اسلام آباد :وزارتِ مذہبی امور نے حج 2025 کے اخراجات اور پیکیجز کی تفصیلات جاری کر دیں، جن کے مطابق رواں سال کے حجاج کرام کو گزشتہ برس کے مقابلے میں لاکھوں روپے کی بچت حاصل ہوگی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے اس موقع پر قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حج 2025 کے عازمین کو تقریباً ساڑھے تین ارب روپے کی رقم واپس کی جا رہی ہے جو حجاج کی امانت کے طور پر وزارت کے پاس جمع تھی۔
وزیر مذہبی امور کے مطابق بچت کی رقم کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور تمام عازمین کو 31 اکتوبر 2025 تک ادائیگیاں مکمل کر دی جائیں گی۔ یہ رقم ان حجاج کرام کو واپس کی جا رہی ہے جنہوں نے گزشتہ سال حکومتِ پاکستان کے ذریعے سرکاری اسکیم کے تحت حج ادا کیا تھا۔
حج پیکیجز 2025 کی تفصیلات
وزارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال 40 روزہ لانگ حج پیکیج کے اخراجات 11 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ 25 روزہ شارٹ حج پیکیج کی قیمت 12 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دونوں پیکیجز سعودی حکومت کے تعاون اور بہتر انتظامی منصوبہ بندی کے باعث ممکن ہو سکے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ عازمینِ حج کو دوسری قسط کے طور پر ساڑھے 6 لاکھ روپے جمع کرانے ہوں گے، جب کہ پہلی قسط پہلے ہی مقررہ وقت میں وصول کی جا چکی ہے۔
گزشتہ سال کے حجاج کے لیے رقم کی واپسی
وزارت مذہبی امور نے وضاحت کی ہے کہ گزشتہ سال کے تقریباً 75 فیصد حجاج کرام کو بچت کی رقم واپس کی جا رہی ہے، تاہم تقریباً 25 فیصد (21,895) حجاج کرام کو کوئی رقم واپس نہیں ملے گی کیونکہ ان کے اخراجات اور ادائیگیوں کا حساب برابر ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کم سے کم اخراجات میں فراہم کی جائیں۔ ان کے بقول:
“وزارت مذہبی امور نے اس سال نہ صرف اخراجات میں کمی کی ہے بلکہ انتظامات کو بھی مزید شفاف، آسان اور جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔”
سہولتوں میں اضافہ اور اصلاحات
ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور نے سعودی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے 2025 کے لیے کئی نئی سہولیات شامل کی ہیں، جن میں مدینہ منورہ میں معیاری رہائش، کھانے کے معاہدوں میں بہتری، اور ٹرانسپورٹ کے جدید انتظامات شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل حج ایپ کے ذریعے حاجیوں کو رہنمائی، رہائش، کھانے، اور سفری معلومات تک فوری رسائی حاصل ہوگی۔
حجاج کرام کی سہولت کے لیے مزید اقدامات
وزارت نے واضح کیا ہے کہ امسال بھی تمام حجاج کو سعودی ریال میں الاؤنس، شناختی کارڈ، اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے سعودی عرب روانگی کے دوران مکمل طبی جانچ اور تربیتی ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
عوامی ردعمل
دوسری جانب، عوام اور مذہبی حلقوں نے حج اخراجات میں کمی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ عازمینِ حج نے حکومت کے اس اقدام کو “ریلیف کی خوشبو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے عام آدمی کے لیے فریضۂ حج ادا کرنا پہلے کے مقابلے میں آسان ہو جائے گا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتِ پاکستان نے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی کی بلکہ گزشتہ سال کے حجاج کو اربوں روپے واپس کرنے کا فیصلہ بھی کیا — جو شفافیت، ایمانداری اور عوامی خدمت کا واضح ثبوت ہے۔





















