پاکستان کی 15 فیصد آبادی مصنوعی ذہانت استعمال کر رہی ہے، پہلے نمبر پرکون؟

بنیادی وجوہات میں انٹرنیٹ کی کم رفتار اور محدود دستیابی، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، اور مقامی زبانوں میں اے آئی سافٹ ویئرز کی عدم موجودگی شامل ہیں

دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں قدم جما رہی ہے، جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے ’’اے آئی اکنامی انسٹیٹیوٹ‘‘ کی حالیہ رپورٹ ’’اے آئی ڈیفیوشن رپورٹ 2025‘‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، سنگاپور اور ناروے نے اس دوڑ میں نمایاں برتری حاصل کر لی ہے، جب کہ پاکستان بدقسمتی سے اب بھی اس شعبے میں بہت پیچھے ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی تیز رفتار پیش رفت

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں پچاس فیصد سے زائد افراد روزمرہ کے کاموں میں اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ان ممالک نے نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی مصنوعی ذہانت کو کامیابی سے شامل کر لیا ہے۔ چاہے وہ تعلیم ہو، صحت، کاروبار یا حکومتی انتظام، ہر شعبے میں اے آئی نے سہولت اور تیزی پیدا کی ہے۔
سنگاپور میں اے آئی کے ذریعے ٹریفک کنٹرول، تعلیمی منصوبہ بندی، اور عوامی خدمات کو مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی طرح، یو اے ای نے ’’نیشنل اے آئی اسٹریٹیجی 2031‘‘ کے تحت اپنی معیشت کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر مضبوط کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ابوظہبی اور دبئی میں متعدد سرکاری ادارے اے آئی سے چلنے والے سسٹمز کے ذریعے فیصلے کر رہے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہو رہی ہے۔

پاکستان کیوں پیچھے رہ گیا؟

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان میں آبادی کا صرف 15 فیصد حصہ اے آئی ٹولز استعمال کر رہا ہے، جو دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم شرح ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں انٹرنیٹ کی کم رفتار اور محدود دستیابی، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، اور مقامی زبانوں میں اے آئی سافٹ ویئرز کی عدم موجودگی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگرچہ نوجوان طبقہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن بیشتر افراد انگریزی یا مخصوص تکنیکی زبانوں سے نابلد ہیں، جس کی وجہ سے وہ اے آئی پلیٹ فارمز سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اگر اردو یا دیگر علاقائی زبانوں میں ان ٹولز کی دستیابی بڑھا دی جائے تو عوام کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، انٹرنیٹ کی سستی فراہمی، اور تعلیمی نصاب میں اے آئی کی شمولیت ضروری ہے۔ جب تک طلبہ اور نوجوان عملی طور پر اے آئی استعمال نہیں کریں گے، ملک اس شعبے میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔”
اسی طرح، کراچی یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کی پروفیسر ڈاکٹر سحر امتیاز کا کہنا ہے کہ:ترقی یافتہ ممالک نے اپنی قومی پالیسیوں میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت دی ہے، جبکہ پاکستان میں اب تک اس حوالے سے کوئی جامع منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل مہارتوں کو عام کرے اور مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری میں سرمایہ کاری کرے۔”

مسلم ممالک میں یو اے ای سب سے آگے

رپورٹ کے مطابق مسلم ممالک میں متحدہ عرب امارات سب سے آگے ہے، جب کہ سعودی عرب، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا نے بھی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔ ان ممالک میں اے آئی تعلیم، ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، اور حکومتی سطح پر پالیسی سازی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے "نیشنل اے آئی پروگرام” کے تحت جدید تحقیقی مراکز قائم کیے ہیں، جبکہ قطر نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے پائلٹ منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ ملائیشیا نے "اسمارٹ گورنمنٹ سسٹم” کے ذریعے عوامی خدمات کو ڈیجیٹل بنایا ہے، جس سے انتظامی شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔

دنیا کے بڑے ممالک میں اے آئی کی دوڑ

رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھی جدید اے آئی ماڈلز تیار کرنے والے سات بڑے ممالک میں شامل ہے۔ امریکا، چین، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا اس فہرست میں اسرائیل سے آگے ہیں۔ ان ممالک نے مصنوعی ذہانت کو اپنی معاشی ترقی کا بنیادی ستون بنا لیا ہے۔
امریکا میں گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی جیسے ادارے اے آئی کی بنیاد پر عالمی معیشت کو نئی سمت دے رہے ہیں، جبکہ چین میں "بیدو” اور "ہواوے” جیسے ادارے ملکی سطح پر خودکار نظاموں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا نے روبوٹکس اور خودکار گاڑیوں میں اے آئی کے استعمال سے صنعتی انقلاب کو تیز کیا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے سفارشات

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اے آئی کے استعمال میں بڑھتے فرق کو کم کرنا عالمی ضرورت بن چکا ہے۔ اس فرق کو مٹانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کو مل کر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، تعلیم میں جدت، اور ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی یقینی بنانی چاہیے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک نے ابھی سے اس شعبے پر توجہ نہ دی تو مستقبل میں ان کی معیشتیں عالمی مارکیٹ میں پیچھے رہ جائیں گی۔

مستقبل کا راستہ

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک واضح حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، اور نجی شعبہ مل کر اس سمت میں قدم بڑھائیں تو پاکستان نہ صرف اس دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے بلکہ اپنی نوجوان آبادی کو ایک نئی ٹیکنالوجی کے میدان میں قائدانہ مقام دلا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین