سوڈان کی خانہ جنگی شدت اختیار کر گئی، الفاشر شہر مکمل طور پر باغیوں کے کنٹرول میں

ہیومن رائٹس واچ کی ویڈیوز میں RSF جنگجو بے ہتھیار مردوں کو SAF کا حصہ قرار دے کر گولی مار رہے ہیں

خارطوم/الفاشر؛ سوڈان کے دارفور علاقے میں انسانی المیے کی ایک نئی داستان رقم ہو رہی ہے، جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے شہر الفاشر پر 17 ماہ کی طویل گھیراؤ کے بعد مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور اس دوران تین دنوں میں کم از کم 1500 بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ حملے، جو شہر چھوڑنے کی کوشش کرنے والے عام لوگوں پر کیے گئے، میں سینکڑوں خواتین اور بچوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں، اور اب عالمی ادارے اسے "حقیقی نسل کشی” کا نام دے کر فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوڈانی ڈاکٹرز نیٹ ورک کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وحشت دانستہ اور منظم طور پر کی جا رہی ہے، جو پچھلے ڈیڑھ سال کی خونریزی کا براہ راست تسلسل ہے۔

قطری میڈیا الجزیرہ کی تفصیلات کے مطابق، RSF نے فرار ہوتے ہوئے خاندانوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں، گھروں کو آگ لگائی اور حتیٰ کہ سعودی زچگی و بچوں کے ہسپتال کو نشانہ بنایا، جہاں 460 سے زائد افراد – زچہ، نوزائیدہ بچے، ان کے رشتہ دار اور ڈاکٹرز – کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے اسے "طبی عملے اور مریضوں پر حملے کی بدترین مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوڈان میں 2023 سے اب تک 285 صحت مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔ سوڈانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شہر میں 2000 سے زائد جانیں گئیں، جبکہ امدادی گروپس نے جنسی زیادتیوں، شہریوں پر براہ راست فائرنگ اور مکانات کی لوٹ مار کی تصدیق کی ہے۔

ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب نے سیٹلائٹ تصاویر اور زمینی شواہد کا تجزیہ کرتے ہوئے اجتماعی قتل عام کی تصدیق کی، جہاں لاشوں کے ڈھیر اور خون کے دھبے دارفور کی 2003 کی نسل کشی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ الفاشر، جو دارفور میں سوڈانی فوج کا آخری اڈہ تھا، اب RSF کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے، جہاں 177,000 شہری اب بھی گھیرے میں ہیں اور 35,000 پیدل ہی کیمپوں کی طرف بھاگے، جہاں وہ "وحشیانہ قتل” کی کہانیاں سناتے ہیں۔

تاریخی پس منظر

یہ بحران 2023 میں سوڈانی فوج اور RSF کے درمیان اقتدار کی جنگ سے شروع ہوا، جہاں RSF – جو سابق جنجاویڈ ملیشیا سے نکلی نے غیر عرب قبائل کو نشانہ بنایا۔ 17 ماہ کا محاصرہ الفاشر کو بھوک اور بیماری کا شکار بنا چکا تھا، جہاں صرف اس سال 239 بچے بھوک سے مر گئے۔ اب RSF کا قبضہ دارفور کو مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں لا رہا ہے، جو ملک کی ایک تہائی زمین ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا کہ یہ نسلی صفائی کا تسلسل ہے، جو 2003 میں 300,000 ہلاکتوں کی یاد دلاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ویڈیوز میں RSF جنگجو بے ہتھیار مردوں کو SAF کا حصہ قرار دے کر گولی مار رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشنر نے نسلی حملوں کا خطرہ اجاگر کیا۔ RSF کمانڈر حمیدتی نے "غلطیوں” کی تحقیقات کا وعدہ کیا، مگر یہ محض دکھاوا لگتا ہے۔

عرب دنیا کی مشترکہ آواز

سعودی عرب نے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر گہری پریشانی ظاہر کی، مصر نے فوری جنگ بندی کی اپیل کی، ترکیہ نے امداد کے محفوظ کوریڈورز کھولنے کا مطالبہ کیا، جبکہ قطر اور اردن نے شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری قدم اٹھانے پر زور دیا۔ امریکہ نے RSF سے وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا، مگر عملی اقدامات ابھی غائب ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الفاشر کا گرنا سوڈان کی ممکنہ تقسیم کا پیش خبردار ہے، جہاں RSF ایک آزاد دارفور قائم کر سکتی ہے۔

عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پر #EyesOnDarfur اور #StopSudanGenocide ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ایک سعودی صارف نے لکھا: "الفاشر میں ہسپتال پر حملہ؟ یہ انسانیت کی موت ہے، عالمی عدالت کو جاگنا چاہیے!” ایک مصری کارکن نے پوسٹ کیا: "خواتین اور بچوں پر گولیاں؟ RSF کو دہشت گرد قرار دو!”

ایک امریکی صحافی نے شیئر کیا "سوڈان میں 40,000 اموات، 12 ملین بے گھر غزہ کی طرح، مگر کوئی احتجاج نہیں۔” کئی نے UAE کو تنقید کا نشانہ بنایا: "ہتھیاروں کی سپلائی روکو، یہ نسل کشی تمہاری بھی ہے!” تاہم، کچھ نے شکوہ کیا کہ عالمی میڈیا سوڈان کو بھول گیا ہے۔

الفاشر کا سقوط سوڈان کی خانہ جنگی کو ناقابلِ واپسی موڑ پر لا کھڑا کر رہا ہے، جہاں RSF دارفور پر قبضہ کر کے ملک کو تقسیم کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ یہ نسل کشی صرف فوجی نہیں، نسلی اور معاشی ہے، جو UAE کی مبینہ حمایت سے مزید پیچیدہ ہوتی ہے۔ 14,000 سے زائد اموات کا تسلسل بتاتا ہے کہ عالمی برادری کی مذمت بے معنی ہے جب تک ہتھیاروں کی سپلائی نہ روکی جائے اور جنگ بندی نافذ نہ ہو۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کا عمل درآمد نہ ہونا اس کی کمزوری ظاہر کرتا ہے، اور اگر فوری امداد نہ پہنچی تو دارفور ایک نئی انسانی تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ سوڈان کا بحران افریقہ کی خاموش آواز ہے – کیا دنیا جاگے گی، یا یہ المیہ بھی تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گا؟

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین