کیا انڈے کا رنگ غذائیت بدل دیتا ہے؟ ماہرین کی دلچسپ وضاحت سامنے آگئی

اکثر لوگ بھورے انڈے کو زیادہ خالص یا دیسی تصور کرتے ہیں

انڈہ دنیا کے ہر خطے میں استعمال ہونے والی وہ بنیادی غذا ہے جسے نہ صرف اس کے ذائقے بلکہ اس کی بھرپور غذائیت کی وجہ سے بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ ناشتہ ہو، دوپہر کا کھانا یا پھر ہلکی پھلکی غذا، انڈہ ہر جگہ اپنی افادیت اور اہمیت منوا چکا ہے۔ لیکن ایک سوال جو اکثر ذہنوں میں گردش کرتا ہے وہ یہ ہے: کیا انڈے کا رنگ، یعنی سفید یا بھورا، اس کی غذائیت کو متاثر کرتا ہے؟

ہیلتھ لائن جیسے مستند ذرائع کے مطابق، انڈہ ایک مکمل غذا ہے جو جسم کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے۔ ایک بڑے سائز کے انڈے سے تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین حاصل ہوتا ہے، جو انسانی جسم کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈے میں نو ضروری امینو ایسڈز، وٹامن اے، ڈی، ای، بی 12، کولین، زیگزانتھین اور غیر سیر شدہ چربی پائی جاتی ہے جو جسمانی نشوونما، دماغی کارکردگی اور آنکھوں کی صحت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

انڈے کی زردی میں موجود کولین اور زیگزانتھین دماغی صلاحیت بڑھانے اور آنکھوں کو تیز کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، جبکہ انڈے کی سفیدی مکمل پروٹین کا ذریعہ ہے جو بغیر کولیسٹرول کے ہوتی ہے۔ یہ پٹھوں کو مضبوط کرنے، دماغی افعال کو بہتر بنانے اور جسم کو توانائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

بھورا یا سفید؟ کیا فرق پڑتا ہے؟

اکثر لوگ بھورے انڈے کو زیادہ خالص یا دیسی تصور کرتے ہیں جبکہ سفید انڈے کو مصنوعی یا کم غذائیت والا سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ سفید انڈے کو صفائی اور ذائقے کے حوالے سے بہتر مانتے ہیں۔ لیکن ماہرین اس خیال کو غلط قرار دیتے ہیں۔

درحقیقت، انڈے کے چھلکے کا رنگ اس مرغی کی نسل پر منحصر ہوتا ہے جس نے انڈہ دیا ہے۔ یہ مکمل طور پر جینیاتی مسئلہ ہے جس کا انڈے کے غذائی معیار، ذائقے یا افادیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بھورے یا سفید انڈے کے غذائی اجزاء تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں۔

اصل فرق کہاں ہوتا ہے؟

جو چیز واقعی انڈے کے غذائی معیار پر اثر انداز ہوتی ہے، وہ مرغی کی خوراک، اس کا طرزِ پرورش اور انڈے کی تازگی کا درجہ ہے۔ جو مرغیاں کھلی فضا میں، قدرتی غذا کھا کر پلتی ہیں، ان کے انڈوں میں غذائیت کی مقدار نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر ان کی خوراک میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، سبزیاں یا قدرتی دانے شامل ہوں، تو ان کے انڈے زیادہ صحت بخش ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح، تازہ انڈے میں غذائی اجزاء زیادہ متحرک اور مؤثر ہوتے ہیں، اس لیے تازگی کا بھی خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

چاہے انڈہ بھورا ہو یا سفید، اگر وہ تازہ ہو اور صحت مند مرغی سے حاصل کیا گیا ہو، تو وہ جسم کے لیے یکساں فائدہ مند ہوتا ہے۔ انڈے کی غذائیت کا دارومدار اس کی ظاہری رنگت پر نہیں بلکہ اس کے اندر موجود اجزاء پر ہوتا ہے، اور وہ اجزاء اس وقت بہترین ہوتے ہیں جب مرغی کو متوازن خوراک دی گئی ہو اور اسے قدرتی ماحول میں پالا گیا ہو۔

یہ خیال کہ انڈے کا رنگ اس کی غذائیت طے کرتا ہے، ایک عام مگر بے بنیاد مفروضہ ہے۔ یہ بات سائنسی تحقیق اور تجربات سے ثابت ہو چکی ہے کہ انڈے کی غذائیت اس کے چھلکے کے رنگ سے مشروط نہیں ہوتی، بلکہ یہ مرغی کی نسل، خوراک، ماحول اور انڈے کی تازگی پر منحصر ہوتی ہے۔

اس لیے ہمیں ظاہری رنگت کی بنیاد پر کسی بھی غذا کو بہتر یا کمتر سمجھنے کے بجائے، اس کی تیاری، پرورش اور معیار پر توجہ دینی چاہیے۔ مارکیٹ میں دستیاب بھورے یا سفید دونوں قسم کے انڈے اگر صاف ستھری جگہ سے حاصل کیے گئے ہوں، تو یکساں فائدہ دیتے ہیں۔

اس رپورٹ کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ ہمیں غذائیت کا فیصلہ رنگ سے نہیں، معیار سے کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین