یروشلم میں ایک کانفرنس کے دوران اسرائیل کے وزیر خزانہ اور دائیں بازو کی مذہبی جماعت “ریلیجیس صہیونزم پارٹی” کے سربراہ بیتزالیل اسموٹریچ نے سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی کے امکان کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ “اگر سعودی عرب فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بدلے تعلقات کی بحالی چاہتا ہے تو ہمارا جواب ہے: نہیں، شکریہ۔ وہ اپنے صحراؤں میں اونٹوں پر سوار رہیں، ہم اپنی ریاست اور معیشت کو ترقی دیتے رہیں گے۔”
یہ بیان انھوں نے یروشلم میں زومیٹ انسٹیٹیوٹ اور مکور ریشون اخبار کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس میں دیا۔ تاہم، ان کے اس متنازع بیان پر خود اسرائیلی حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
اپوزیشن کا سخت ردِعمل
قائدِ حزبِ اختلاف یائیر لپید نے بیتزالیل اسموٹریچ کے بیان کو “سفارتی نقصان، جہالت اور قومی بدنامی” قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ “نیتن یاہو کی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں تبدیلی لانے کے بجائے سوشل میڈیا کے نچلے درجے کے صارفین کی طرح زبان استعمال کر رہی ہے۔ یہ قیادت نہیں بلکہ تباہی ہے۔”
یائیر لپید نے عربی زبان میں کی گئی ایک ٹویٹ میں عرب دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے وضاحت کی کہ “وزیر خزانہ اسموٹریچ پورے اسرائیل کی نمائندگی نہیں کرتے۔”
دیگر سیاسی رہنماؤں کا ردِعمل
ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائیر گولان نے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “یہ وہی ذہنیت ہے جس نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعے کو جنم دیا۔ سعودی عرب سے تعلقات مسترد کرنا دراصل حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے تاکہ وہ غزہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے۔”
بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز نے کہا کہ “یہ بیان لاعلمی اور حکومتی ذمہ داری کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیل کو ایسی قیادت چاہیے جو شدت پسندی سے آزاد ہو اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہو، نہ کہ صرف لائکس کی سیاست کرے۔”
بیان پر عوامی دباؤ اور معذرت
شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد، وزیر خزانہ بیتزالیل اسموٹریچ نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا، “میری سعودی عرب سے متعلق بات بالکل نامناسب تھی۔ میں اس سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہوں۔”
البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “میں توقع کرتا ہوں کہ سعودی عرب ہماری تاریخ، وراثت اور یہودی عوام کے اپنے تاریخی وطن پر حق کو تسلیم کرے تاکہ حقیقی امن قائم ہو سکے۔”
سیاسی پس منظر
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) نے ایک بل کی ابتدائی منظوری دی ہے، جس کے تحت مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کیا جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بل کی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی نے مخالفت کی، مگر حکومت کے دائیں بازو کے اتحادی اس کے حامی ہیں۔
اسی دوران، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے امریکی صدر نومبر میں سعودی عرب جائیں گے، جہاں اسرائیل-سعودی تعلقات کی بحالی اہم ایجنڈا ہوگی۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دیں گے، جو اس موضوع کو مزید حساس بناتا ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیان نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اسرائیل کے اندر بھی سیاسی دراڑیں نمایاں کر دی ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی سیاست میں شدت پسندی کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحالی کا امکان اب مزید پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے بیانات کے بعد جو مسلم دنیا کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔
تاہم، اسرائیلی حکومت کے اندرونی اختلافات اور عالمی دباؤ شاید اس راستے کو مکمل طور پر بند نہ ہونے دیں لیکن فی الحال فضا شدید کشیدہ ہے۔





















