لاہور/ڈربن: پاکستان کرکٹ کے بادشاہ بابر اعظم ایک بار پھر عالمی ریکارڈ کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ جنوبی افریقا کے خلاف آئندہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز نہ صرف گرین شرٹس کی عزت کا امتحان ہے بلکہ بابر کے لیے ایک سنہری موقع بھی، جہاں وہ بھارتی لیجنڈ روہت شرما کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز کا تاج اپنے سر سجائیں گے۔
اسپورٹس ڈیسک کو ملنے والی تازہ ترین شماریات کے مطابق بابر اعظم کو یہ تاریخی سنگ میل عبور کرنے کے لیے صرف 9 رنز کی ضرورت ہے۔ روہت شرما فی الحال 151 اننگز میں 4231 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں، جبکہ 31 سالہ پاکستانی اسٹار 121 اننگز میں 4223 رنز بنا کر ان کے بالکل پیچھے سانس لے رہے ہیں۔ بابر کی بیٹنگ اوسط 39.83 ہے، جو نہ صرف تسلسل بلکہ کلاس کی عکاسی کرتی ہے۔
تیسرے نمبر پر موجود ویرات کوہلی 117 اننگز میں 4188 رنز کے ساتھ ہیں، یعنی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں اب تک صرف تین بلے باز ہی 4000 رنز کے جادوئی ہندسے کو چھو سکے ہیں۔ باقی تمام کھلاڑی اس کلب سے باہر ہیں۔ بابر نہ صرف اس ایلیٹ گروپ میں شامل ہیں بلکہ وہ سب سے کم اننگز میں یہ سنگ میل عبور کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔
سیریز کا پس منظر
جنوبی افریقا کے خلاف سیریز 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ہے، جو ڈربن، جوہانسبرگ اور سینچورین میں کھیلی جائے گی۔ پہلا میچ 30 اکتوبر کو ڈربن میں ہوگا۔ بابر کے لیے یہ سیریز صرف رنز کی نہیں، بلکہ قیادت کی بھی آزمائش ہے۔ حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں تنقید کا سامنا کرنے والے بابر کو چاہنے والے یہی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے بلے سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔
پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا "بابر کو پتہ ہے کہ یہ ان کا لمحہ ہے۔ ٹیم مینجمنٹ نے انہیں مکمل آزادی دی ہے کہ وہ اپنے انداز میں کھیلیں۔ اگر وہ پہلے میچ میں ہی 9 رنز بنا لیتے ہیں تو پورا ملک جشن منائے گا۔”
اعدادوشمار کی جنگ
- روہت شرما: 151 اننگز، 4231 رنز، اوسط 31.9، 5 سنچریاں، 32 نصف سنچریاں
- بابر اعظم: 121 اننگز، 4223 رنز، اوسط 39.83، 3 سنچریاں، 36 نصف سنچریاں
- ویرات کوہلی: 117 اننگز، 4188 رنز، اوسط 48.69، 1 سنچری، 37 نصف سنچریاں
بابر کی اوسط روہت سے کہیں بہتر ہے، اور وہ کم اننگز میں زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بابر اسی رفتار سے کھیلتے رہے تو وہ نہ صرف یہ ریکارڈ توڑیں گے بلکہ اسے کافی آگے لے جائیں گے۔
عوامی جوش اور سوشل میڈیا
سوشل میڈیا پر #BabarWorldRecord اور #KingBabar ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ کراچی کے ایک طالب علم علی نے لکھا: "بابر صرف 9 رنز دور ہیں! روہت کو پیچھے چھوڑنا کوئی بڑی بات نہیں، بابر تو بادشاہ ہیں!” لاہور کی ایک خاتون فین صبا نے ویڈیو شیئر کی: "میں نے اپنے گھر میں دعائیں مانگنا شروع کر دی ہیں، بس پہلی گیند پر چھکا لگ جائے!”
کچھ ناقدین نے تنقید بھی کی "پہلے ٹیم کو جتوائیں، پھر ریکارڈ بنائیں۔” لیکن اکثریت بابر کے حق میں ہے۔ ایک سابق کرکٹر نے ٹویٹ کیا: "یہ لمحہ پاکستان کرکٹ کا فخر ہے۔ بابر صرف کھلاڑی نہیں، ایک برانڈ ہیں۔”
بابر اعظم کی یہ کامیابی صرف انفرادی نہیں، قومی سطح پر بھی اہم ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کی شناخت بابر سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ نہ صرف رنز بناتے ہیں بلکہ دباؤ میں ٹیم کو سنبھالتے ہیں۔ روہت شرما نے یہ ریکارڈ 12 سال میں بنایا، جبکہ بابر نے صرف 8 سال میں ان کے قریب پہنچ گئے۔ یہ رفتار، تسلسل اور کلاس کی بات کرتی ہے۔
تاہم، ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا بابر کو ریکارڈ کے بوجھ تلے دبنے نہیں دیا جائے گا؟ جنوبی افریقا کی تیز باؤلنگ اور اسپن کا امتحان آسان نہیں۔ لیکن بابر کی نفسیاتی مضبوطی اور تکنیک انہیں یہ موقع ضرور دے گی۔ اگر وہ یہ ریکارڈ توڑتے ہیں تو یہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک نیا دور شروع ہوگا – جہاں بابر کو مسیحا کی بجائے ایک مستقل لیجنڈ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















