اسلام آباد :پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر سرِ عام سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے حالیہ جارحانہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد پارٹی کی قیادت ایک نئی مشکل میں گھر گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پی ٹی آئی کے متعدد مرکزی رہنما اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر کے غیر محتاط اور اشتعال انگیز بیانات نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں موجود واحد پی ٹی آئی حکومت کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے جارحانہ لب و لہجے نے پارٹی کے اندر اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر اسی انداز میں بیانات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، جن سینئر رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، سینیٹر شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ خاص طور پر علی امین گنڈا پور نے پارٹی قیادت کو متنبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر کے محاذ آرائی پر مبنی بیانات خیبرپختونخوا کی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس وقت پارٹی کو کسی تصادم کے بجائے اپنی واحد حکومت کو بچانے اور مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی رہنماؤں کو اپنی تقاریر اور بیانات میں دانشمندی اور اعتدال کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ حکومت کے استحکام پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
پارٹی کے دیگر رہنماؤں، خصوصاً بیرسٹر گوہر علی خان، شبلی فراز اور شیخ وقاص اکرم نے بھی مبینہ طور پر مقتدر حلقوں کے خلاف کھلی محاذ آرائی کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نزدیک ایسی حکمتِ عملی نہ صرف پارٹی کے لیے سیاسی خطرہ بن سکتی ہے بلکہ ملک کے سیاسی ماحول میں بھی کشیدگی میں اضافہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر پارٹی کے بعض رہنما اسی انداز میں جارحانہ مؤقف اپناتے رہے تو صورتحال کسی بھی وقت 9 مئی 2023 جیسے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے — ایک ایسا واقعہ جس کے منفی اثرات سے پارٹی ابھی تک مکمل طور پر باہر نہیں آ سکی۔
رپورٹ کے مطابق، پارٹی کے اندر کئی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس وقت محاذ آرائی کے بجائے مصالحت، سیاسی حکمت عملی اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، اگر پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم نہ ہوئے تو خیبرپختونخوا حکومت کے لیے سیاسی دباؤ ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی عبدالحفیظ چودھری نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت ایک نازک سیاسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف اسے اپنی تنظیمی ساخت اور حکومتی معاملات کو متوازن رکھنا ہے، جبکہ دوسری جانب داخلی اختلافات نے قیادت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں پی ٹی آئی آج بھی اقتدار میں ہے، اور اسی وجہ سے پارٹی کے مستقبل کا بڑا انحصار اسی صوبے کی کارکردگی پر ہے۔ مگر بدقسمتی سے، اختلافات، ذاتی مفادات اور جارحانہ بیانات اس حکومت کی جڑوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے بیانات سے پارٹی میں تقسیم کا تاثر ابھر رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف پارٹی کا نظم متاثر ہوگا بلکہ عوامی اعتماد بھی کم ہو جائے گا۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنما — جیسے گوہر علی خان، شبلی فراز اور علی امین گنڈا پور — اس وقت پارٹی کو ایک اعتدال پسند اور مصالحتی پالیسی کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی حکمتِ عملی پارٹی کو ایک بار پھر سیاسی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، پی ٹی آئی کو اس وقت دو محاذوں پر لڑنا ہے: ایک طرف داخلی اتحاد کو برقرار رکھنا، اور دوسری طرف عوامی اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنا۔ اگر قیادت نے اختلافات کو فوری طور پر ختم نہ کیا تو نہ صرف خیبرپختونخوا کی حکومت متاثر ہوگی بلکہ قومی سطح پر پارٹی کی سیاسی ساکھ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ وقت ٹکراؤ نہیں، تدبر کا ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے اندرونی اختلافات کو مشاورت اور نظم و ضبط کے ذریعے حل کر لیتی ہے تو یہ بحران اس کے لیے ایک نیا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر محاذ آرائی جاری رہی، تو ایک بار پھر پارٹی خود اپنے ہی اقدامات کی زد میں آ سکتی ہے۔





















