لاہور:منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کالج آف شریعہ اینڈاسلامک سائنسز کے اساتذہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن فروغ اتحاد اُمت اور فرقہ واریت کے خاتمے کا ایک عالمگیر مشن ہے، فرقہ واریت نے اُمت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
اساتذہ، نوجوان دینی سکالرز اور طلباء کو اپنے رویوں میں برداشت ، ضبط ،اعتدال اور رواداری پیدا کرنے کی تعلیم دیں۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ آپ ؐ سے براہ راست دین سیکھتے اور احکامات سماعت کرتے تھے، اس کے باوجود تفہیم میں مختلف آراء جنم لیتیں، اختلاف رائے پر صحابہ کرام بلاجھجک تاجدارِ کائنات کی بارگاہ میں حاضر ہو کر راہ نمائی حاصل کرتے اور آپؐ شرح و بسط کے ساتھ تعلیم دیتے، لہٰذا علوم اسلامیہ حاصل کرنے والے طلباء کو سوالات سے نہ روکیں البتہ انہیں یہ تعلیم ضرور دیں کہ جو سوالات دین سیکھنے کی نیت سے کئے جاتے ہیں اس سے خیر برآمد ہوتی ہے اور جب ہم دوسروں کو زچ کرنے کے لئے یا انہیں لاعلم ثابت کرنے کے لئے سوالات کرتے اور بحث برائے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں تو نتیجہ جھگڑے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اختلاف رائے بری چیز نہیں ہے، اختلاف کو دشمنی بنانا بری چیز ہے۔
اسے بھی پڑھیں: قرآنِ مجید نے حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کو ’’عظیم‘‘ قرار دیا :پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
انہوں نے کہا کہ مسائل میں اختلاف ایک فطری عمل ہے، مسائل سے اصلاح اور تعلیم و تفہیم کے نئے دروازے کھلتے ہیں، البتہ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ ہم اپنے پسند کے آئمہ کی اقتداء کرتے ہوئے دوسرے اسلاف کے بارے میں تضحیک پر مبنی رویہ اختیار کریں۔اگر اس ایک نقطہ کو سمجھ لیا جائے تو باہمی جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’میرے صحابہ کا اختلاف تمہارے لئے باعث رحمت ہے‘‘ کیونکہ صحابہ کرام ؓ سیکھنے کی نیت سے سوالات کرتے تھے، اس لئے ہر سوال سے علمی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی تھیں، دینی امور میں ہمیشہ سیکھنے کے لئے سوال کریں، انہوں نے کہا کہ اگر دینی سکالرز قرآن و سنت کو حرف آخر سمجھیں گے تو ہر نوع کے جھگڑے ختم ہو جائیں گے ۔





















