور اینٹوں کو نہیں جوڑا، بلکہ ان کے بکھرے ہوئے حوصلوں کو بھی دوبارہ یکجا کردیا ہے۔نمازیوں کی بڑی تعداد ایک بار پھر انہی مساجد میں جمع ہو رہی ہے، جہاں اب امن، روشنی اور اتحاد کی فضا قائم ہے۔

پاک فوج کی قربانیوں کا تسلسل

یہ اقدام پاک فوج اور فرنٹیئر کور کے اس دیرینہ عزم کی علامت ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں نہ صرف امن بحال کیا جائے بلکہ وہاں کے سماجی و مذہبی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ مقامی عوام نے ان کوششوں کو ’’امن کی فتح‘‘ اور ’’خلوص کی تعمیر‘‘ کا نام دیا ہے۔

ایک نئی سمت کی جانب قدم

باجوڑ جیسے حساس سرحدی علاقوں میں مساجد کی بحالی محض ایک تعمیراتی کام نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کی بحالی ہے۔خوارج نے جہاں ان عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانے کی کوشش کی، وہیں پاک فوج نے انہیں ازسرِنو تعمیر کر کے امن، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔یہ اقدام ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے دشمن جتنی بار بھی تباہی مچائیں، یہ سرزمین تعمیر و ترقی کی راہ پر آگے بڑھتی رہے گی۔باجوڑ کے لوگ اب فخر سے کہتے ہیں کہ ان کی مساجد صرف عبادت کے مراکز نہیں، بلکہ امن و استحکام کی علامتیں بن چکی ہیں۔یہ مناظر اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کا اندھیرا وقتی ہے، مگر روشنی ہمیشہ غالب رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین