بند کمروں اور خشک ہوا نے انفیکشن کا خطرہ بڑھا دیا ماہرین صحت کی وارننگ

سردی کے موسم میں جسم کو قوتِ مدافعت بڑھانے والی غذاؤں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے

جیسے جیسے سردیوں کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، ویسے ویسے فضا میں نزلہ، زکام، فلو اور کھانسی جیسے وائرل انفیکشنز کے جراثیم بھی سرگرم ہو جاتے ہیں۔ سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ان بیماریوں کا پھیلاؤ عام ہو جاتا ہے، اور یہ خطرہ خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق سردی کے دوران انسان زیادہ وقت بند کمروں اور گھروں کے اندر گزارتا ہے، جہاں ہوا کی روانی محدود ہوتی ہے، جس سے وائرس کے پھیلنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف، خشک اور ٹھنڈی ہوا ناک، گلے اور سانس کی نالیوں کی حفاظتی جھلیوں کو متاثر کرتی ہے، جو جسم کی قدرتی دفاعی دیوار سمجھی جاتی ہیں۔ جب یہ جھلیاں خشک ہو جائیں تو وائرس آسانی سے جسم میں داخل ہو کر بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح، درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ مدافعتی نظام کی کارکردگی بھی سست پڑ جاتی ہے، جس سے جسم میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت کم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں معمولی نزلہ یا کھانسی بھی طویل بیماری میں بدل سکتی ہے۔

ماہرین کی تجویز کردہ احتیاطی تدابیر

1. جسم کو گرم رکھیں

سرد ہوا سے براہِ راست رابطے سے گریز کریں اور باہر نکلتے وقت تہہ دار لباس (Layered Clothing) پہنیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت متوازن رہے۔ بار بار درجہ حرارت میں تبدیلی جیسے گرم کمرے سے باہر ٹھنڈی ہوا میں جانا — مدافعتی نظام پر اثر ڈالتی ہے، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔

2. صحت مند اور متوازن غذا

سردی کے موسم میں جسم کو قوتِ مدافعت بڑھانے والی غذاؤں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ وٹامن سی سے بھرپور پھل جیسے مالٹا، کینو، لیموں اور امرود کا استعمال کریں۔ زنک والی غذائیں جیسے مچھلی، انڈے، اور دالیں جسم کو بیماریوں کے خلاف مضبوط بناتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی، سوپ، یخنی اور ہربل چائے زیادہ پئیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے اور گلے کی خشکی دور ہو۔

3. صفائی اور حفظانِ صحت

بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے بنیادی اصول صفائی ہے۔ دن میں کئی بار ہاتھ دھونا یا سینیٹائزر استعمال کرنا عادت بنا لیں۔ چھینکنے یا کھانسنے کے دوران منہ اور ناک کو رومال یا کہنی سے ڈھانپیں، اور استعمال شدہ ٹشوز فوراً ضائع کر دیں تاکہ جراثیم دوسرے لوگوں تک نہ پہنچ سکیں۔

4. ماسک اور فاصلہ برقرار رکھیں

اگر کسی شخص کو نزلہ یا فلو ہے تو اس سے فاصلہ رکھنا بہتر ہے۔ ہجوم والی جگہوں جیسے بازاروں، دفاتر یا اسکولوں میں ماسک پہننا مؤثر احتیاطی اقدام ثابت ہوتا ہے۔

5. گھریلو ماحول کی بہتری

ہیٹر یا گیس کے ہیٹر استعمال کرنے سے کمرے کی فضا خشک ہو جاتی ہے، جس سے گلے اور ناک کی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے کمرے میں نمی برقرار رکھنے کے لیے پانی کا پیالہ رکھیں۔ روزانہ کچھ وقت کے لیے کھڑکیاں کھول کر ہوا کی آمد و رفت بحال کریں تاکہ جراثیم جمع نہ ہوں۔

6. فلو ویکسین کا استعمال

ماہرین کے مطابق سال میں ایک بار انفلوئنزا ویکسین لگوانا سردی کے موسمی وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔ یہ ویکسین خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور ایسے افراد کے لیے ضروری ہے جو پہلے سے کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں۔

سردی کا موسم بلاشبہ خوبصورت مناظر اور پرلطف فضا کا تحفہ لاتا ہے، مگر یہی موسم صحت کے لیے چیلنج بھی بن سکتا ہے۔ نزلہ، فلو اور کھانسی جیسی بیماریوں کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ وقت اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کا ہے۔ موسمِ سرما میں صحت مند رہنے کے لیے صرف ادویات پر انحصار نہیں بلکہ طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیاں — جیسے متوازن خوراک، صفائی، آرام، اور جسم کو گرم رکھنا — سب سے مؤثر دفاعی ہتھیار ہیں۔

آخرکار، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ موسمِ سرما کا لطف اُسی وقت ممکن ہے جب انسان بیماریوں سے محفوظ رہے اس لیے اس سرد موسم میں گرم دل، مضبوط جسم اور محفوظ عادتیں ہی آپ کی سب سے بڑی ڈھال ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین