ترکیہ میں خاتون کا طلاق کے وقت انوکھا مطالبہ، شوہر بھی حیران رہ گیا

شوہر اپنی سابقہ بیوی کی دو بلیوں کی دیکھ بھال اور مالی اخراجات کا بوجھ اٹھائے گا

استنبول کی مصروف گلیوں میں ایک ایسا طلاقی معاہدہ سامنے آیا ہے جو نہ صرف انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پالتو جانوروں کی فلاح و بہبود کو بھی قانونی سطح پر تسلیم کرنے کی طرف ایک دلچسپ قدم ہے۔ ایک جوڑے کی طلاق کی تفصیلات میں سابق شوہر نے رضاکارانہ طور پر شرط قبول کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی کی دو بلیوں کی دیکھ بھال اور مالی اخراجات کا بوجھ اٹھائے گا۔ یہ معاہدہ، جو استنبول فیملی کورٹ میں پیش کیا گیا، ترکی کی قانونی تاریخ میں ایک منفرد مثال قائم کر رہا ہے جہاں جانوروں کو محض ‘جائیداد’ کی بجائے ‘ذمہ داری’ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ کیس، جو میڈیا میں ‘بلیوں کی النفقہ’ کے نام سے وائرل ہو رہا ہے، ایک ایسے جوڑے کا ہے جو شدید عدم مطابقت کی وجہ سے دو سالہ شادی توڑنے پر مجبور ہوا۔ تاہم، ان کی علیحدگی میں نفرت کی بجائے ایک انسانی ہمدردی کی جھلک نظر آتی ہے، جو پالتو جانوروں کی محبت کو قانونی دستاویز میں محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔

معاہدے کی دلچسپ تفصیلات

استنبول فیملی کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، شوہر بُغرا بی نے اپنی سابقہ بیوی ایزگی بی کو 550,000 ترک لیرا (تقریباً 13,100 امریکی ڈالر) مالی معاوضہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ رقم شادی کی مالی تقسیم کا حصہ ہے، جہاں دونوں فریقین نے ایک دوسرے سے کوئی روایتی النفقہ یا معاوضہ نہیں مانگا۔

تاہم، معاہدے کی سب سے منفرد شق ان کی دو بلیوں کی ‘حضانت’ سے متعلق ہے۔ بلیاں ایزگی بی کے پاس رہیں گی، اور بُغرا بی ہر تین ماہ بعد 10,000 ترک لیرا (تقریباً 240 امریکی ڈالر) ادا کرے گا، جو بلیوں کی خوراک، ویٹرنری چیک اپ، اور دیگر اخراجات کے لیے ہوگا۔ یہ ادائیگی دس سال تک جاری رہے گی یا جب تک بلیاں زندہ ہوں، اس سے جو بھی پہلے ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رقم ترکی کی سرکاری مہنگائی کی شرح کے مطابق ہر سال خودکار طور پر ایڈجسٹ ہوگی، جو معاہدے کی پائیداری کو یقینی بناتی ہے۔

بُغرا بی نے یہ شرط رضامنداً قبول کی ہے، جو ان کی سابقہ بیوی کی جانوروں سے گہری محبت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ معاہدہ شادی کی بنیادوں میں دراڑ آنے کی وجہ سے طلاق کی بنیاد پر مبنی ہے، مگر پالتو جانوروں کی دیکھ بھال میں کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ کورٹ اسے حتمی طلاقی حکم میں شامل کرنے پر غور کر رہا ہے، جو مستقبل کے کیسز کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

قانونی پس منظر

ترکی کی سول کوڈ کے تحت پالتو جانوروں، جیسے بلیوں اور کتوں، کو ابھی بھی ‘متحرک جائیداد’ (movable property) سمجھا جاتا ہے، جو طلاق کی تقسیم میں عام اشیاء کی طرح شمار ہوتے ہیں۔ تاہم، 2004 میں نافذ ہونے والے جانوروں کی حفاظت کے قانون (Animal Protection Law No. 5199) نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔ اس قانون کے تحت جانوروں کو ‘آرام دہ زندگی’ اور ‘ناخوشی، تشدد یا ظلم’ سے تحفظ کا حق دیا گیا ہے۔

حال ہی کے کچھ عدالتی فیصلوں میں، جہاں جانوروں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی گئی ہے، دیکھ بھال کے اخراجات کو النفقہ کی طرح تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ کیس اس رجحان کی ایک واضح مثال ہے، جہاں عدالت نے معاہدے کو منظور کرنے میں جانوروں کی ‘انسانی’ ضروریات کو مدنظر رکھا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ، اگرچہ النفقہ کی رسمی حیثیت نہیں رکھتا، مگر جانوروں کی دیکھ بھال کو مالی ذمہ داری کی طرح نافذ کرنے کا ایک علامتی قدم ہے۔

نیا رجحان

یہ معاملہ ترکی میں ایک ابھرتا ہوا رجحان ظاہر کرتا ہے، جہاں طلاق لینے والے جوڑوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ پالتو جانوروں کی ‘حضانت’ اور دیکھ بھال کا معاملہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ روایتی طور پر، طلاقی معاہدے مالی، بچوں کی پرورش اور جائیداد کی تقسیم تک محدود رہتے تھے، مگر اب جانوروں کی فلاح کو شامل کرنا ایک انسانی اور جدید سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔

استنبول جیسے شہر، جہاں بلیاں سڑکوں پر آزاد گھومتی ہیں اور شہریوں کی زندگی کا حصہ ہیں، یہ کیس خاص طور پر دلچسپ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایسے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو شادی شدہ جوڑوں میں پالتو جانوروں کی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی بحث چھیڑ رہا ہے کہ کیا جانوروں کو ‘جائیداد’ کی بجائے ‘خاندان کا رکن’ سمجھا جائے۔

سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں صارفین اسے ‘حیوان دوست طلاق’ کا نام دے رہے ہیں۔

عوامی رائے

اس کیس نے سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے، جہاں لوگ اسے ایک مثبت اور انسانی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر ہزاروں کمنٹس آئے ہیں، جن میں سے کئی نے اسے ‘جانوروں کی فلاح کی جیت’ کہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا: "یہ معاہدہ دکھاتا ہے کہ طلاق ہمیشہ نفرت نہیں ہوتی، کبھی محبت بھی شامل ہو سکتی ہے – چاہے وہ بلیوں کی ہو!” دوسرے نے امید ظاہر کی: "ترکی میں جانوروں کے حقوق کی طرف یہ ایک بڑا قدم ہے، اب پالتو کوئی ‘جائیداد’ نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔”

تاہم، کچھ لوگوں نے تنقید بھی کی، جیسے ایک صارف نے پوچھا: "10,000 لیرا تین ماہ میں؟ کیا بلیوں کی دیکھ بھال اتنی مہنگی ہے، یا یہ صرف شو آف ہے؟” مجموعی طور پر، عوامی جذبات مثبت ہیں، اور لوگ اسے قانونی اصلاحات کی طرف ایک امید سمجھ رہے ہیں، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جہاں پالتو جانور بچوں کی طرح پیارے ہوتے ہیں۔

یہ استنبول کا کیس ترکی کی قانونی اور سماجی تبدیلی کی ایک جھلک ہے، جہاں جانوروں کی حیثیت ‘متحرک جائیداد’ سے نکل کر ‘فلاح کے مستحق’ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ Animal Protection Law کے تحت ایسے معاہدے نہ صرف انسانی ہمدردی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ طلاقی کیسز میں نئے رجحانات کو جنم دے رہے ہیں، جو روایتی مالی ذمہ داریوں کو وسعت دیتے ہیں۔ یہ قدم، اگرچہ رضامندہ ہے، مستقبل میں عدالتوں کے لیے ایک پیشگوئی بن سکتا ہے، خاص طور پر جب پالتو جانوروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ تاہم، اس کی نافذکاری مہنگائی کی ایڈجسٹمنٹ جیسے نکات پر منحصر ہوگی، جو مالی دباؤ کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کیس طلاق کو ایک نئی، زیادہ ہمدردانہ شکل دیتا ہے، جہاں خاندان کی تعریف انسانی ارکان تک محدود نہیں رہتی۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین