لاہور:پنجاب میں اسکولوں کے بعد اب کالجز کے اساتذہ کی بھی ریشنلائزیشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اعلان کیا کہ صوبے کے 750 سے زائد کالجز میں اساتذہ کی تعیناتی اب طلبہ کی تعداد کی بنیاد پر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹوڈنٹ ٹیچر ریشو کے مطابق جن کالجز میں ضرورت سے زیادہ اساتذہ ہوں گے، انہیں دیگر اداروں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ تدریسی عمل میں توازن پیدا کیا جا سکے۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ کم انرولمنٹ والے کالجز کے اساتذہ بھی ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت آئیں گے۔ ایسے کالجز جہاں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے یا انرولمنٹ بڑھانے میں مشکلات ہیں، ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
رانا سکندر حیات نے واضح کیا کہ جن کالجز میں انرولمنٹ بہتر نہیں کی گئی، وہاں کے اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کالج انتظامیہ اور اساتذہ کو تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ "انرولمنٹ بہتر بنانا اب اولین ترجیح ہے، کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کم انرولمنٹ والے کالجز اور کامرس کالجز کو آؤٹ سورس کیا جائے گا تاکہ ان اداروں میں انتظامی اور تعلیمی بہتری لائی جا سکے۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ حکومت پنجاب کامرس کالجز کو جدید تقاضوں کے مطابق ای-کامرس کالجز میں تبدیل کر رہی ہے، تاکہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف راغب کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں اصلاحات کے بعد معیار تعلیم میں نمایاں بہتری آئی ہے اور رواں سال انرولمنٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرز پر کالجز میں بھی تعلیمی و انتظامی نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کالجز کی ریشنلائزیشن پالیسی دراصل تعلیمی نظام کو مؤثر، متوازن اور طلبہ کی ضروریات کے مطابق بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد صرف اساتذہ کی منتقلی نہیں بلکہ تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور کالجز کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
پچھلے چند برسوں میں صوبے کے متعدد کالجز میں اساتذہ کی غیر مساوی تقسیم ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی۔ کہیں ایک کالج میں طلبہ کم اور اساتذہ زیادہ تھے، تو کہیں طلبہ کی تعداد زیادہ مگر اساتذہ کم۔ ریشنلائزیشن سے یہ فرق ختم کیا جا سکے گا۔
تعلیمی ماہرین اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ حکومت کو اساتذہ کی منتقلی کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر، نصاب، اور داخلہ مہمات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
ایک تعلیمی تجزیہ کار کے مطابق:
اگر کالجز کی انرولمنٹ بڑھانی ہے تو صرف پالیسی کافی نہیں، بلکہ طلبہ کے لیے جدید مضامین، ای-لرننگ، اور انڈسٹری سے منسلک پروگرام بھی متعارف کرانے ہوں گے۔”
دوسری جانب کچھ اساتذہ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بغیر مشاورت کے کی جانے والی منتقلیاں اساتذہ کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ لہٰذا، حکومت کو یہ عمل شفاف، مرحلہ وار اور مشاورت کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔
مجموعی طور پر، یہ اقدام پنجاب میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور کالجز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔ اگر اسے درست حکمتِ عملی کے ساتھ نافذ کیا گیا، تو یہ پالیسی آنے والے برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے منظرنامے کو بہتر بنا سکتی ہے۔





















