شادی سے شہریت نہیں ملے گی، سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے تھے

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی افغان مرد پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اُسے پاکستانی شہریت دی جا سکتی ہے۔

یہ کیس ایک افغان شہری کو پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) جاری کرنے سے متعلق تھا۔ کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے تھے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسداللہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پہلے ہی اپیل دائر کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر کوئی افغان مرد پاکستانی خاتون سے شادی کرتا ہے تو وہ پاکستان اوریجن کارڈ کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریت کا بھی حقدار ہے۔ تاہم، حکومت کو شہریت دینے والے حصے پر شدید اعتراض ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ شہریت دینے کا قانونی جواز کیا ہے اور اب تک کتنے لوگ اس طرح کی درخواستیں دے چکے ہیں؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اب تک 117 افغان شہریوں نے پاکستانی خواتین سے شادی کی بنیاد پر شہریت یا پی او سی کارڈ کے لیے درخواست دی ہے۔ جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’’یہ تو صرف وہ ہیں جو سامنے آگئے، باقی شاید کئی اور ہوں۔‘‘

نادرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افغان شہری کے لیے یہ لازمی ہے کہ اس کے پاس درست ویزا ہو، ورنہ وہ شہریت یا کارڈ کے لیے اہل نہیں۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے معنی خیز انداز میں کہا کہ ’’یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کوئی شخص دروازے سے آیا ہے یا دیوار پھلانگ کر۔‘‘

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کئی افغان شہریوں نے توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کر دی ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ شہریت کا فیصلہ فوری طور پر نافذ کرے۔

سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

قانونی پس منظر

پاکستانی شہریت کا قانون (Pakistan Citizenship Act 1951) غیر ملکی مردوں کو خودکار طور پر شہریت نہیں دیتا، چاہے وہ پاکستانی خاتون سے شادی ہی کیوں نہ کریں۔ البتہ پاکستانی خواتین کے لیے یہ حق موجود ہے کہ وہ غیر ملکی شوہر کے ساتھ پاکستان میں رہائش اختیار کر سکتی ہیں، مگر شوہر کو شہریت حاصل کرنے کے لیے علیحدہ طریقۂ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔

اسی قانون کی بنیاد پر حکومت یہ مؤقف رکھتی ہے کہ افغان شہریوں کو صرف شادی کی بنیاد پر شہریت دینا ممکن نہیں، خاص طور پر جب وہ پناہ گزین یا غیر قانونی طور پر مقیم ہوں۔

ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا تعلق صرف ایک کیس تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتی تو ہزاروں افغان شہری اس بنیاد پر شہریت کے اہل ہو سکتے تھے، جس سے ملک میں قانونی اور سیکیورٹی نوعیت کے کئی مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔

سینیئر وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی شہریت ایک حساس معاملہ ہے۔ کسی بھی غیر ملکی کو محض شادی کی بنیاد پر شہریت دینا قومی مفاد کے خلاف ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘‘

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی افغان شہری باقاعدہ ویزے پر آیا، پاکستانی خاتون سے قانونی نکاح کیا اور پاکستان میں مستقل رہائش اختیار کر لی، تو اُسے کم از کم پی او سی کارڈ دینے پر غور ہونا چاہیے تاکہ وہ قانونی طریقے سے زندگی گزار سکے۔

تجزیہ

یہ معاملہ نہ صرف قانونی نوعیت رکھتا ہے بلکہ اس کے سماجی اور سیاسی پہلو بھی ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ ان میں سے بعض نے یہاں خاندان بسائے اور شادیاں بھی کیں۔ مگر شہریت کا معاملہ ہمیشہ متنازع رہا ہے۔

حکومتِ پاکستان اس وقت غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں مصروف ہے، اور ایسے وقت میں اگر افغان مردوں کو پاکستانی شہریت دی جاتی ہے تو اس فیصلے سے حکومتی پالیسی کمزور ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کا حالیہ اقدام اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے جو مستقبل میں شہریت کے قانون کے اطلاق کے حوالے سے واضح سمت متعین کر سکتا ہے۔

خلاصہ

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو معطل کر کے ایک اہم قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ حتمی فیصلے میں شادی کی بنیاد پر شہریت دینے کے حق میں جاتی ہے یا حکومت کے مؤقف کو برقرار رکھتی ہے۔ تاہم فی الحال عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ قومی مفاد اور قانونی طریقۂ کار کو نظر انداز کر کے کوئی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین