ترکیہ میں شدید زلزلہ، عمارتیں لرز اٹھیں،عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی

یہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا جب ترکیہ کی زلزلہ خیز لائنیں ایک بار پھر فعال ہو رہی ہیں

ترکیہ کے مغربی علاقوں میں ایک بار پھر زمین کی لرزہ خیز حرکت نے عوام کو خوفزدہ کر دیا، جہاں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا اور متعدد شہروں میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔ یہ ہلچل بالیکسیر صوبے کے قصبے سندرگی کو مرکز بنا کر پھیلی، جہاں گہرائی صرف 6 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، جو سطح کے قریب ہونے کی وجہ سے نقصان کی شدت کو بڑھا دیتی ہے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، مگر سندرگی میں کئی عمارتوں کو دراڑیں پڑیں اور شہری خوف کے مارے سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ واقعہ 2023 کے ہولناک زلزلے کی یاد تازہ کر گیا، جو 55 ہزار سے زائد جانیں لے گیا تھا، اور اب عوام میں ایک نئی لہرِ ہراس پیدا کر دی ہے۔

یہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا جب ترکیہ کی زلزلہ خیز لائنیں ایک بار پھر فعال ہو رہی ہیں، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسے جھٹکے مستقبل میں مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کی آنکھوں میں خوف اور دل میں 2023 کی تباہی کی یادیں ابھی تازہ ہیں، جو اس نئی لرزہ خیزی کو مزید خوفناک بنا رہی ہیں۔

زلزلے کی تفصیلات

رپورٹس کے مطابق، زلزلے کی شدت رکھٹر سکیل پر 6.1 ریکارڈ کی گئی، جو ترکیہ کے مغربی حصے کو ہلا کر رکھ گئی۔ مرکز سندرگی قصبہ تھا، جہاں گہرائی محض 6 کلو میٹر تھی، جو سطحی زلزلے کی نشاندہی کرتی ہے اور عمارتوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ جھٹکے نہ صرف بالیکسیر بلکہ استنبول، بورصہ، مانیسا اور ازمیر جیسے بڑے شہروں میں بھی شدت سے محسوس کیے گئے، جہاں لوگوں نے زمین کی ہلکی سی حرکت سے لے کر شدید لرزہ تک کا سامنا کیا۔

سندرگی میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، جن میں دیواریں پھٹ گئیں، چھتیں گرنے کے قریب پہنچ گئیں، اور کچھ پرانی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، اور عمارتوں کی حفاظتی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی۔ خوش قسمتی سے، ابتدائی رپورٹس میں کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں، مگر زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے گرے یا دھکم پیل میں زخمی ہوئے۔

شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جہاں لوگ فوراً گھروں، دفاتر اور اسکولوں سے باہر نکل آئے۔ استنبول کی مصروف سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گیا، اور ازمیر میں لوگ پارکوں اور کھلے میدانوں میں پناہ لینے لگے۔ یہ منظر 2023 کے زلزلے کی یاد دلا رہا تھا، جب ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔

ماضی کی یاد

یہ زلزلہ اگست 2025 میں اسی علاقے میں آنے والے 6.1 شدت کے جھٹکوں کی یاد تازہ کر گیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی سندرگی مرکز تھا، اور نقصان محدود رہا مگر عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم، سب سے ہولناک یاد 2023 کا زلزلہ ہے، جو ترکیہ اور شام کو متاثر کرتے ہوئے 55 ہزار سے زائد جانیں لے گیا، لاکھوں بے گھر ہوئے، اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس تباہی نے ترکیہ کی عمارتوں کی ساخت اور زلزلہ مزاحمتی قوانین پر سوالات اٹھائے، جو اب بھی زیر بحث ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی شمالی اناطولیائی فالٹ لائن پر واقع یہ علاقہ زلزلہ خیز ہے، اور سطحی جھٹکے عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ حکومت نے فوری طور پر ریسکیو آپریشنز شروع کر دیے، اور وزیر داخلہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

 فوری اقدامات

حکومت نے AFAD (ترکیہ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کو فوری متحرک کر دیا، جو عمارتوں کی جانچ اور ممکنہ نقصان کی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ استنبول اور بورصہ میں اسکولوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، اور شہریوں کو کھلے میدانوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ "ہم متاثرین کے ساتھ ہیں، اور تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔” ماہرین نے آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جو مزید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

عوامی رائے

اس زلزلے نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل جنم دیا، جہاں #TurkeyEarthquake ٹرینڈ کر رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ 2023 کی تباہی ابھی بھولی نہیں، اور یہ جھٹکے ایک نئی وارننگ ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: "سندرگی میں پھر زلزلہ، اللہ رحم کرے، 2023 کی طرح نہ ہو جائے!” دوسرے نے امید ظاہر کی: "خوشی کی بات کہ جانی نقصان نہیں، مگر حکومت کو عمارتیں زلزلہ مزاحم بنانی چاہییں۔”

کچھ لوگوں نے تنقید کی کہ "اگست کے زلزلے سے سبق نہیں سیکھا، عمارتیں اب بھی کمزور ہیں۔” مجموعی طور پر، عوامی جذبات خوف اور احتیاط کی آمیزش ہیں، اور لوگ حکومت سے فوری امداد اور طویل مدتی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ 6.1 شدت کا زلزلہ ترکیہ کی زلزلہ خیز جغرافیائی پوزیشن کی ایک اور یاد دہانی ہے، جو سطحی گہرائی کی وجہ سے محدود مگر فوری نقصان کا باعث بنا۔ خوش قسمتی سے جانی نقصان نہ ہونے سے 2023 کی تباہی کا اعادہ نہیں ہوا، مگر یہ جھٹکے حکومت کے لیے ایک وارننگ ہیں کہ زلزلہ مزاحمتی عمارتوں کے قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ اگست 2025 کا زلزلہ اور اب یہ واقعہ اس علاقے کی سرگرمی کو ظاہر کرتے ہیں، جو مستقبل میں بڑے زلزلے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر، خوف کی لہر سے احتیاط بڑھے گی، مگر حکومت کو ریسکیو، امداد اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی پر توجہ دینی ہوگی۔ مجموعی طور پر، یہ واقعہ ترکیہ کی لچک کی عکاسی کرتا ہے، جو تباہی سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے، مگر اب وقت ہے کہ تیاری کو ترجیح دی جائے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین