کرسیاں بھی محفوظ نہ رہیں، اسپین میں انوکھے چور گرفتار

یہ کیس اسپین کی رات کی زندگی کی ایک دلچسپ کہانی ہے

میڈرڈ کی چمکتی سڑکوں پر رات کے اندھیرے میں ایک عجیب مجرمانہ گروہ سرگرم تھا، جو ریسٹورنٹس اور بارز کے باہر رکھی گاہکوں کی کرسیاں اٹھا کر غائب ہو جاتا تھا۔ اسپین کی نیشنل پولیس نے اس غیر معمولی چور گینگ کو پکڑ لیا، جس نے صرف دو ماہ میں 1,100 سے زیادہ کرسیاں چوری کیں۔ سات ملزمان – چھ مرد اور ایک عورت – پر چوری اور مجرمانہ تنظیم چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور چوری شدہ املاک کی مالیت تقریباً 60,000 یورو (69,000 امریکی ڈالرز) تک پہنچ چکی ہے۔ یہ کرسیاں نہ صرف اسپین میں بلکہ مراکش اور رومانیہ میں بھی فروخت کی گئیں، جو اس گروہ کی بین الاقوامی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ کیس اسپین کی رات کی زندگی کی ایک دلچسپ کہانی ہے، جہاں ریسٹورنٹ مالکان صبح اٹھتے تو ان کی بیرونی نشستوں کی جگہ خالی ہوتی۔ پولیس کی تفتیش نے اس گینگ کی منظم حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا، جو رات کے وقت وینوں میں کرسیاں لوڈ کر کے فرار ہو جاتے تھے۔

گرفتاری اور چوری کی تفصیلات

اسپین کی نیشنل پولیس نے اعلان کیا کہ اگست اور ستمبر کے دوران میڈرڈ اور دارالحکومت کے جنوب مغربی علاقے میں واقع چھوٹے شہر تلاویرا ڈی لا رینا میں 18 مختلف ریسٹورنٹس اور بارز کو نشانہ بنایا گیا۔ گروہ رات کے وقت کارروائی کرتا تھا، جب مالکان گھروں کو لوٹ جاتے تھے، اور کرسیاں جو عام طور پر دھات یا سخت پلاسٹک کی ہوتی ہیں، آسانی سے اٹھا کر لے جاتا تھا۔ اسپین میں ریسٹورنٹس کی ثقافت میں بیرونی نشستوں کو رات بھر چھوڑنا عام ہے، جو اس چوری کی سہولت فراہم کرتی تھی۔

پولیس کی چھاپہ مار کارروائی میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق ایک منظم مجرمانہ گروپ سے تھا۔ چوری شدہ کرسیاں اسپین کے اندرونی بازاروں کے علاوہ مراکش اور رومانیہ میں بھی بیچی گئیں، جو گینگ کی عالمی رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔ پولیس نے کئی گوداموں سے کرسیاں برآمد کیں، جو مالکان کی شناخت کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

گروہ کی حکمت عملی

ملزمان نے وینوں اور ٹرکوں کا استعمال کرتے ہوئے کرسیاں لوڈ کیں، اور انہیں فوری طور پر منتقل کر دیا تاکہ پکڑے نہ جائیں۔ یہ کرسیاں ریسٹورنٹس کی بیرونی نشستوں سے چوری کی جاتی تھیں، جو اسپین کی کیفے کلچر کا اہم حصہ ہیں۔ گینگ کی سرگرمیاں میڈرڈ کے مصروف علاقوں اور تلاویرا ڈی لا رینا جیسے چھوٹے شہروں تک پھیلی ہوئی تھیں، جہاں سیکیورٹی کم ہوتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ منظم تھا اور چوری کی منصوبہ بندی پہلے سے کرتا تھا، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتی ہے۔

چوری شدہ سامان کی مالیت 60,000 یورو تک پہنچ گئی، جو ریسٹورنٹ مالکان کے لیے بڑا نقصان ہے۔ پولیس تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے، اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

اسپین کی ریسٹورنٹ کلچر

اسپین میں ریسٹورنٹس اور بارز کی ثقافت میں بیرونی نشستوں کو رات بھر چھوڑنا رواج ہے، جو سیاحوں اور مقامی لوگوں کو کشش دیتا ہے۔ یہ کرسیاں دھات یا پلاسٹک کی ہوتی ہیں، جو پائیدار مگر چوری کے لیے آسان ہیں۔ یہ واقعہ ریسٹورنٹ مالکان کو سیکیورٹی اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جیسے کرسیاں اندر منتقل کرنا یا لاک لگانا۔

عوامی رائے

اس خبر نے سوشل میڈیا پر تفریحی ردعمل جنم دیا، جہاں لوگ اسے "کرسی چوروں کی مہم جوئی” قرار دے رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #ChairThievesSpain ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "1,100 کرسیاں؟ یہ تو پورا ریسٹورنٹ اٹھا لیتے!” دوسرے نے مذاق اڑایا: "اب اسپین میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملے گی، شکریہ چور گینگ!”

ریسٹورنٹ مالکان نے راحت کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے کہا: "یہ نقصان بہت ہے، پولیس کو شکریہ۔” مجموعی طور پر، عوامی جذبات مزاحیہ مگر سنجیدہ ہیں، اور لوگ سیکیورٹی کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔

یہ کیس اسپین کی شہری جرائم کی ایک دلچسپ مثال ہے، جہاں ایک منظم گینگ نے روزمرہ کی چیزوں جیسے کرسیوں کو نشانہ بنا کر بڑا کاروبار چلا لیا۔ 1,100 کرسیاں اور 60,000 یورو کا نقصان ریسٹورنٹ انڈسٹری کے لیے الارم ہے، جو سیکیورٹی خلا کو اجاگر کرتا ہے۔ گینگ کی بین الاقوامی فروخت نیٹ ورک مجرمانہ تنظیموں کی عالمی رسائی کو ظاہر کرتی ہے، جو پولیس کے لیے چیلنج ہے۔ عوامی سطح پر، یہ واقعہ تفریحی لگتا ہے مگر معاشی نقصان اور سیاحت پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کی فوری کارروائی قابل تحسین ہے، جو مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کرے گی۔ مجموعی طور پر، یہ اسپین کی رات کی زندگی کو محفوظ بنانے کی طرف ایک سبق ہے، جہاں چھوٹی چیزوں کی حفاظت بھی اہم ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین