رات کے وقت زیادہ روشنی ادھیڑ عمر افراد کے لیے صحت کا بڑا خطرہ بن گئی

رات میں مصنوعی روشنی کی موجودگی نیند کے قدرتی چکر کو توڑتی ہے

لندن/نیو یارک؛ رات کا سکون اب صرف ایک خواب نہیں، بلکہ صحت کا دشمن بھی بن سکتا ہے۔ نئی طبی تحقیقات نے انکشاف کیا ہے کہ ادھیڑ عمر افراد میں رات کے وقت زیادہ روشنی کا سامنا فالج اور ہارٹ فیلیئر جیسے مہلک امراض کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔ یہ روشنی، جو سٹریٹ لائٹس، موبائل اسکرینز، ٹی وی یا کمرے کی لائٹس سے آتی ہے، نیند کی گہرائی کو چھین کر جسم کے اندرونی نظام کو بری طرح متاثر کرتی ہے، اور نتائج قلبی اور دماغی صحت پر بھاری پڑتے ہیں۔

تحقیقات، جو امریکی جرنل آف کارڈیالوجی اور نیورولوجیکل سٹڈیز میں شائع ہوئیں، بتاتی ہیں کہ رات میں مصنوعی روشنی کی موجودگی نیند کے قدرتی چکر کو توڑتی ہے، جس سے جسم میں تناؤ کے ہارمونز کا طوفان اٹھتا ہے اور دل کی دھڑکن کی لے بگڑ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ شہری آبادیوں میں خاص طور پر سنگین ہے، جہاں "لائٹ پولوشن” نے راتوں کو دن بنا دیا ہے۔

 چار بڑے خطرات

  1. نیند کی تباہی اور اس کے اثرات: رات کی روشنی آنکھوں کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر میلاٹونن ہارمون کی پیداوار روکتی ہے، جو نیند کا قدرتی محافظ ہے۔ نتیجتاً، نیند کی کمی یا بے چین نیند دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور فالج کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ایک مطالعہ میں پایا گیا کہ جو افراد رات کو 5 لکس سے زیادہ روشنی میں سوتے ہیں، ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
  2. ہارمونل توازن کی خرابی: نیند کے خلل سے جسم میں کورٹیسول (تناؤ کا ہارمون) کی سطح آسمان چھوتی ہے، جو شریانوں کو سخت کرتا ہے اور انسولین مزاحمت بڑھاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں طویل مدت میں ذیابیطس ٹائپ 2 اور ہارٹ فیلیئر کی بنیاد رکھتی ہیں، خاص طور پر 45 سے 65 سال کی عمر میں۔
  3. دل کی لے میں انتشار: روشنی کی وجہ سے دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی (اریتھمیا) اور بلڈ پریشر میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ رات کی روشنی میں سونے والوں میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 25 فیصد زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ جسم کا "ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ” موڈ فعال نہیں ہو پاتا۔
  4. مائکرو سلیپ اور دماغی تناؤ: روشنی دماغ کو مکمل آرام سے روکتی ہے، جس سے دن میں مائکرو سلیپ (چند سیکنڈ کی نیند) اور مسلسل تھکاوٹ ہوتی ہے۔ یہ دماغی دباؤ شریانوں میں پلاک جمع کرتا ہے، جو فالج کا براہ راست سبب بن سکتا ہے۔ یورپی نیورولوجیکل سوسائٹی کی تحقیق کے مطابق، ادھیڑ عمر میں یہ اثرات 40 فیصد تک فالج کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔

پس منظر

یہ مسئلہ صرف کمرے کی لائٹس تک محدود نہیں۔ شہروں میں سٹریٹ لائٹس، بل بورڈز اور گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس نے راتوں کو روشن کر دیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، دنیا کی 80 فیصد آبادی لائٹ پولوشن کی زد میں ہے، اور ادھیڑ عمر گروپ سب سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ ان کی نیند کا قدرتی چکر پہلے ہی کمزور ہوتا جا رہا ہوتا ہے۔ ایک جاپانی مطالعہ میں پایا گیا کہ ٹوکیو جیسے شہروں میں رات کی روشنی کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کے کیسز 35 فیصد زیادہ ہیں۔

ماہرین کی تجویز رات کو کمرے کو مکمل اندھیرا کریں، بلیک آؤٹ پردے استعمال کریں، اور سونے سے دو گھنٹے پہلے اسکرینز بند کر دیں۔ ریڈ لائٹ بلب یا آئی شیڈز بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔

عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پر #DarkSleep اور #LightPollutionKills ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ لاہور کی ایک خاتون ڈاکٹر عائشہ نے لکھا: "میں رات کو لائٹ آف کر کے سونے لگی، بلڈ پریشر کنٹرول ہو گیا!” کراچی کے ایک انجینئر علی نے شیئر کیا: "شہر کی لائٹس کی وجہ سے نیند نہیں آتی، اب تو فالج کا ڈر لگتا ہے۔”

کئی صارفین نے شکایت کی "موبائل تو بند نہیں ہوتا، اب کیا کریں؟” جبکہ ایک امریکی فین نے تجویز دی "بلیک آؤٹ کرٹینز لگائیں، زندگی بچ جائے گی!” تحقیق کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جو عوام میں آگاہی بڑھا رہی ہیں۔

رات کی روشنی کا خطرہ ایک "خاموش قاتل” ہے جو ادھیڑ عمر میں قلبی اور دماغی نظام کو کمزور کرتا ہے۔ یہ مسئلہ جدید طرز زندگی کا نتیجہ ہے، جہاں 24/7 لائٹس نے قدرتی اندھیرے کو چھین لیا ہے۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ نیند کی بحالی سے 70 فیصد خطرات کم ہو سکتے ہیں، مگر شہری منصوبہ بندی میں لائٹ پولوشن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حکومتوں کو سٹریٹ لائٹس کو ڈم کرنے، عوامی مہم چلانے اور "ڈارک سکائی” پالیسیاں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ افراد کے لیے، یہ ایک چھوٹی تبدیلی ہے جو بڑی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔ اگر اب نہ جاگے تو ادھیڑ عمر کی نسل فالج اور ہارٹ فیلیئر کی لپیٹ میں آ جائے گی – روشنی کی چکاچوند میں صحت گم نہ ہو جائے!

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین