پاک بھارت جھڑپ میں 7 جدید طیارے تباہ ہوئے، ٹرمپ نے ایک بار پھر مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ٹرمپ نے پہلے پانچ یا چھ طیاروں کا ذکر کیا تھا، لیکن اب سات کا اعدادوشمار بڑھا دیا ہے

واشنگٹن/ٹوکیو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے مخصوص انداز میں عالمی سیاست کو ہلا دیا، جاپان کے دورے کے دوران کاروباری رہنماؤں کے ایک عشائیہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوری فوجی جھڑپ میں سات بالکل نئے اور خوبصورت جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ ٹرمپ نے اسے اپنی حکومت کی تجارتی پابندیوں کی کامیابی قرار دیا، جو نہ صرف تنازعے کو روکنے میں کامیاب رہی بلکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ‘نیچا’ دکھانے کا ذریعہ بنی۔

ٹرمپ کا یہ بیان جاپان کے دارالحکومت میں ایک پرتعیش عشائیہ کے دوران سامنے آیا، جہاں وہ مختلف ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف (درآمدی محصولات) کی تعریف کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پالیسیوں نے کئی ممکنہ جنگوں کو روک دیا، اور پاک بھارت جھڑپ اس کی زندہ مثال ہے۔ "اگر آپ بھارت اور پاکستان کو دیکھیں، وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے تھے، ان کی مختصر جھڑپ میں سات نئے اور خوبصورت جہاز تباہ ہو گئے،” ٹرمپ نے اپنے عام ڈرامائی لہجے میں کہا، جیسے وہ ایک ہالی ووڈ فلم کی اسکرپٹ سنہرا رہے ہوں۔

انہوں نے مزید تفصیلات میں بتایا کہ انہوں نے براہ راست بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ کیا اور واضح خبردار کیا کہ اگر دونوں جوہری طاقتیں لڑائی جاری رکھیں تو امریکا کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کرے گا۔ "ہم نے کہا کہ اگر تم لوگ لڑو گے تو کوئی ڈیل نہیں ہوگی، اور 24 گھنٹوں کے اندر معاملہ ختم ہو گیا،” ٹرمپ نے فخر سے کہا، جیسے انہوں نے تنازعے کو ذاتی طور پر حل کر دیا ہو۔

یاد رہے کہ مئی 2025 کی یہ جھڑپ بہت مختصر لیکن شدید تھی۔ پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے گئے، جن میں جدید فرانسیسی رافیل جیٹ بھی شامل تھا۔ پاکستانی فوج نے اس کی تصدیقی ویڈیوز اور ریڈار ڈیٹا بھی جاری کیے، جو عالمی میڈیا میں گردش کرتی رہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا، اور صرف اتنا کہا کہ آپریشن سندور کے دوران انہوں نے دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، نہ کہ کوئی طیارہ کھویا۔

جھڑپ کا مختصر پس منظر

یہ تنازعہ 7 مئی 2025 کو شروع ہوا جب بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لینے کے لیے آپریشن سندور شروع کیا، جس میں پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد کیمپوں پر حملے کیے گئے۔ نتائج میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، لیکن ہوائی جھڑپوں میں دونوں طرف کے طیاروں کا استعمال ہوا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ ان کے جے ایف-17 تھنڈر جیٹس نے بھارتی طیاروں کو مار گرایا، جبکہ بھارت نے خاموشی اختیار کی۔ ٹرمپ کا مداخلت کا دعویٰ 10 مئی کو سامنے آیا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر "فوری اور مکمل” جنگ بندی کا اعلان کیا، جو بھارت نے مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ دو طرفہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

ٹرمپ نے پہلے پانچ یا چھ طیاروں کا ذکر کیا تھا، لیکن اب سات کا اعدادوشمار بڑھا دیا ہے، جو ان کے بیانات کی روایت کے مطابق ہے – ہمیشہ تھوڑا سا اضافہ کر دیں تاکہ بات زیادہ اثر انگیز ہو۔

عالمی ردعمل

ٹرمپ کا یہ بیان فوری طور پر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آیا۔ انڈین ایکسپریس نے اسے "ٹرمپ کی پرانی کہانی کا نیا موڑ” قرار دیا، جبکہ این ڈی ٹی وی نے نوٹ کیا کہ بھارتی ایئر فورس چیف نے حال ہی میں پاکستان کے پانچ طیاروں مار گرانے کی تصدیق کی تھی، جو ٹرمپ کے اعدادوشمار سے الٹ ہے۔ پاکستان کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی، لیکن سرکاری حلقوں میں یہ بیان خوش آئند سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ان کے دعوؤں کی تائید کرتا ہے۔

عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ #TrumpSavesIndiaPakistan اور #SevenBeautifulPlanes ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ دہلی کے ایک طالب علم نے لکھا: "ٹرمپ صاحب، ہمارے رافیل تو ابھی لائیو ہیں! مگر آپ کی تجارت کی دھمکی نے مودی جی کو ضرور ہلا دیا۔” لاہور کی ایک خاتون نے شیئر کیا: "سات طیارے؟ ٹرمپ کی تعریف میں سن رہے ہیں، پاکستان زبردست!” بھارتی صارفین نے تنقید کی: "یہ امریکی مداخلت کی بجائے ہماری فوج کی طاقت تھی، ٹرمپ بس ڈرامہ کر رہے ہیں۔” کئی نے مذاق اڑایا کہ ٹرمپ نے طیاروں کو ‘خوبصورت’ کہہ کر ان کی قدر کی تھی۔

ٹرمپ کا یہ بیان ان کی سفارتی حکمت عملی کی جھلک دکھاتا ہے – تجارت کو ہتھیار بنا کر تنازعات حل کرنا، جو کبھی کبھار کام کر جاتا ہے مگر اکثر متنازعہ ہوتا ہے۔ مئی کی جھڑپ واقعی جوہری دہانے پر تھی، اور ٹرمپ کی دھمکی نے ممکنہ طور پر دباؤ بڑھایا، لیکن بھارت کی جانب سے اس کی تردید سے واضح ہے کہ یہ دو طرفہ تھا۔ اعدادوشمار میں تضاد – سات بمقابلہ چھ یا پانچ – ٹرمپ کی بیان بازی کی نشاندہی کرتا ہے، جو پاکستان کے حق میں جھکاؤ دکھاتا ہے۔ یہ بیان بھارت کے لیے سفارتی دھچکا ہے، جہاں مودی کی ‘مضبوط’ فوج کی تصویر کو چیلنج کیا گیا، جبکہ پاکستان کو اخلاقی فتح ملتی ہے۔ عالمی سطح پر، یہ امریکی مداخلت کی یاد دلاتا ہے، جو خطے کی خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بیان نئی سفارتی موج چلائے گا یا بس ایک اور ٹرمپ شوٹ بن جائے گا۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین