کراچی کی مصروف گلیوں میں ایک ایسی کانفرنس گونج رہی ہے جو پاکستان کی ذہنی صحت کی تلخ حقیقت کو عریان کر رہی ہے، جہاں ماہرین نے برملا اعلان کیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک پاکستانی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے، 10 فیصد افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں، اور گزشتہ سال تقریباً ایک ہزار افراد ذہنی دباؤ کی وجہ سے خودکشی کا شکار ہوئے۔ 26ویں بین الاقوامی کانفرنس ذہنی امراض میں پروفیسر محمد اقبال آفریدی کی سربراہی میں ہونے والی اس بحث نے خواتین میں ڈپریشن، نوجوانوں میں آئس جیسی نشہ آور چیزوں کی لت، اور قدرتی آفتوں، دہشت گردی، بے روزگاری کی وجہ سے بڑھتی نفسیاتی مشکلات کو اجاگر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 24 کروڑ آبادی کے لیے صرف 90 نفسیاتی ڈاکٹرز موجود ہیں، جو عالمی معیار سے 200 گنا کم ہے، اور 5 لاکھ 500 مریضوں پر ایک ڈاکٹر کی سہولت ناکافی ہے۔ نوجوان نسل کی مایوسی، گھریلو چپقلشوں کی وجہ سے خواتین کی بڑھتی اینزائٹی، اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے صرف 4 فیصد شجرکاری – یہ سب پاکستان کی ذہنی صحت کی بحران کی جڑیں ہیں، جو حکومت کو موثر حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر رہی ہے۔
یہ کانفرنس نہ صرف اعداد و شمار کی تلخی کو پیش کر رہی ہے بلکہ پاکستان کی ذہنی صحت کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے، جہاں بچوں اور نوجوانوں کی نفسیاتی حالت ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
کانفرنس کی بریفنگ
26ویں بین الاقوامی کانفرنس ذہنی امراض میں سائنٹیفک کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر محمد اقبال آفریدی نے کانفرنس میں پیش کی گئی بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں ہر تین افراد میں سے ایک (34 فیصد) نفسیاتی بیماری کا شکار ہے، جو دنیا بھر کے 20 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین میں ڈپریشن کے مسائل ایک وباء کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں گھریلو چپقلشوں اور سماجی مقام کی کمی کی وجہ سے شدید ڈپریشن اور اینزائٹی بڑھ رہی ہے۔ نوجوان نسل میں آئس جیسی نشہ آور چیزوں کی لت ذہنی امراض کو جنم دے رہی ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
پروفیسر آفریدی نے مزید کہا کہ زلزلوں، سیلابوں، دہشت گردی، اور معاشی ناہمواریوں کی وجہ سے عوام کے دماغوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو نفسیاتی مسائل کو بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان سائیکیٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد علی اخوندزادہ نے بتایا کہ ہر چار نوجوانوں میں سے ایک اور ہر پانچ بچوں میں سے ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ہے، جبکہ 25 لاکھ افراد (ایک فیصد آبادی) ذہنی امراض کا شکار ہیں، جو 25 لاکھ خاندانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک ہزار خودکشیوں کا اعلان اس بحران کی شدت کو واضح کرتا ہے، جو معاشی، سیاسی، سیلابی اور دیگر وجوہات سے جنم لے رہی ہے۔
ذہنی صحت کی ناکامی
کانفرنس میں ماہرین نے پاکستان کی ذہنی صحت کی بنیادی کمزوریوں کو برملا کیا، جہاں 24 کروڑ آبادی کے لیے صرف 90 نفسیاتی ڈاکٹرز موجود ہیں، جو عالمی ادارہ صحت کے معیار (10 ہزار پر ایک ڈاکٹر) سے ایک ہزار گنا کم ہے۔ پروفیسر اخوندزادہ نے کہا کہ 5 لاکھ 500 مریضوں پر ایک ڈاکٹر کی سہولت ناکافی ہے، جو نفسیاتی امراض پر کام کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ڈاکٹر افضال جاوید اور دیگر ماہرین نے معاشی ناہمواری، قدرتی آفتوں، بے روزگاری، سرحدی جنگی صورتحال، اور صرف 4 فیصد شجرکاری کی وجہ سے موسمی تبدیلیوں کی نشاندہی کی، جو نوجوان نسل کی مایوسی کا باعث بن رہی ہیں۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام صورتحال کا جائزہ لے کر موثر حکمت عملی اپنائی جائے، تاکہ نوجوان نسل ذہنی مسائل سے نکل سکے، جو پاکستان کی مستقبل کی امید ہے۔
عوامی رائے
اس کانفرنس کی رپورٹ نے سوشل میڈیا پر عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں لوگ نوجوانوں کی مایوسی اور خودکشیوں کی تعداد پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ فیس بک پر #MentalHealthPK ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "1000 خودکشی، 34 فیصد نفسیاتی مریض – حکومت جاگو، نوجوان بچاؤ!” دوسرے نے کہا: "خواتین میں ڈپریشن، آئس کی لت، نفسیاتی ڈاکٹرز کی کمی – فوری اقدامات چاہییں!”
عوام نے مدد کی مانگ کی "شجرکاری بڑھاؤ، ذہنی صحت کو ترجیح دو!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات تلخ ہیں، جو حکمت عملی کی امید رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ذہنی امراض کی بڑھتی لہر 34 فیصد نفسیاتی مریضوں، 10 فیصد منشیات کی لت، اور 1000 خودکشیوں کی تعداد سے ایک سنگین بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جو گھریلو چپقلشوں، آئس کی لت، قدرتی آفتوں، دہشت گردی، بے روزگاری، اور 4 فیصد شجرکاری کی کمی سے جنم لے رہی ہے۔ خواتین میں ڈپریشن کی وباء، نوجوانوں کی مایوسی، اور بچوں کی نفسیاتی حالت ہر چار نوجوانوں میں سے ایک اور ہر پانچ بچوں میں سے ایک کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ 25 لاکھ افراد اور 90 ڈاکٹرز کی کمی (5 لاکھ 500 مریضوں پر ایک) صحت کے نظام کی کمزوری کو اجاگر کرتی ہے۔ عوامی سطح پر، غم و غصہ غالب ہے جو فوری حکمت عملی اور مدد کی مانگ کرتا ہے، جو نوجوان نسل کی امید کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کانفرنس ذہنی صحت کی بحران کی تلخی کو کھولتی ہے، جو حکومت کو موثر پالیسیوں، نفسیاتی ڈاکٹرز کی تعداد بڑھانے، اور شجرکاری کی ترقی کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے، مگر یہ بحران پاکستان کی مستقبل کی نسل کی صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















