غزہ کی تباہ حال سرزمین پر امن کی ایک نئی کرن جاگ اٹھی ہے، جہاں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی دعوت پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار استنبول میں عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں شرکت کے لیے ایک روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ اجلاس غزہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور غزہ کی تعمیر نو جیسے کلیدی معاملات پر مرکوز ہے، جو فلسطینی عوام کی جدوجہد کو عالمی سطح پر آواز دے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان اس موقع پر زور دے گا کہ عالمی برادری مشترکہ کوششوں سے ایک آزاد، قابل بقا اور مسلسل ریاست فلسطین کا قیام یقینی بنائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور جو 1967 سے قبل کی سرحدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔
یہ اجلاس شرم الشیخ میں طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی تکمیل کی طرف ایک اہم قدم ہے، جہاں پاکستان سات عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر امن کوششوں کا حصہ رہا ہے۔ اسحاق ڈار کی شرکت پاکستان کی فلسطین کے لیے پختہ حمایت کی عکاسی کرتی ہے، جو انصاف، امن اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں سفارتی و انسانی اقدامات کی پاسداری کرتی ہے۔
استنبول اجلاس کی تیاریاں
ترک وزیر خارجہ کی دعوت پر اسحاق ڈار کا ایک روزہ دورہ استنبول غزہ امن کی بحالی کی طرف ایک نازک مگر امید افزا موڑ ہے، جہاں عرب و اسلامی وزرائے خارجہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی راہ ہموار کریں گے۔ دفتر خارجہ کا بیان واضح کرتا ہے کہ پاکستان مکمل انخلا، امداد کی فراہمی اور تعمیر نو پر زور دے گا، جو فلسطینی عوام کی تکالیف کو کم کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف آزاد فلسطین کی ریاست کا قیام ہے، جو القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر 1967 کی سرحدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی ہو، جو عرب امن منصوبے کی روح کے مطابق ہے۔
یہ اجلاس شرم الشیخ معاہدے کی تکمیل کی کوشش ہے، جہاں پاکستان کی شرکت فلسطین کی جدوجہد میں اس کی پختہ حمایت کو ظاہر کرتی ہے، جو سفارتی سطح پر انصاف کی آواز بلند کر رہی ہے۔
پاکستان کی فلسطین پالیسی
پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کی جدوجہد کا حامی رہا ہے، جو اس اجلاس میں بھی واضح ہوگی۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فلسطین کو انصاف، امن اور عزت کے ساتھ حق خودارادیت کی تکمیل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرتا رہے گا، جو اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ غزہ کی تباہی اور انسانی المیے نے پاکستان کو مزید فعال کر دیا ہے، جو امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کی حمایت کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار کی شرکت اس عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو عالمی برادری کو فلسطین کی آزاد ریاست کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یہ پالیسی پاکستان کی مسلم امہ کی یکجہتی کی علامت ہے، جو فلسطین کی جدوجہد کو اپنا درد سمجھتی ہے۔
عوامی رائے
اس اعلان نے سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں عوام اسحاق ڈار کی شرکت کی تعریف کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #PakistanForPalestine ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "اسحاق ڈار استنبول میں، غزہ امن کی امید – پاکستان فلسطین کا سہارا!” دوسرے نے کہا "جنگ بندی پر عمل، آزاد فلسطین کا مطالبہ – پاکستان کی آواز!”
عوام نے امداد کی مانگ کی "غزہ کی تعمیر نو، انسانی امداد – پاکستان کی جدوجہد!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات جوش سے بھرے ہیں، جو فلسطین کی حمایت اور امن کی توقع رکھتے ہیں۔
اسحاق ڈار کا استنبول اجلاس میں شرکت غزہ جنگ بندی کی تکمیل کی طرف ایک اہم سفارتی قدم ہے، جو پاکستان کی فلسطین پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جنگ بندی پر عمل، انخلا، امداد اور تعمیر نو پر زور آزاد فلسطین کی ریاست کا مطالبہ مضبوط کرتا ہے، جو القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں یہ اجلاس شرم الشیخ معاہدے کی روح کو زندہ کرتا ہے، جو پاکستان کی مسلم امہ کی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔ عوامی سطح پر، جوش غالب ہے جو امن کی امید رکھتا ہے، مگر غزہ کی تباہی کی شدت فوری عمل کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اجلاس فلسطین کی جدوجہد میں پاکستان کی فعال کردار کو اجاگر کرتا ہے، جو عالمی برادری کو ذمہ داری کی یاد دہانی کراتا ہے اور خطے میں استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















