پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح خفیہ ایٹمی تجربات کر رہا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ

شمالی کوریا مسلسل تجربے کر رہا ہے، روس اور چین بھی تجربات کرتے ہیں، اور پاکستان بھی ایسا کر رہا ہے مگر وہ اس بارے میں عوام کو نہیں بتاتے

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح خفیہ طور پر ایٹمی تجربات کر رہا ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ امریکی ایٹمی ہتھیاروں کے تجرباتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ اس دعوے اور حکم نے بین الاقوامی سطح پر تشویش اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ شمالی کوریا مسلسل تجربے کر رہا ہے، روس اور چین بھی تجربات کرتے ہیں، اور پاکستان بھی ایسا کر رہا ہے مگر وہ اس بارے میں عوام کو نہیں بتاتے۔ انہوں نے کہا کہ "وہ زمین کے بہت نیچے تجربے کرتے ہیں جہاں کسی کو پتا نہیں چلتا کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے۔” اسی گفتگو کے پس منظر میں صدر نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکا واحد ایسا ملک رہے جو تجربات نہ کرے، اس لیے انھوں نے متعلقہ محکموں کو اس سلسلے میں اقدامات شروع کرنے کی ہدایت دی۔

اس اعلان کے فوری بعد امریکی انتظامیہ کے کچھ عہدیداروں نے اندازہ ظاہر کیا کہ صدر کا اشارہ ممکنہ طور پر "غیر نیوکلیئر” یا نان کریٹیکل سسٹم ٹیسٹس کی جانب تھا — جو روایتی طور پر ایٹمی دھماکے کے بغیر ہتھیاروں کے بعض حصوں یا نظاموں کی جانچ ہوتے ہیں — جبکہ توانائی سیکریٹری نے بعد ازاں واضح کیا کہ اس وقت کسی نیوکلیئر دھماکے کی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود دنیا بھر میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکا کے اعلانات عالمی اسلحہ دوڑ کو دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں۔

پاکستان کے بارے میں صدر ٹرمپ کے دعووں نے خاص طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا واقعی کوئی ملک خفیہ نیوکلیئر تجربات کر رہا ہے یا یہ مبالغہ آرائی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے ٹرمپ کے بیانات کو نمایاں کوریج دی ہے اور کئی اداروں نے کہا ہے کہ روس اور چین نے کافی عرصے سے نیوکلیئر دھماکے نہیں کیے، جبکہ شمالی کوریا نے کچھ عرصہ قبل تجربات کیے تھے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمینی سطح پر چھوٹی لرزشیں زیرِ زمین تجربات کی وجہ سے محسوس ہو سکتی ہیں، موجودہ دور میں کسی ملک کے خفیہ نیوکلیئر دھماکے کو مکمل طور پر چھپانا بہت دشوار ہے۔

ماہرین اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کا تجزیہ:

سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے بیانات نے بین الاقوامی سطح پر عدم استحکام کے امکانات بڑھا دئیے ہیں۔ کچھ ماہرین نے واضح کیا کہ حقیقی نیوکلیئر دھماکوں کی نشاندہی سیسمک ریکارڈز اور بین الاقوامی نگرانی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی ملک کے مستقل طور پر خفیہ تجربات کرنے کا دعویٰ بآسانی ثابت نہیں ہوتا۔ اس پس منظر میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے "نان کریٹیکل” تجربات کی باتیں ایک درمیانی راہ کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں — یعنی ہتھیاروں کے میکینکس اور نظاموں کی جانچ بغیر حقیقی نیوکلیئر دھماکے کے۔

پاکستانی ردعمل اور بین الاقوامی رخ:

ابھی تک سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی جو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوئی ہو۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس نے اس معاملے کو بطور صدر کے موقف اور امریکی داخلی دفاعی پالیسی کے ضمن میں رپورٹ کیا ہے، جبکہ علاقائی سیاست میں اس کے اثرات پر بھی گفتگو جاری ہے — خاص طور پر جنوبی ایشیا میں جہاں بھارت، پاکستان اور چین کے درمیان نیوکلیئر توازن حساس موضوع ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور پڑوسی ممالک میں ردِ عمل کو جنم دے سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ وہ دنیا کو کئی بار تباہ کر سکتے ہیں، مگر وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہتھیاروں کی "اعتماد سازی” کے لیے انہیں جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ واقعی کام کرتے ہیں یا نہیں۔ اس جواز کے خلاف ماہرین کا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ تقنیکی معیار و جانچ کی بنیاد پر امریکا کے ہتھیار پہلے ہی انتہائی قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں اور حقیقی نیوکلیئر تجربات عالمی معاہدات اور ماحولیاتی اثرات کے سنگین نتائج لا سکتے ہیں۔ اسی بنا پر بعض امریکی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا دوبارہ حقیقی دھماکوں کی جانب گیا تو یہ عالمی عدم پائداری کا باعث بن سکتا ہے۔

ممکنہ بین الاقوامی نتائج:

اگرچہ صدر کے بیانات فی الوقت بیشتر معاملات میں سیاسی اور بیانیہ نوعیت کے ہیں، مگر ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں — خصوصاً جب بڑے طاقتور ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ (non-proliferation) کے معاہدات اور نگرانی کے نظام کی مضبوطی اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے تاکہ ایک نئی اسلحہ دوڑ سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین